Insaan ALLAH Se Jurne K Liye Apne Totne Ka Intezar Kiyon Karta Hai

”انسان الله سے جڑنے کے لئے اپنے ٹوٹنے کا انتظار کیوں کرتا ہے؟“

بدھ جنوری

Insaan ALLAH Se Jurne K Liye Apne Totne Ka Intezar Kiyon Karta Hai

قراۃ العین اشرف

انسان ٹوٹتا کب ہے جب اپنے اور الله کے بیچ کسی تیسرے کو لے آتا ہے، کہ الله نے انسان کو اپنے لئے پیدا کیا، محبوب اور محب کے بیچ وہ راز و نیاز نہ رہے تو ربط ٹوٹ جاتا ہے، اور ربط ٹوٹ جائے تو فاصلے بڑھ جاتے ہیں.

(جاری ہے)

آئینہ کب ٹوٹتا ہے جب کسی کم فہم کی سپرد کر دیا جائے، وہ جو اسکی نازکی سے نا واقف ہو، وہ جو اپنے چہرے سے اتنی محبت کرے کہ اپنے جیسا ایک اور بھی دیکھنا نہ چاہے، انسان خود نہیں ٹوٹتا اسے دوسروں سے وابستہ توقعات توڑ دیتی ہیں، ایسا توڑتی ہیں کہ اعتماد کے ساتھ محبت بھی بہتی مہ کے ساتھ بہہ جاتی ہے، اور بہنے والی شے کو سمیٹنا کب کسی کے اختیار میں رہا ہے، احساس پر بجتی پتھر کی ٹھوکر دل کے شیشے کو چکنا چور کرتے ہوئے انسان کے وجود کو بھی ریزہ ریزہ کر کے رکھ دیتی ہے.

انسان کو کب احساس ہوتا ہے کہ وہ ٹوٹ گیا ہے جب اسے کوئی سمیٹنے والا مل جائے، اس وقت جب سوال تو ہوں جواب کوئی نہ ہو، جب درد تو ہو احساس کہیں موجود نہ ہو، جب خاموشی تو ہو لیکن لرزہ خیز شور میں بھی آواز کسی کی سنائی نہ دے، جب موسم یوں اتریں کہ دوسرے تو محظوظ ہوں لیکن ٹوٹنے والے کو آسمان بھی تلچھٹ دکھائی دے، جب بارش گرے تو بارش سے زیادہ آنسو مٹی میں فنا ہوتے دکھائی دیں.

جب آواز کے بنا اندر چیخ و پکار ہو لیکن بہت تواتر اطمینان ہو. جب اپنا وجود خزاں کے ان پتوں کی مانند محسوس ہو جو پت جھڑ میں گر کر راستوں کی زینت بن جاتے ہیں اور لوگ راستوں کا لطف اٹھانے ان پر سے پاؤں رکھے گزرتے ہیں. انسان کو جب بکھرے ریشوں کو سمیٹنے کی ضرورت پڑ جائے تو وہ ٹوٹ چکا ہوتا ہے، کبھی اپنے ارادوں اور کبھی انسان کے ہاتھوں وہ ٹوٹ جاتا ہے.

اور لوگ سنگریزوں کی مانند اسے تلاش کرنے میں لگ جاتے ہیں.

انسان اپنے خدا تک پہنچنے کے لئے اس کیفیت کا انتظار نہیں کرتا، وہ چاہتا ہے خوش رہے خوش اور مطمئن زندگی گزارے، یہ تو تقدیر کی بدولت ایسا ہو جاتا ہے. کوئی اپنے ٹوٹنے کا انتظار کیوں کرے گا، اگر وہ الله سے جڑنا ہی چاہتا ہے تو اس سے پہلے بندوں سے جڑنے کی کیا ضرورت ہے، الله کا راستہ تو بہت سیدھا اور صاف ہے، الله سے جڑنے کے لئے ہر شے سے دستبردار ہونا پڑتا ہے، دل کو خالی کرنا پڑتا ہے.

