Haram Khoor

حرام خور

جبران ظفر جمعہ اکتوبر

Haram Khoor
پانی اور انسا ن۔۔۔شاید ان کا وہی رشتہ ہے جو روح اور جان کا ہے۔گنگا کنارے کولکتہ آباد ہے،جمنا کنارے، دہلی اور راوی کنارے،لاہور کا خوبصور ت شہر بستا ہے۔غرض جہاں پانی ہے ،وہاں زندگی ہے۔
میں نے اپنے بڑوں سے سنا ہے کہ پنجا ب میں ایک پہاڑی سلسلے کے قریب ایک گاؤں آباد تھا۔آب پورہ۔یہ محض اساطیری واقعہ نہیں بلکہ ایک حقیقی قصہ ہے۔

اس گاؤں کی کوئی خا ص سو غات نہ تھی۔بس اس گاؤں کی پہچان وہا ں کی ایک میٹھے پانی کی جھیل تھی۔گاؤں کی کل آبادی ایک صد کا ہندسہ بھی نہ چھوتی تھی مگر لوگ انتہائی قا نع تھے۔
علاقے میں بڑھئی،کمہار،لوہار اور ایک موچی تھا ۔ان کاریگروں سے گا ہے بگاہے لوگوں کو کام پڑتا رہتاتھا۔ایک سکول ماسٹر تھا۔جو بچوں کو موٹا موٹا حساب کتاب اور اخبار پڑھنا سکھا دیتاتھا۔

(جاری ہے)

گاؤ ں کانا م بھی ماسٹر نے رکھا تھا ۔ایک چھوٹی سی مسجد تھی ۔ایک ڈسپنسر نے ایک چھوٹا سا کلینک بھی کھول رکھا تھا ۔گاؤ ں والوں کے لیے وہ ’ڈاکٹر صاحب‘ہی تھا۔شام کے وقت سب اہلِ علاقہ ایک برگد کے درخت کے نیچے جمع ہو جاتے اور اہم مسائل پر بات چیت ہو تی۔گاؤں کا میراثی بھی شاملِ گفتگو ہو جاتا۔وہ اپنے آپ کو ارسطو سے کم نہ سمجھتا تھا۔یہی روز کا معمول تھا۔


ایک روز برخلافِ معمول،جھیل کے کنارے کچھ سوٹ بوٹ میں ملبوس ’بابو‘،بڑے بڑے کا غذ لیے باتیں کر رہے تھے۔میراثی کا وہا ں سے گزر ہوا۔دریا فت کرنے پر پتہ لگا کہ وہ لوگ کھا د کی فیکٹری کا نقشہ لیے کھڑے ہیں۔میراثی کے چہرے پر پریشانی کے آثار نمایاں ہونے لگے۔ایک لحیم شحیم سوٹ والے نے جیب سے ہزار کا نوٹ نکال کر پریشان حال آدمی کو پکڑا دیا۔

میراثی خوشی سے پھولا نہ سمایا اور دعائیں دیتا رخصت ہو گیا۔واپسی پر وہ سستانے کے لیے کلینک پر رکا۔اس نے ڈاکٹر کو فیکٹری کی خبر سنا ئی۔ڈاکٹر صاحب نے خوشی کا اظہار کیا ۔اب میراثی نے مٹھائی کا مطا لبہ کیا ۔ڈاکٹر نے کہا”مٹھائی سے بھی اچھا کام کرتے ہیں۔تمھارا خون کا مفت ٹسٹ کرتے ہیں۔خون کا گرو پ ساری عمر کام آتا ۔“کچھ ہی دیر میں میراثی روئی میں انگلی دبائے ،منہ بنائے ،ہسپتال سے رخصت ہو گیا۔


اس شام جب لوگ برگد تلے جمع ہوئے تو میراثی نے سب کو متوجہ کر کے کہنا شروع کیا ”ایک انتہائی سخی اور خرد مند سیٹھ صاحب گاؤں میں فیکٹری لگا رہے ہیں۔اب کھاد بھی اپنے گاؤ ں کی ہو گی اور روزگا ر کے لیے بھی با ہر نہیں جانا پڑے گا ۔“لوگوں کے تاثرات کچھ ملے جلے تھے۔لیکن میراثی نے ’خردمند سیٹھ ‘کی شان میں ایسے زمین و آ سمان کے قلا بے ملائے کہ لوگ بھی سیٹھ کے گن گانے لگے۔


اس بات کو ایک ماہ گزر گیا ۔اب چر چا ہونے لگاکہ فیکٹری کی بنیا د رکھی جائے گی۔اس موقع پر پورے گاؤ ں کو مدعو کیا گیا ۔مسجد کے اما م نے دعا کرائی۔لوگوں میں نمکین او ر میٹھے چا ولوں کی دیگیں تقسیم کی گئیں ۔موچی نے سیٹھ کو چپلوں کا بہترین جوڑا تحفے میں دیا۔میراثی نے سیٹھ کے ہاتھ چومے تو سیٹھ نے بڑے کرو فر کے ساتھ اسے ہزار روپے سے نوازا۔

میراثی سیٹھ کی سخاوت کا علم بلند کرتے اپنی راہ ہو لیا۔
فیکٹری بنے چھے ماہ ہو گئے۔گاؤں کے کچھ فارغ نوجوان اب فیکٹری میں ملازم ہو گئے تھے ۔ماسٹر جی ڈا کٹر کے کلینک پر بلڈ پریشر کی دوالینے آئے۔ان کے درمیا ن گفتگو ہو رہی تھی۔ماسٹر صاحب نے پوچھا ”ڈاکٹر صاحب !گاؤں میں بخار کچھ زیا دہ نہیں پھیل گیا؟“جواب ملا”لوگ صاف پانی کا استعمال نہیں کرتے۔

