Lasani Pareshaaniya

لسانی پریشانیاں۔۔۔تحریر:اسماعیل والی

منگل فروری

Lasani Pareshaaniya
انگریزی میں "بال" اور اردو میں "بال" اوازیں ہی ہیں- لیکن معنوی اعتبار سے انگریزی "بال" عموما گول اور کبھی کبھا ر بیضوی ہوتا ہے لیکن اردو میں "بال " کے ساتھ لمبے یا گنگریالے کی صفت عموما استعمال ہوتی ہے- عورتوں کے لیے سر کے بالوں کو لمبا کرناایک خواہش رہی ہے- لیکن ناپسندیدہ بالوں سے اس طرح نفرت ہوتی ہے جیسے کرکٹ یا فٹ بال کے شائقین بال کو مس کرنے والے سے کرتے ہیں- انگریزی میں مس کو زیر کے ساتھ، شوا کے ساتھ، واو کے ساتھ یا الف کے ساتھ پڑھتے ہیں- تو مختلف اوازیں پیدا ہونے کی بنا پر مختلف معنی پیدا کرتی ہیں- اسلیے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ زبان اوازوں کے مجموعے کا نام ہے- یہ مجموعے کبھی طویل ہوتے ہیں کبھی مختصر- لیکن ایک زبان دوسری سے اسلیے مختلف ہوتی ہے کیونکہ اوازیں مختلف ہوتی ہیں- اور کبھی ایک مجموعے میں کئی قسم کی ضمنی اوازیں ہوتی ہیں- جنکو اہل زبان ہی صحیح انداز میں ادا کرتے ہیں- - عربی میں /س/ث/ص/ مختلف اوازیں ہیں- لیکن ہم غیر عرب ان میں فرق نہیں کرسکتے- اسی طرح /ض/د/ یا /ط/ت/یا /ز/ذ/ظ/ اور یہی اوازیں کسی زبان کو منفرد بنانے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں- اسی طرح جب یہ اوازیں علامات کی صورت میں تحریر میں آتی ہیں تو علمی مانوسیت کے بغیر سمجھ میں نہیں آتی - مثال کے طور پر عربی میں ایک نام شرحبیل ہے یعنی ش، ر، ح،ب،ی اور ل-لیکن لوگ اس کو شیرجیل پڑھتے اور لکھتے ہیں- عرب جب حلقیہ اوازوں کو بولتے ہیں- تو یوں لگتا ہے- کہ وہ گلے کو صاف کرنے کی کوشش کر رہے ہو- اس طرح جب انگریز بولتا ہے- تو ان اوازوں کی وجہ سے اس کے منہ پر عجیب و غریب اشکال بنتی ہیں- انگریزی اور عربی زبان میں ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ انگریزی میں کل صوتیے کم و بیش45ہیں- لیکن سکولوں میں 26 کو پڑھایا جاتا ہے- یعنی اوازیں زیادہ حروف کم ہیں- عربی میں جتنے حروف ہیں- اتنی اوازیں ہیں- پھر عربی میں محرک اور سکوت والی اوازوں کو سمجھنا اتنا مشکل نہیں- کیونکہ ان کے علامات واضح ہیں- لیکن انگریزی میں سکوت کیلیے کوئی علامت نہیں ہے- اور اس کا انحصار سماعت پر ہے- مثال کے طور پر اگر Knowledgeکو زیر زبر ڈال کر عربی میں لکھا جائے- تو "نولج" آسانی سے پڑھا جاے گا- لیکن سماعی مہارت کے بغیر اس کو انگریزی میں پڑھنا مضحکہ خیز بن جاتا ہے-انگریزی میں "ایی" صوتیہ بھی ہے- اور کلمہ بھی- اور تلفظ بھی ایک لیکن املا مختلف "انکھ" کے لیے استعمال ہوتا ہے- انگریزی میں مختصر ترین کلمہ ایی (میں) ہے- اسی ایک صوتی کلمہ کے گرد ہماری ذات گھومتی ہے- اورنفسیاتی ماہرین گھومتے ہیں- اور اقبال کی خودی کا فلسفہ گھومتا ہے- تو دوسری طرف لفظ ہے ڈیپار ٹمنٹلیزیشن اس میں اٹھارہ صوتیے ہیں- لیکن استعمال بہت کم ہوتا ہے اور انگریزی میں ہیجے یاد کرنا نہ صرف غیر اہل زبان کے لیے مسلہ ہے- بلکہ اہل زبان کیلے بھی مسئلہ ہے-اور انگریزی میں بعض ہیجے اتنے عجیب ہیں کہ عقل دھنگ رہ جاتی ہے- اردو میں سگریٹ لکھنا اتنا مشکل نہیں جتنا انگریزی میں- جی ایچ کبھی ایف کی اواز دیتے ہیں- اور کبھی واو کی اواز دیتے ہیں - مثلا انف، سلہ و، یا ڈو-بعض دفعہ صوتیے بالکل خاموش ہو جاتے ہیں- یا یہی جی ایچ رایٹ (داییں/حق) میں بالکل خاموش ہو جاتا ہے-جیسے صدر ممنون حسین صاحب خاموش رہتے تھے اور بعض دفعہ ہیجے اور تلفظ میں اتنا فرق ہوتا ہے- جنتاالطاف حسین کے رونے اور نیت میں- مثلا وو رینڈے Rendezvous ڈیب یوDebut انڈایٹIndict انایلیٹAnnihilate سامنSalmon سایکالوجیPsychology یا مندرجہ الفاظ پر غور کریں Whole/hole Right/Write/Wright Weight/wait Machine/mechanic/church One/won اوازوں کی طرف واپس جاتے ہیں- عربی۔

