Bachpan Guzra Aaya Larakpan - Qist 2

بچپن گزرا آیا لڑکپن ۔ قسط نمبر2

عارف چشتی اتوار جولائی

Bachpan Guzra Aaya Larakpan - Qist 2
دینیات کے استاد مولوی منظور صاحب جب بھی سبق یاد نہ ھوتا یا غلطی ھوتی تھی، تو الٹے ہاتھ کی انگلیوں پر چھڑی مارتے تھے. بعد میں انکو سکول کا ایڈمنسٹریٹر بنا دیا گیا تھا. 1961-1962 میں مارشل لاء حکومت نے نویں اور دسویں کلاسوں کا سیکنڈری بورڈ کا امتحان علیٰحدہ کر دیا تھا. پہلے نویں جماعت کا امتحان سکول میں ھی ھوتا تھا، پھر میٹرک کا امتحان سیکنڈری بورڈ میں اکٹھا ھی ھوتا تھا.

میں نے HUMANITY GROUP کا ھی انتخاب کیا، کیونکہ ایک تو مالی حالت ٹھیک نہ تھی اور پھر میتھ اور فارسی میں میں نے میٹرک تک کسی کو اپنے سے آگے آنے ھی نہ دیا تھا. فارسی کے استاد خوشی محمد صاحب تھے، بہت ھی عمدہ طریقے سے پڑھاتے تھے غلطی پر بانس کی چھڑی سے مار پڑتی تھی.

(جاری ہے)

سکول کے اخراجات پورا کرنے کیلئے ایک سال تک عطا رنگ ساز اور بعد میں عظیم اللہ پنساری کی دوکانوں کے سامنے، ھم دو بھائیوں نے کھلونے، گولیاں اور ٹافیاں بھی بیچی تھیں.

اب ڈرائینگ روم میں تیسری، چوتھی اور پانچویں کلاس کے محلے کے بچوں کو ٹیوشن بھی پڑھانا شروع کر دی تھی. ھر طرف سے دباؤ ھی دباؤ تھا. لیکن اعلیٰ تعلیم کا حصول پہلی ترجیح تھی. سودا سلف اب سائیکل پر ھی لے آتے تھے. اب کریانہ کا سامان خوشیے(خوشی محمد) یا پھر رفعت کی دوکان سے تھوک ریٹس پر لاتے تھے.ٹرانسپورٹ کا نظام اومنی بس کے ذمہ تھا. سب سے بڑے روٹس بس نمبر 1 اور 2 کے تھے.

وہ چلتی آر اے بازار سے ھی تھیں اور کرشن نگر آخری سٹاپ تھا. بس نمبر 2، صدر بازار، گڑھی شاھو، سٹیشن، شملہ پہاڑی سے چیرنگ کراس مال روڈ، ریگل چوک، جی پی او کے روٹ پر چلتی تھی. بس نمبر 1 آر اے بازار سے فورٹرس سٹیڈیم مال روڈ، چیرنگ کراس، ریگل چوک کے روٹ سے کرشن نگر پہنچتی تھی. دوسرا بڑا روٹ بس نمبر 9 کا تھا وہ صدر بازار سے سٹیشن، یکی گیٹ، اکبری منڈی، موچی گیٹ، لوھاری گیٹ، بھاٹی گیٹ، داتا دربار، میر مکی، شاھی قلعہ، بڈھا دریا، قصور پورہ سے ھوتے ھوئے مقبرہ جہانگیر شاھدرہ پہنچتی تھی.

کم از کم ڈیڑھ سے دو گھنٹے صبر سے سفر کرنا پڑتا تھا. روٹ نمبر 8 کی بس بھی صدر بازار سے سٹیشن، یکی گیٹ، مصری شاہ، وسن پورہ، تاج پورہ سے شاد باغ گول چکر پہنچتی تھی. ان روٹوں کے ذریعے تمام عزیز رشتہ داروں سے رابطہ رھتا تھا. بس مال روڈ دوائی خانے سے چیرنگ کراس تک ھمارے علاقے کے لوگوں کے لئے کوئی ٹرانسپورٹ نہ تھی. بہت خواری ھوتی تھی. اسکے علاوہ ھڈیارہ بس سروس پرائیویٹ روٹ پر سٹیشن سے براستہ صدر بازار لاہور کینٹ، برکی، ھڈیارہ تک بسیں چلتی تھیں.

