Khasra Ki Waba

خسرہ کی وبا۔۔۔تحریر: نعمان باقر

ہفتہ جنوری

Khasra Ki Waba
ہم ایم اے اردو کے طالب علم تھے پکنک پر جانا ہوا واپسی ہمارے ایک محترم دوست نے پوچھا کہ پکنک کیسی رہی ہم بے ساختہ بولے بڑی انجوائے کن رہی وہ دوست بے اختیار بولے یہ اردو کے طالب علم ہیں ہمارے استاد محترم کہنے لگے یہ ترکیب اون کرلینی چاہیے ۔ ہماری قومی زبان اردو سے ہماری محبت کوئی انہونی بات نہیں ہے لیکن غور کریں تو یہ محبت اردو زبان کو معشوق سمجھ کر نہیں کرتے بلکہ ہم خود کو معشوق سمجھتے اور اپنے چاہنے والے پر کبھی نگاہ غلط انداز ڈال کر گزر جاتے ہیں ہمارا تعلق انگریزی سے جس نوعیت کا ہے اس کی صورت اس شعر سے واضح ہے کہ میں نے کہا چاہیے بزم نازغیر سے تہی سن کے ستم ظریف نے مجھ کواٹھا دیا کہ یوں اکثر اس پر یوں ستم ڈھاکرلطف لیتے ہیں۔

اردو کے کئی رنگ ہیں کئی دعوے دار گلابی اردو لکھنوی اردو دلی کی اردو لیکن سب سے مشہور دل کی زبان یعنی شاعری جس کے سبب ہمارا یا ہماری نئی نسل کا اردو سے ربط قائم ہے۔

(جاری ہے)

بچوں کے لیے نثر سننے پڑھنے اور لکھنے کا معاملہ انگریزی سے بھی مشکل ہے۔ والدین استاد سب پریشان ہیں۔ سنا ہے کہ ریڈیو کی نرسری میں اردو بولنے لب و لہجے اداکاری صدا کاری کی قلم لگا کرتی تھی زمانہ بھلا تھا اردو لکھنے پڑھنے والے زندہ تھے پھر ٹی وی آیا تو بھی کتابیں اپنے گھروں میں مل جایا کرتی تھیں بعض ٹیکنالوجی مخالف ذہن رکھنے والے اردودشمنوں کے بارے میں اپنی تحقیق کا سرا وی سی آر اور انڈین فلموں سے بھی جوڑتے ہیں۔

بات ہورہی تھی اردو زبان کی کہ پی ٹی وی تک بھی خبرنامہ معیاری تھا خیر غیر معیاری اب بھی نہیں ہے لیکن۔۔۔ سنا ہے اردو میں مشہور مصور پکاسو پر اردوکتاب کا مسودہ کاتب کے پاس پہنچا تو وہ سمجھے کہ مصنف مصورکے نام کے آگے لگانا بھول گئے ہیں۔یا پھر تجوید کے دعوے دار حبیب بنک لمیٹڈ کو حب یب بینکہ لم یٹڈ بھی کردیتے ہیں۔ اس طرح کے دلچسپ واقعات اردوکے علاوہ بھی دیگر زبانوں کے معاملے میں بھی پیش آتے ہیں،زیر زبر پیش کی غلطیوں کا تو کہنا ہی کیا ہے۔

آج کل سوشل میڈیا نے بھی ایک جانب اردو کو سہارا دیا ہے تو دوسری جانب معلومات کا سیلاب جس سے ہماری ذہنی سطح بلند ہوتی ہے اور دنیا بھر کے عالمی نشریاتی اداروں سے خبروں کے علاوہ انسان دوستی اورصنفی ہمدردی مساوت کے نئے ٹرینڈزبھی میسر آتے ہیں۔ بیماریوں کے اردو ناموں سے واقفیت اور نئی نئی خبریں اور صنفی امتیاز کے خلاف قوانین کے نفاذ کی مہمات ہمارے ذہن میں مل جل کر کبھی کبھار ہمارے سوچنے کے عمل کو اسقدرتیز رفتار کر دیتے ہیں کہ خبر ہمارے ذہن میں ردعمل اور شعور کی تہوں سے بجلی کی سی رفتار سے گزر کر ہماری زبان سے کچھ یوں ادا ہوتی ہے ۔

شہر میں خواجہ سرا کی بیماری پھیل گئی۔ لازم ہے کہ ہم دیکھیں یہ دن کہ جب ہر طرف اردو چینلز کی بھرمار ہو تو اور ہرکس و ناکس ریٹنگ کا بیمار ہو یہ انگریزی زبان کا لفظ ہے۔ ر سے شروع ہوتا ہے ڈ سے نہیں گلی گلی نکڑ نکڑ آکسفورڈ اور کیمبرج اسکول کھلے ہوں تو پھر اردوکے تل فظ کا کیا حشر ہوگا یہی کہ خسرا کہنا یعنی کھسرا غلط ہے اور خواجہ سرا زیادہ فصیح ہے یوں نیوز کاسٹر نے شہر میں خسرہ کے بجائے خواجہ سرا کی بیماری پھیلادی بس پھر کیا تھا سوشل میڈیا کی مقبول خبر بن گئی اب چاہے ویڈیو ایڈٹ کی گئی ہو ہم نے تو بلاگ لکھ دیا۔
تاریخ اشاعت: 2020-01-18

Your Thoughts and Comments