(جاری ہے)

فارسی اور اردو میں واو ایک صوتیے کا نام ہے- لیکن کھوارمیں(جو میری مادری زبان ہے) اسی کو تھوڑا مختصر کرکے بولا جائے- تو دادی یا بوڑھی بن جاتی ہے- اگر اسی کو لمبا اورزور سے پڑھا جائے- تو انگریزی میں خوشی اور حیرانگی کا اظہا ر ہوتا ہے- اگر اردو میں و کے سامنے ہ لگایاجائے تو ضمیر بن جاتا ہے- اگردرمیان میں الف لگایا جائے- تو اردو میں تعریف کیلے استعمال ہوتا ہے- جو شاعر لوگوں کی پسندیدہ اواز ہے- فیروز اللغات کے مطابق لفظ "ملنگ" ہندی الاصل ہے- اور اس کے معنی بیخود، بیہوش، مجرد ادمی، اور شامدار کے مرید کے ہیں- اسلیے بر صغیر میں بولی جانے والی زبانوں اور ثقافتوں میں پایا جاتا ہے- معاشرتی لسانی اعتبا ر سے ملنگ مقامی ثقافتوں میں ایسے شخص کے لیے بولا جاتا ہے- جو رسوم و قیود کا اتنا پا بند نہ ہو- جتنا وہ لوگ ہوتے ہیں- جو لباس اور وضع قطع میں رسوم کے پابند ہوتے ہیں- بظاہر ملنگ دنیا پرست نہیں ہوتے اور ستم ظریفی یہ بھی ہے کہ اول الذکر کے رزق کا سامان موخر الذکر کرتے ہیں- کیونکہ ملنگ لوگ ان کو تفریح مہیاکرتے ہیں- اور "فایدے" حاصل کرتے ہیں- کہو ثقافت میں "ملنگ" کا تعلق گاؤں سے رہا ہے- مثال کے طور پر سو نوغرو ملنگ، ہوندورو ملنگ، سویرو ملنگ اور یہ تینوں شاعر تھے- زبان، ثقافت کی پہچان ہوتی ہے- جب ایک انسان کوئی زبان بولتا ہے- تو اس زبان کے پیچھے تاریخ ہوتی ہے اوریہ تاریخ ان طاقتوں کا آئینہ دار ہوتی ہے- جو اس زبان پر اثر انداز ہوتے ہیں اور ان طاقتوں سے ثقافت بھی متاثر ہوتی ہے- انگریزی زبان پر لاطینی، فرانسیسی، اور یونانی زبان کے اثرات ہیں- اور اس اثر کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ الفاظ لاطینی یا فرنسیسی یا یونانی ماخذ سے انگریزی کے ہیں- ان کو اب بھی رسمی مواقع پر استعمال کیا جاتا ہے-یعنی انکی اہمیت ہے- غیر رسمی اظہار کے لیے وہ الفاظ استعمال ہوتے ہیں جو "جرمنی الا صل" انگریزی ہیں- یہ الفاظ عموما مختصر ہوتے ہیں- مثلا Buy, help, see, take, yawn لیکن لاطینی ماخذ سے اے ہوئے الفاظ ان کے مقابلے میں طویل اور پیچیدہ ہوتے ہیں- جس طرح Nominate, aqueous, herbivorous, flamboyant, propinquity, remuneration, circumnavigate, adjudicate, catagelophobia, bibliokleptomania, ectomorphic, filipendulous, honorificabilitudinitatibus، اگر