Barf Ka Dabba

برف کا ڈبہ

ردا بشیر جمعرات فروری

Barf Ka Dabba
آج گھر میں چہل پہل تھی۔ہری، نیلی، پیلی جھنڈیوں سے گھر کا صحن مزین تھا۔صغری بہن کے ذہن کے مطابق کی گئی آری ترچھی ڈیزائننگ صاف نظر آرہی تھی۔ جس کی بے ترتیب اور ٹوٹی پھوٹی لڑیاں ادب سے جھک کر فرشی سلام پیش کر رہی تھی۔آج لڈن میاں کا سی ایس ایس کا امتحان پاس کرنے اور نوکری ملنے پر دیا گیا عصرانہ تھا۔ گھر بھی کچھا کچھ مہمانوں سے بھرا پڑا تھا۔

اماں جی کی پرانی سہیلیاں بھی موجود تھی جو اب لڈن میاں کی تعریفوں کے پل باندھتی نظر آ رہی تھی۔ایک نے کہا بہن اب سب مکمل ہے لڈن کی شادی کرو،بہو بیگم گھر آے اور گھر کا سونا آنگن مہکے۔ اماں جی فرط جذبات سے گویا ہوئیں " کیوں نہیں بہن میں اپنے چاند کے لیے پریوں سی دلہن لاؤں گی جس کے نور سے سارے گھر کا آنگن منور ہو گا۔

(جاری ہے)

شور سے بھرا کمرہ لڈن کے لئے "چاند"سا لفظ سن کر سکتے میں آگیا۔

اماں جی لوگوں کا ردعمل دیکھ کر کھسیانی سی ہوگئی۔جاتے ہوئے سب مہمانوں سے التجا کی گئی کہ لڈن کے لیے رشتہ ڈھونڈ یں اور آخر کار دیا لیکر تلاش کرنے سے دلہن مل گئی۔ 5.2 فٹ کی لڈن کے لیے 4.9 فٹ کی دلہن ملی۔ اور دھوم دھڑکے سے دلہن پیا گھر سدھار گئیں۔۔۔لڈن چونکہ کھانے کا دلدادہ تھا تو جگہ جگہ سے کھانے پینے کی چیزیں اٹھا لیتا۔کھاتا اور کھلاتا۔

بہو بیگم بھی ہاتھ کی صاف اور سلیقہ شعار تھی اور آتے ہی گھر کی سبھی ذمہ داریاں سنبھال لی تھیں۔ سبھی اس کے رویے سے بہت خوش تھے۔یہ کیا آج لڈن میاں کیا اٹھا لائے؟یہ برف جمانے والا ڈبہ تھا... اتنا بڑا ڈبہ کسی نے کبھی نہیں دیکھا تھا .لوگ دور دور سے دیکھنے آ رہے تھے جسے "ریفریجریٹر" کہا جاتا ہے۔اب خود بھی برف کے گولے بنا کر کھاتے اور دوسروں کو بھی کھلاتے۔

آج لڈن میاں کی شادی کو پورا ایک سال ہوگیا گھر میں بہت بڑی دعوت تھی بہت سے لوگ آئے ہوئے تھے۔ سخت گرمی تھی۔ دو بجے کے قریب رات سبھی مہمان چلے گئے۔ لڈن میاں اور بہو بیگم کمرے میں لوٹے اور لڈن میاں نے گولہ کھانے کی فرمائش کی۔ فرمابردار بیگم گولہ بنانے کے لئے باورچی خانے چلی گئی۔لڈن میاں کافی تھک چکے تھے۔ کب سو گئے احساس نہ ہوا ۔صبح آنکھ کھلی تو بیگم کو پاس نہ پایا اٹھ کر سارا گھر چھان مارا لیکن گدھے کے سر سے سینگ کی طرح بیگم غائب تھی۔

گلی محلوں میں تصویر دیکھا کر ڈھونڈا لیکن کہیں پتا نہ چلا ۔اماں جی نے کہا" بہو کے گھر سے پتا کرو کیا پتا وہاں گئی ہو" وہ ایسی تو نہیں کہ بتا کر نہ جائے لیکن پھر بھی پتا کرو اباجی گویا ہوئے۔۔۔۔۔ لیکن وہاں بھی موجود نہ تھی ۔لڈن میاں بیمار پڑ گئے
بیوی کے غم سے نڈھال ہو چکے تھے۔ بہو بیگم کے بھائی اور ماں باپ بھی آگئے اور پریشان تھے۔

لڈن میاں بخار سے تپ رہے تھے۔ڈاکٹر نے کہا برف سے کپڑا لگا کر ماتھے پر رکھو۔ لڈن میاں کا سالا فریج سے برف نکالنے کو آگے بڑھا۔باورچی خانے میں موجود فریج کو زور لگا کر کھولنے کی کوشش کی لیکن دروازہ سکتی سے مقفل تھا۔ ایک مکینک کو بلایا گیا ۔ اس نے اپنے آلات کی مدد سے دروازہ کھولا۔فریزر کے اندر کا منظر دیکھ کر سب کے سب بوکھلا گئے ۔ہوا کچھ یوں تھا کہ جب لڈن نے اپنی پیاری بیوی کو اپنے لیے گولا بنانے کے لئے باورچی خانے میں بھیجا تو گھر میں رش ہونے کی باعث فریج کے پاس رکھی چوکی کھسک کر فریج کے نیچے چلی گئی اور دلہن بیگم اپنی چھوٹے چھوٹے پاوں ایریوں کے بل برف نکالنے کی کوشش کرنے میں کے اندر لڑھک گئی اور اوپر سے ڈھکنا بند ہوگیا۔

وہ بھت چلائی لیکن کوئی مدد کو نہ آیا۔اور وہ اللہ کو پیاری ہو گئی۔اس دن کے بعد سے محبت کی یہ داستاں تو ادھوری رہ گئی لیکن اس برف کے ڈبے کو دور کہیں پھینک دیا گیا۔لڈن میاں گلیوں کوچوں میں چیختے اور دیوانہ وار گھومتے اور گولے گنڈے والوں کو پتھر مارتے نظر آتے ہیں۔اماں ابا پرانے محلے شفٹ ہو گئے۔اور کہانی انجام کو پہنچ کر بھی ادھوری رہی۔
تاریخ اشاعت: 2021-02-04

Your Thoughts and Comments