Ilaam K Faroogh Main Librariyon Ka Kirdar

علم کے فروغ میں لائبریریوں کا کردار

اللہ ڈتہ انجم پیر اپریل

Ilaam K Faroogh Main Librariyon Ka Kirdar
انسانی تاریخ کی سب سے پہلی تعلیمی سرگرمی یہ تھی کہ ربِّ کائنات خود پہلے انسان کو تعلیم دے رہا تھا اور سبق کا نام تھا”اسماء“ یعنی ناموں کا علم۔ یہ اس حقیقت کا اظہار تھا کہ معلم، نصاب اور متعلم بنیادی ارکانِ تعلیم ہیں اور پھریکے بعد دیگرے آسمانی کتابوں کے نزول نے کتاب کی اہمیت واضح کر دی۔ معلمِ کائنات جناب محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جو پہلی وحی نازل ہوئی وہ لفظ'' اقرا '' ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام میں تعلیم کو بڑی اہمیت و فضیلت حاصل ہے۔

شرق و غرب اور شمال و جنوب کی تفریق سے بالاتر ہو کر تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ معلم کے بعد کتاب ہی علم کا ذریعہ ہے۔جب تعلیم کے لیے عمارتیں بنیں تو کلاس روم وجود میں آیا اور ساتھ ساتھ کتابوں کا مقام کتب خانہ بھی ظہور پذیر ہو گیا۔

(جاری ہے)

بڑے انسانوں کی تاریخ بتاتی ہے کہ ان کا بہت سا وقت اِن کتابوں کے ساتھ گزرتا اور انجام کار نئی کتابیں وجود میں آتیں۔

مسلمانوں کی علمی تاریخی اور مسلم حکمرانوں کے تمدنی کارناموں پر جب ہم نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں ہر طرف لائبریریوں کا جھال بچھا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ یہ سلسلہ چلتا رہا اور لائبریری کو سکول، کالج، یونیورسٹی میں اہم مقام حاصل ہو گیا۔ ہر اچھا طالب علم کلاس روم کی طرح لائبریری کا بھی طالب علم ہوتااوریوں سکول میں ایک معیاری لائبریری کا ہونا ایک لازمی امرہو گیا۔

اس کے بغیر تعلیم کا مقصد اور تدریس کا نظا م ادھورا اور نا مکمل رہنے لگا ۔کتب خانہ اساتذہ کے لیے اہم اورنا گزیر ہے ۔یہاں اساتذہ علم میں نئی نئی تحقیقات سے بہرہ ور ہوتے ہیں اور طلبہ بھی اپنی نصابی اور غیر نصابی معلو مات میں اضافہ کرتے ہیں ۔ دنیا کی کوئی بھی ترقی یافتہ قوم لائبریری سے بے نیاز نہیں رہ سکتی۔ لائبریری کی اہمیت و افادیت سے کسی کو انکار نہیں ہوسکتا۔

خاص طور سے تعلیمی و تدریسی زندگی میں تو لائبریری کی اہمیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ اس کے بغیر تعلیمی سفر کو منزل سے ہم کنار نہیں کیا جاسکتا۔درسی کتابیں چاہے کتنی ہی میں معیاری اور مفید ہوں، بچوں کی معلومات میں وسعت، ذخیرہ الفاظ میں اضافہ، مطالعہ کی سکت، کتب بینی کا ذوق، خیالات کی بلندی، آدرش کی لگن، اظہار ِخیال پر قدرت، دوسروں کے خیالات و نظریات سمجھنے کی صلاحیت اور فرصت کے اوقات کے مناسب استعمال کے لیے مزید موزوں کتب اور اخبارات و رسائل وغیرہ کا مطالعہ ضروری ہے۔

خود اساتذہ کو بھی اپنی تدریسی صلاحیت بڑھانے، اپنی معلومات کو اپ ٹو ڈیٹ رکھنے، توضیح و تشریح میں مدد لینے اور حوالہ جات کے لیے کتب و رسائل کی ضرورت پڑتی ہے۔چنانچہ ہر سکول میں معیاری کتب خا نے کا ہو نا ضرو ر ی ہے۔ اس کے بغیر سکو ل ایسا ہی ہے جیسا نخلستا ن چشمے کے بغیر یا ایک گھر پا نی کے بغیر۔لا بئریری گو یا ا یک علمی چشمہ ہے جس سے تشنگا ن علم اپنی پیاس بجھاتے ہیں۔

کتابوں اور لائبریریوں سے انسان کا رشتہ بہت قدیم ہے۔کتب خانہ ایک ایسا ادارہ ہے جہاں کتابوں کی شکل میں انسانی خیالات، تجربات اور مشاہدات کی حفاظت کی جاتی ہے تاکہ ایک شخص کے خیالات سے نہ صرف اس کی نسل کے ہزاروں افراد بلکہ اس کے بعد آنے والی نسلوں کے افراد بھی استفادہ کرسکیں۔ کتب خانوں کا وجود یعنی کتابوں کو ایک خاص جگہ اس طرح محفوظ رکھنے کا انتظام کہ وہ محفوظ رہیں اور بوقت ضرورت بغیر کسی دشواری کے حاصل کی جا سکیں، کسی نہ کسی شکل میں قدیم ترین زمانے سے ملتا ہے۔