“ماسٹر صاحب نے جھٹ سے کہا ”جھیل کا پانی تو با لکل صاف ہے“۔
ڈاکٹر کچھ وقفے کے بعد بولا ”صاف تھا۔اب نہیں ہے“۔ماسٹر صاحب استفہامیہ نظروں سے ڈاکٹر کو تکتے رہے۔”فیکٹری کے فضلات سے جھیل کا پانی آلودہ ہو گیا ہے۔اسی سے ٹائفائیڈ بخا ر پھیل رہا ہے۔یہ مہلک ثابت ہو سکتا ہے“۔ماسٹر کو جواب مل گیا۔ماسٹر جی نے اس کا حل دریافت کیا۔

ڈاکٹر گویا ہوا”منرل واٹر کا استعمال۔پانی ابال کر پینے سے بھی کچھ بچت ہو سکتی ہے۔مجھے علم ہے کہ پانی کے دو گلا سو ں کے لیے گاؤں کا کوئی شخص تیس چالیس روپے خرچ نہیں کر سکتا۔ایک مقامی ادارہ یہی پانی آدھی قیمت پر بیچنے کو آمادہ ہے۔“نحیف و نزار ماسٹر اٹھا،ڈاکٹر کا ماتھا چوما اور کلینک سے نکل گیا۔
اسی روز میراثی کا شہر جانا ہوا۔

وہ سیٹھ صاحب کی کوٹھی پر پہنچا۔چار کنا ل کی کوٹھی کے باہرٹھنڈے پانی کا کولرنصب تھا۔پانی سے سیر ہونے کے بعد میراثی کی نظرچوکیدار کی چپلوں پر پڑی۔وہ تو مو چی کی بنائی ہوئی تھیں۔میراثی نے سوچا کے سیٹھ تو ملازم اور نوکر میں فرق ہی نہیں رکھتا ۔جو خود پہنتا ہے وہی انھیں پہناتا ہے۔میراثی نے چوکیدار سے سیٹھ کے بارے میں پوچھا۔تھوڑی دیر میں اس کو اندر بلا لیا گیا۔

سیٹھ صاحب کرسی پر بیٹھے بڑے طمطراق سے کچھ اشخاص سے گفتگو کر رہے تھے۔انہوں نے ایک اچٹتی نگاہ میراثی پر ڈالی اوربا د لِ نخواستہ ہزار کا نوٹ چوکیدار کو پکڑا دیا ۔میراثی کی خوشی نا قابلِ بیان تھی۔
شام کے وقت لوگ بر گد تلے بیٹھے بخار کے بڑھتے واقعا ت کی باتیں کر رہے تھے۔ڈاکٹر وہا ں موجود نہ تھا۔میراثی نے اپنی روداد شروع کی۔”بھئی سیٹھ صاحب جیسا خدا ترس آدمی میں نے آج تک نہیں دیکھا۔

گھر کے باہر ٹھنڈے میٹھے پانی کا کولر لگوا رکھا ہے۔جس کا دل کرے جتنا مرضی پیے۔برابری بھی کمال ہے۔مالک نوکر کا فرق پتہ نہیں لگتا۔اپنے علاقے میں الیکشن لڑ رہے ہیں۔اللہ کامیاب کرے۔“آس پاس سے آمین کی صدائیں بلند ہوئیں۔
ماسٹر صاحب درمیا ن میں بول پڑے”لیکن بیٹا فیکٹری کی وجہ سے بخا ر بھی تو پھیلا ہے۔سیٹھ صاحب سے بات کرنی چاہیے کہ کیمیکلز کی وجہ سے جھیل آلو دہ ہو گئی ہے۔

“”ماسٹر تمہیں سیٹھ کی نیکیا ں کیوں کھٹک رہی ہیں؟تم نے خود آج تک کیا کیا ہے؟“میراثی جیسے اس حملے کے لیے تیار تھا۔”یہ تو اس ڈاکٹر کی زبا ن بولے گا نا !اس کو دوا جو چاہیے اس سے۔“لوہارنے ماسٹر کو طعنہ دیا۔کمہار بولا”ڈاکٹر تو پانی بھی خرید کر پینے کا کہتا ہے۔“اس بات نے جلتی پر تیل کا کا م کیا اور ماسٹر کے لاکھ منع کرنے کے باوجود میراثی نے ایک ہجوم کے ساتھ کلینک میں جا کر اکھا ڑ پچھاڑ کی۔


صبح ہوئی۔ڈاکٹر پانی کی بو تلوں کے دو کا رٹن اٹھائے کلینک کی طرف رواں دواں تھا۔وہ کلینک پہنچا ۔عمارت کی ابتر حالت دیکھ کر وہ آبدیدہ ہو گیا ۔اس نے کارٹن وہیں رکھے۔ضروری سامان ساتھ لیا۔لوگوں کی نفرت بھری نگاہیں اس کو رخصت کر رہی تھیں۔پھر وہ نگاہوں سے اوجھل ہو گیا۔
ادھر میراثی کی بیگم نے اسے جگایاکہ بچے کو سخت بخار ہے۔میراثی نے بچے کو چھوا تو بچہ تپ رہا تھا۔میراثی بچے کو اٹھا کر کلینک کی طرف ڈگ بھرنے لگا۔بچہ بات کا جواب نہیں دے رہا تھا ۔کلینک پہنچ کر اس نے لوگوں سے ڈاکٹر کا پوچھا۔ایک راہ چلتا بولا ”وہ۔۔۔وہ حرام خور تو چلا گیا۔“بچے کا جسم اب ٹھنڈا پڑ چکا تھا۔
تاریخ اشاعت: 2020-10-16

Your Thoughts and Comments