تانگے تو عام چلتے تھے، لیکن کرایہ چند پیسے زیادہ ھوتا تھا اور وقت بھی کافی ضائع ھوتا تھا. صدر سے مغلپورہ سوائے تانگوں کے کوئی اور کوئی ٹرانسپورٹ نہ تھی. ویسپا رکشوں اور کالی پیلی ٹیکسیاں بھی چلنا شروع ھوگئی تھیں. ٹیکسی کا کم سے کم کرایہ 50 پیسے تھا، جو میٹر پر ظاھر ھو جاتا تھا. ویسے بارگینگ ھی کرنے میں عافیت تھی، کیونکہ میٹروں میں عموماً ھیرا پھیری ھوتی تھی.
نویں کلاس کے معاشرتی علوم کے ٹیچر فضل الرحمان صاحب سے معلوم ھوا تھا کہ صدر ایوب خان نے امیر محمد خان آف کالا باغ کو مغربی پاکستان کا گورنر اور جنرل اعظم خان کو مشرقی پاکستان کا گورنر مقرر کر دیا تھا.

محمد علی بوگرہ صاحب ، شعیب احمد صاحب ، ظفر صاحب اور ذوالفقار علی بھٹو صاحب اور پھر بعد میں عقیلی صاحب انکی کیبنٹ کے چیدہ چیدہ ورزاء میں شامل تھے.
پہلے پاکستان انگریزوں کی کالونی تھا، اب امریکہ آقا بن بیٹھا تھا. سیٹو، سینٹو کے امریکی مفادات کے معاہدات میں پاکستان جکڑ گیا تھا. اصلیت روس کو زیر کرنا تھا جہاں کمیونزم پھل پھول رھا تھا.

خیر اسوقت سب کچھ سنتے تھے، لیکن استاد سے سوال کرنے کی جرآت ھی نہ ھوتی تھی. انکا کہنا تھا کہ پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان صاحب کو پہلے روس کا دورہ کرنا چاھئے تھا، پھر چاھے امریکہ چلے جاتے کیونکہ وہ اس براعظم کی ایک ابھرتی طاقت تھی. ایوب خان کے دور میں دوسرا پنج سالہ منصوبہ بن چکا تھا اور ڈیمز بنانے پر توجہ مرکوز تھی.
کچھ کلاس فیلوز نے سائنس گروپ میں داخلہ لیا تھا اب پیڑیڈز بھی مختلف کلاسوں میں ھوتے تھے البتہ مشترک مضامین میں ملاقات ھو جاتی تھی.

فارسی کے درسی گیس پیپرز اصغر سے لیکر ایک رم کا رجسٹر لیکر دن رات ایک کر کے رات کو تحریر کرتا رھتا تھا. ڈرائینگ برکت صاحب سکھایا کرتے تھے. انکی انگلیوں میں جادو تھا لکیروں سے ایسی ایسی خوبصورت اشیاء بناتے تھے کہ عقل دنگ رہ جاتی تھی. انگلش کے اب استاد جناب الیاس صدیقی صاحب تھے. انکے لہجے میں بہت اثر تھا اور تھے بھی ذھین کبھی بھی کسی غلطی پر پٹائی نہیں کرتے تھے، بس نصیحتوں پر اکتفا کرتے تھے.

مزے کی بات سکول کی چھٹی اور پیڑیڈز کی گھنٹی اردلی خان صاحب بجایا کرتے تھے، وہ مرگی کے مریض تھے. کبھی کبھی انکو عین گھنٹی بجانے کے دوران دورہ پڑ جاتا تھا، تو غلطی سے چھٹی کی گھنٹی بجا دیتے تھے اور تمام طلبہ کلاسوں سے بھاگ کر ھلا گلا کرتے خوشی سے مین گیٹ کی طرف دوڑتے تھے کچھ نکل جاتے تھے اور اکثریت کو بینڈ ماسٹر شاہ صاحب ڈنڈے گما کر کلاسوں میں بھیج دیتے تھے.