بلاشبہکتب خانے کسی بھی معاشرے کی ترقی و ترویج کیلئے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ایک تعلیم یافتہ اور باشعور معاشرے کی معراج کتب خانوں سے ہی زندہ ہے۔ جس معاشرے میں معیاری کتب خانے موجود نہ ہوں وہاں کے افراد ذہنی طور پر پسماندہ ہی رہیں گے۔ ان میں نہ تو آگے بڑھنے کی صلاحیت موجود ہوگی اور نہ ہی انہیں جدید تقاضوں سے آراستہ ماحول سے خوشی ہوگی بلکہ کتب خانے انہیں ایک ایسی بند گلی کی مانند لگیں گے جہاں سے صدیوں تک کسی کا گزر نہ ہواہو۔


بلاشبہ لائبریری علم کے متلاشیوں کیلیے کسی جنت سے کم نہیں ہوتی۔ لیکن دنیا میں بہت سی ایسی لائبریریاں بھی ہیں جہاں فن تعمیر کتب بینی کا شوق نہ رکھنے والوں کو بھی کھینچ لاتا ہے۔اٹلی کے ایک فوٹو گرافر نے دنیا کے مختلف ملکوں کا سفر کرکے تیس برسوں میں ان لائبریریوں کی تصاویر اکٹھی کی ہیں جو دیکھنے والے کا دل موہ لیتی ہیں۔ان میں ویٹی کن، اٹلی، آسٹریا اور یورپ کے کئی ملکوں کی لائبریریاں شامل ہیں جو قرون وسطیٰ اور انیسویں صدی میں قائم کی گئیں۔

یہاں موجود کتابوں میں کچھ کتابیں ایسی بھی ہیں جو قدیم دور کے اہم مذہبی رہنماوٴں کے زیر مطالعہ رہیں اوربعض کتابوں پر اہم شخصیات کے ہاتھ سے لگائے گئے نشانات بھی موجود ہیں۔لائبریری کے در و دیوار اور چھتوں پر خوبصورت نقش نگاری کی گئی ہے جس میں قدیم دور کا روایتی و مذہبی رنگ نمایاں ہے۔ان وسیع و عریض لائبریریوں میں لاکھوں کتابیں مطالعے کے شوقین افراد کو سیراب کرتی ہیں۔


ہماری اس دنیا میں ایسے بے شمار بچے، نوجوان اور بڑے موجود ہیں جو نامعلوم وجوہ کی بنا پر اپنی پسند کی اچھی اچھی کتابوں سے محروم ہیں۔ایسا نہیں ہے کہ وہ کتابیں پڑھنا نہیں چاہتے یا انہیں کتابوں کا شوق نہیں ہے۔حالانکہ وہ اچھی اورمعلوماتی کتابیں پڑھنا چاہتے ہیں اور اپنا علم کسی نہ کسی طریقے سے بڑھانا چاہتے ہیں۔لیکن ان کے ساتھ یہ ہوا ہے کہ وہ بدقسمتی سے اپنی پسندیدہ کتابوں سے محروم ہوگئے ہیں۔

مثلاًان علاقوں میں کوئی قدرتی آفت یا تباہی آگئی۔ کوئی زلزلہ آگیا یا آتش فشاں یکایک پھٹ پڑایا سیلاب آگیا۔ جس میں سمندر یا دریا انسانی آبادیوں پر چڑھ دوڑے یا پھر اتفاقیہ طور پر اس خطے میں نسلی یا کسی اور نوعیت کے فسادات پھوٹ پڑے۔ جس کی وجہ سے وہاں کی کتابیں یا تو تباہ و برباد ہوگئیں یا پھر وہاں سے کہیں اور چلی گئیں۔ ایسا بھی ہوا ہے کہ ان کے علاقوں میں کسی نہ کسی وجہ سے مقامی سطح پر لائبریریاں بنائی ہی نہیں گئیں۔

گویا ان لائبریریوں کا قیام عمل میں لایا ہی نہیں گیا یا اگر وہاں لائبریریاں بنائی گئی ہیں تو ان تک مذکورہ افراد کی رسائی ممکن نہیں ہوسکی ہے۔ لیکن اب تو دنیا بہت ترقی کرچکی ہے۔ آج کمپیوٹر اور انٹرنیٹ نے ہماری رسائی دنیا بھر کی کتابوں، رسالوں، اخبارات وغیرہ تک بہت آسان بنادی ہے۔ ان میں ہر طرح کی یعنی ہر موضوع کی کتابیں شامل ہیں۔چاہے وہ سائنس ہو، مذہب ہو، جغرافیہ ہو، علم فلکیات ہو، وائلڈ لائف ہو یا پھر سمندری اور آبی مخلوقات ہوں، غرض ہر موضوع کی کتابیں آج کی دنیا میں ہر ملک، ہر گاؤں، ہر شہر اور ہر طرح کی انسانی بستیوں میں موجود ہیں، مگر پھر بھی اکثروبیش تر حادثات کی وجہ سے ایسی لائبریریاں عارضی طور پر غائب ہوجاتی ہیں۔