یہ وہ آبگینہ ہے جو ٹوٹے تو عشق کی مہ قطرہ قطرہ ٹپکتی رہتی ہے. پس انسان انتظار نہیں کرتا، الله انتظار کرتا ہے کہ کب وہ لوٹے، اور شائد وہ ٹوٹے بنا لوٹتا نہیں.اسی بے حسی میں کہیں الله اندر ایک احساس جگا دیتا ہے. آنسوؤں کو پکار، لمحے کو آفاق اور دل کو تقویت ملتی ہے جب وہ ٹوٹے ہوئے کو جوڑنے لگتا ہے تو راستے صاف ہوتے دکھائی دیتے ہیں.

الله سے قریب لوگ اسکی قربت میں جہاں کی بادشاہی پا لیتے ہیں، انھیں فقیری میں شہنشاہی ملتی ہے، وہ کسی موڑ کا انتظار نہیں کرتے، انکے روز و شب گزرتے ہی الله کی قربت میں ہیں.

تو پھر انسان ٹوٹ کر رب کی جانب کیوں رجوع کرتا ہے.کیونکہ انسان اپنا آپ الله کی بجائے انسان کو سونپ دیتا ہے، اپنے روز و شب اسی کے نام کر دیتا ہے، اسی کے تصور اور خیال میں زندگی کی نصرتوں کو جانچتا اور پرکھتا ہے، جبکہ انسان سے وہ جب مایوس ہوتا ہے تو اسے کچھ دکھائی نہیں دیتا، پھر انسان اپنے رب کی جانب لوٹتا ہے، اسی سے مدد مانگتا ہے، اسی کے آگے اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتا ہے تو جسے اس میں سکون مل جائے وہ جان لے کہ اسے اس جانب لایا گیا ہے ، مجاز سے حقیقت کی جانب آنا بھی یہی ہے.

پس انسان کبھی خود لوٹتا ہے کبھی لوٹایا جاتا ہے ، کبھی ٹھوکر کھا کر گرتا ہے ، کبھی سنبھلنے کے لئے الله کی بارگاہ میں دست طلب اٹھاتا ہے، الله تو سب کی سنتا ہے وہ اپنے بندے کو تھام لیتا ہے، دل کے زنگ کو دھو ڈالتا ہے.

وہ بھی خوش قسمت ہیں جو مجاز سے ہو کر حقیقت تک پہنچ جائیں. ورنہ مجاز برائے مجاز میں جیتے اور مرتے دیر نہیں لگتی.دراصل الله سمجھانا چاہتا ہے کہ جن سے تم نے توقعات وابستہ کیں تمھارے وہ سہارے نہایت ہی خام نکلے، انسان، انسان سے ہو کر رب تک پہنچتا ہے، کچھ اسکے بغیر ہی توفیق سے حقیقت کی منزل طے کرتے ہیں. الله جسے جیسے چاہے اپنے قریب کرے.

اصل مقصد قریب ہو جانا ہے. احساس والا دل الله کے زیادہ قریب ہوتا ہے.

الله شکستہ دل میں بستا ہے. تنہائیوں کا ساتھی ہے، انسان سے ٹوٹ کر انسان الله کے سامنے ہی تو پیش ہوا ہے، اسی کے سامنے رویا ہے. تو جو لا حاصل کی اصلیت کو پا کر "حاصل" تک پہنچ جائے اسے وہ دوبارہ لا حاصل کی سپرد نہیں کرتا. لیکن اسکے لئے ٹوٹے ہوئے، شکستہ، ریزہ ریزہ انسان کا اپنے حاکم کو اپنا آپ سونپ دینا لازم ہے، کہ وہی اسے جوڑنے کے ہنر سے واقف ہے.

تخلیق کا خالق ہی اپنی مخلوق کے ہر زاویے کو جانتا ہے کہ کونسا پیوند کہاں لگنا ہے، اور اسی شکستہ وجود کے ساتھ وہ اپنا محبت کا ناتا جوڑ لیتا ہے. پس کوئی لوٹنا چاہے تو وہ منتظر ہے. شام و سحر تم اسکی نگاہ میں ہو. تو لوٹ جاؤ اس روز سے پہلے جب وہ تمہیں لوٹنے کا حکم دے، حکم سے پہلے محبت سے لوٹ جاؤ، ٹوٹنے سے پہلے تسلیم کے ساتھ جھک جاؤ. کہ اسی میں حقیقت کا راز پنہاں ہے.

تاریخ اشاعت: 2020-01-08

Your Thoughts and Comments