بعض اوقات کسی استاد کے اقربہ کی فوتگی ھو جاتی تب بھی سکول میں چھٹی کر دی جاتی تھی.
کھیلوں میں ھمارے سکول نے کرکٹ اور والی بال میں مسلم سکول، عارف ھائی سکول دھرمپورہ اور اقبال سکول گڑھی شاھو کو ھرا کر کپ جیت لئے تھے اور کافی روز جشن کا سماں رھا. میں ھلکا جسم اور ٹھگنا قد ھونے کی وجہ سے صرف ریس اور بیڈمنٹن میں ھی حصہ لیتا تھا.محلے کے دوست نواز، اسلم چوھدری، پرویز چنگیزی اور ناصر مجھ سے ایک سال سینئر تھے.

وہ بھی اسلامیہ سکول میں ھی پڑھتے تھے.منجھلی پھوپھی کی شادی پھوپھا منیر صاحب سے جو قلعہ لچھمن سنگھ بڈھا دریا رھتے تھے ھو گئی اور چھوٹی پھوپھی بیاہ کر شاد باغ چلی گئی. انکے میاں فاروق احمد بھٹی صاحب تھے، جو صوفی حمید صاحب کے لے پالک تھے، جو انکو والد سے بھی زیادہ عزیز تھے، پھوپھا فاروق احمد بھٹی صاحب کا پورا خاندان ھجرت کے وقت شہید ھوگیا تھا تھا.

سننے آیا تھا کہ 52 افراد شہید ھو گئے تھے. ننھیال کے رشتہ داروں میں سب سے زیادہ ماموں اختر صاحب میں خلوص تھا. وہ جب بھی لائلپور سے آتے تو ھمارے ھاں ھی آتے تھے. انکے دو بڑے بھائی ماموں ظہور صاحب اور ماموں طفیل بھی کبھی کبھی لاھور آتے، تو ملنے آ جایا کرتے تھے. تھے تو وہ والدہ صاحبہ کے خالہ زاد کزن لیکن محبت میں سب سے بازی لے گئے.

ماموں اختر کی پہلی بیوی سے بڑی بیٹی باجی چیمی (شمیم) جو لاھور میں عبدالرشید صاحب سے بیاھی گئی تھی اور کرشن نگر رھتی تھی، جب بھی چھٹیاں ھوتی تھیں آجاتی بہت فراغ دل اور ھنس مکھ طبیعت کی مالک تھی. لیکن انکو سگریٹ نوشی کی عادت تھی. انکی ایک اور چھوٹی بہن بھی لاھور میں بیاھی ھوئی تھی، لیکن وہ بالکل ھی ملنسار نہ تھی. ھمارے لیے ماموں اختر سگوں سے لاکھ درجہ بہتر تھے.

خالہ کنیز سے بہت اچھے تعلقات تھے. تھی وہ بھی والدہ صاحبہ کی پھوپھی زار کزن لیکن بالکل ڈیل ڈول اور پیار محبت میں والدہ صاحبہ کی کاپی تھیں، لمبی عمر گزر گئی ھم انکو سگی خالہ ھی سمجھتے رھے. والدہ صاحبہ اور دادی اماں کے ساتھ کریم پارک قلعہ گجر سنگھ انکی اس وقت رھائش ھوتی تھی. بے جی جو انکی ساس تھیں، ماشاءاللہ رعب دبدبے کی مالک تھیں اور محبت کی پیکر تھیں.

خالو قمر صاحب فرشتہ سیرت انسان تھے، اب ایسے لوگ کہاں. خالو قمر صاحب کے چھوٹے بھائی شہاب صاحب جو بہرے تھے وہ دھرمپورہ رھتے تھے. وہ بھی پیدائشی فرشتہ سیرت انسان تھے. دادی اماں کے ساتھ انکے ھاں بھی کبھی کبھی چکر لگ جاتا تھا. والدہ صاحبہ کی گہری سہیلیاں پھاماں، مجیداں، جمیلہ، رشیدہ اور خورشید تھیں وہ سوتر منڈی اندرون لاھوری گیٹ رھتی تھیں.