یونانی یا لاطینی زبان نہ ہوتی- تو معلوم نہیں علم طب والے کیا کرتے- اور اپنی علمیت کا اظہار کس طریقے سے کرتے- مثال کے طور پر (بد بو دار بغل)hircus (نگلنے کی بیماری)dysphagia ہڈی کے اندرintra-osseous (نبض)sphygmos (انکھ کی خشکی)xerophthalmia (سر سے پاوں)cephalocaudal (قے کی بیماری)hyperemesis (اعضا کا سن ہونا)obdormition (درد سر)sphenopalatine ganglioneuralgia اس کا مطلب یہ ہے- انگریزی میں جو مشکل پن ہے- وہ لاطینی کی وجہ سے ہے- اور یہ بات بھی یہاں سمجھنے کی ہے- انگریزی میں "علمیت" بھی لاطینی کی وجہ سے ہے- کیونکہ جن علما نے انکو عسایت سکھائی- انکی زبان لاطینی تھی- اور لاطینی کی طرح یونانی زبان بھی علمی زبان تھی- اگر یونانی اور لاطینی زبان کے ذخیرے کوانگریزی زبان سے نکالا جائے- تو اسکا علمی ذخیرہ ساٹھ ستر فیصد کم ہو جاے گا-انگریزی سے جب عربی کی طرف آتے ہیں- تو انگریز کے لیے قہو ہ، قران، محمد، عبد المطلب کے الفاظ کو ادا کرنااتنا مشکل ہوگا- جتنا کسی مولانا کے لیے کو بولنا-Psyche اردو میں بول، بال، بیل اوازیں ہی ہیں- اور انکی مختصر صورتیں بھی ہیں- یعنی بل زبر کے ساتھ، بل زیر کے ساتھ- اس طرح کی اوازیں انگریزی میں بھی ہیں- لیکن ان کی معنی مختلف ہے- Ball, bail, bale, bell, bill, bull اردو میں افعال کی اکثریت ہندی الاصل ہے- اور اسما ترکی، فارسی، اور عربی سے ماخوذ ہیں- اردو میں جو "علمیت" ہے وہ عربی اور فارسی کی وجہ سے ہے- اردو ادب کا انحصار عربی اور فارسی اصطلاحات پر ہے-غزل، قصیدہ، نظم، بیت، شعر، مرثیہ، بزمیہ، طربیہ، وغیرہ عربی اور فارسی سے ادھار لیے گیے ہیں- اور کچھ الفاظ انگریزی سے لیے گیے ہیں- جیسے ناول، ڈرامہ-ہمارے "علماء "انگریز زدگی کو برا سمجھتے ہیں- لیکن انگریزی پرستی کااظہار (لا شعوری طور) پر کرتے رہتے ہیں- مثال کے طور پر اسلام زندہ باد کانفرنس یا انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی- سکول انگریزی لفظ ہے لیکن غزالی،مسلم ماڈل، اقبال، قاید اعظم یا قتیبہ لگا کر اواز میں ثقافتی اپناییت پیدا کرکے "سکول" کا کاروبار چلایا جاتا ہے۔

تاریخ اشاعت: 2020-02-11

Your Thoughts and Comments