جس کے لیے بعد میں لوگوں کو بڑی محنت اور جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ تاکہ عام لوگوں اور پڑھنے کے شوقین قارئین کے لیے د لچسپ کتابوں، رسالوں، اخبارات اور میگزینز وغیرہ کی فراہمی ممکن بنائی جائے۔
علاوہ ازیں تعلیمی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے چلتی پھرتی لائبریریوں کا قیام بھی عمل میں لایا گیا۔دنیا کی سب سے پہلی چلتی پھرتی لائبریری 1857 میں انگلستان میں شروع کی گئی تھی جو ایک گھوڑا گاڑی میں قائم کی گئی تھی۔

گھوڑا گاڑی والی یہ بے مثال لائبریری عام لوگوں تک کتابوں کی فراہمی کے لیے بڑا کام کرتی تھی اور لگ بھگ آٹھ دیہات میں گشت کرتی تھی۔ جب یہ موبائل لائبریری نہایت کامیاب رہی تو اس کے اگلے ہی سال ایک اور گھوڑا گاڑی والی لائبریری انگلستان کی سڑکوں پر گشت کرتی دکھائی دی۔ اس سے یہ ثابت ہوا کہ مذکورہ بالا تجربہ کا میاب رہا تھا۔ چناں چہ یہ انوکھی اور عجیب و غریب لائبریریاں بہت مقبول بھی ہوئیں اور کامیاب بھی ہوئیں۔

پھر وہ وقت بھی آیا کہ ان موبائل لائبریریوں نے اپنا قومی دن بھی منانا شروع کردیا۔منگولیا کے بچوں کے لیے ایک ایسی موبائل لائبریری قائم کی گئی ہے جو خانہ بدوشوں کے علاقوں اور خشک اور بے آب و گیاں میدانوں میں اونٹوں پر ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کرتی ہے اور دور دراز غیر آباد علاقے کے گلے بانوں اور ان کے بچوں کو کتابوں کی سہولتیں فراہم کرتی ہے۔

صحرائے گوبی میں آپ کو یہ اونٹ لائبریری جگہ جگہ دکھائی دے گی۔اسی طرح کئی ممالک میں چلتی پھرتی لائبریریاں نظر آتی ہیں۔
پھر آن لائن لائبریریوں کا دور آیا۔فروغِ تعلیم میں آن لائن لائبریوں کا بھی اہم کردار ہے۔جنوری 2004ء میں پاکستان میں پہلی ڈیجیٹل لائبریری کا آغاز ہوا۔اس لائبریری کی مدد سے یونیورسٹیاں اور تحقیقاتی ادارے ہزاروں بین الاقوامی جرائد تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

ایک ہارڈ ڈرائیو میں رنگین پی ڈی ایف کی ایک لاکھ 50ہزار کتابیں اور ان کا کیٹلاگ ڈیٹارکھا جا سکتا ہے۔ اس وقت بھی 20لاکھ کے قریب ویب سائٹس ایسی ہیں جو پڑھنے والوں کو مفت میں کتابیں حاصل کرنے، پڑھنے کی اجازت دیتی ہیں۔یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کو ہائرایجوکیشن کمیشن میں تبدیل کرنے کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ پاکستان میں تحقیق کے رحجان کو فروغ دیا جاسکے۔

ایچ ای سی کے نیشنل ڈیجیٹل لائبریری پروگرام نے پاکستان میں تحقیقی ماحول کو فروغ دینے میں اہم کردار اداکیا ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے سرکاری اور نجی شعبے کے اعلیٰ تعلیمی اداروں سے وابستہ محققین کے لیے مہنگے آن لائن جرائد اور تحقیقی ڈیٹا بیس تک رسائی آسان ہوئی ہے۔ڈیجیٹل لائبریری کے سلسلے میں ایک اور اہم مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں اپنا تحقیقی مواد خود تیار کرنے اور اسے محفوظ رکھنے کی ضرورت ہے۔


افسوس کا مقام ہے کہ ہماری تعلیمی پسماندگی کے بہت سارے اسباب میں سے ایک سبب یہ بھی ہے کہ ہم نے لائبریریوں کو آباد کرنا چھوڑ دیا ہے اور ان سے ہماری رغبت اور دلچسپی کم ہو گئی ہے۔ہمارا تعلیمی نظام جمود و تعطل کا شکار ہے۔ ہمارا علمی ذوق دن بدن کمزور ہوتا جا رہا ہے۔ مطالعہ کے بجائے لہو و لعب اور فضول کاموں میں وقت ضائع کرنے کے ہم عادی ہوچکے ہیں۔ تعلیمی زوال نے ہم سے ہمارا ذوقِ مطالعہ اور لائبریری کی اہمیت کا احساس چھین لیا ہے۔ ہمیں اپنے اس روّیے میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔
تاریخ اشاعت: 2020-04-27

Your Thoughts and Comments