انکی آمد سے گھر میں زعفران بکھر جاتا تھا. وہ ٹھٹھا مذاق کرتی تھیں کے، سب ھنس کر لوٹ پوٹ ھو جاتے تھے. انکے بچوں عبد الستار، عبدالغفار، جاوید اور پرویز سے خوب دوستی تھی اور پھر تعلیم کے میدان میں مقابلہ بھی جاری رھتا تھا. ایک گھرانے کے حاکم اعلیٰ حاجی صاحب تھے. دوسرے گھرانے کے انکے چھوٹے بھائی بابا عبداللہ اتنی محبت کرتے تھے کہ الفاظ نہیں کہ بیان کر سکوں.

وہ عموماً صدر بازار ملنے بھی آتے تھے. انکے دو بیٹے تھے.انکل اسحٰق صاحب اور انکل اسماعیل صاحب. اسماعیل صاحب کبھی کبھی والدہ صاحبہ کو ملنے بھی آتے تھے. بڑی جولی طبیعت کے مالک تھے، ھم سے بلا شبہ بہت پیار کرتے تھے. والدہ صاحبہ کی پھوپھی زاد کزن خالہ چھیدی (رشیدہ) سیدمٹھا اندرون لاھوری گیٹ رھتی تھیں. انکا ایک بیٹا رزاق تھا، جس سے کافی دوستی رھی.

میرے خیال میں سب سے زیادہ انکا ھمارے ھاں انا جانا تھا. خالہ چھیدی کی والدہ جو والدہ صاحبہ کی بڑی پھوپھی تھیں اپنے اکلوتے بیٹے حاجی گلزار کے ساتھ کوئٹہ میں مقیم تھیں. والدہ صاحبہ کی چھوٹی پھوپھی آمنہ سیالکوٹ میں مشترکہ خاندانی گھر میں رھتی تھیں انکے بڑے بیٹے کا نام نثار صاحب تھا جو اکثر لاھور آتے رھتے تھے، دوسرے کا نام نثار صاحب ، تیسرے کا نام گلزار صاحب اور سب سے چھوٹے کا نام افتخار صاحب تھا جو میرا ھمعصر تھا.

والدہ صاحبہ کے بڑے سگے بھائی ماموں احمد صاحب اس وقت منیلا فلپائن میں پاکستانی سفارت خانے میں آفیسر تھے، اس سے پہلے کویت میں تھے. انتہائی شریف، کم گو، منکسر المزاج فرشتہ سیرت انسان تھے. چھوٹے ماموں یوسف صاحب منسٹری آف ایجوکیشن میں سیکشن آفیسر تھے اور دارالخلافہ کراچی سے اسلام آباد منتقل ھونے کی وجہ سے وھاں شفٹ ھو گئے تھے.

ھمیشہ گفتگو میں انکی بات دھلی کے واقعات پر ختم ھوتی تھی. تھوڑی الگ ھی طبیعت کے مالک تھے. دلی محبت سے دور تھے. انکی شادی والدہ کی چچی زاد کزن بیدی (زبیدہ) صاحبہ سے ھوئی تھی اور ماموں احمد صاحب کی شادی بڑی پھوپھی کی کزن نزیران صاحبہ سے ھوئی تھی.
نویں کلاس کے سیکنڈری بورڈ کے امتحانات کا سنٹر عارف ھائی سکول دھرمپورہ بنا تھا. ماشاءاللہ فرسٹ کلاس میں امتحان پاس کر لیا اور 1961، 1962 میں میٹرک میں داخلہ ھو گیا. فیس معافی پر مولوی منظور صاحب نے پھڈا کھڑا کر دیا کہ دو بھائیوں کے داخلے پر صرف ایک کی فیس معاف ھو سکتی ھے. انکی سختگیر پالیسی کی وجہ سے والد صاحب خاموش ھو گئے اور صرف میری ھی فیس معاف ھوسکی.جاری ہے.
تاریخ اشاعت: 2020-07-19

Your Thoughts and Comments