Muqaddama

مقدمہ

عائشہ عبدالرشید پیر ستمبر

Muqaddama
رات ڈھلنے کو ہے۔ دور آسمان پر چاند بادلوں کو دونوں ہاتھوں سے دائیں بائیں دھکیل کر متحیر و متجسس زمین کا منظر دیکھ رہا ہے۔ کہیں کہیں ستارے ٹمٹماتے نظر آ رہے ہیں۔ ہو کا عالم چھایا ہوا ہے البتہ کبھی کبھی ہوا کا کوئ جھونکا فضا میں ارتعاش پیدا کر دیتا ہے جس سے دم سادھا زندان چونک سا جاتا ہے۔
وہ جیل کی مضبوط آہنی سلاخوں سے سر ٹکائے ترچھا ہو کر بیٹھا ہے ۔

نظریں سلاخوں سے نظر آتے زندان کو دیکھ رہی ہیں ، سامنے طویل راہداری جا رہی ہے ، اندھیرے اور سناٹے میں ڈوبی راہداری۔۔۔جس کا سرا اس کی دسترس سے باہر ہے ، جو آخری نقطہ اسے نظر آ رہا ہے وہ اندھیرے کا نقظہ ہے ، سیاہ گھور اندھیرے کا ، اس اندھیرے کا جس نے اس سے آگے کے نیم تاریکی میں ڈوبے کمروں میں ہونے والی مکمل تاریک کارگزاری پر اپنی سیاہی کی چادر ڈالی ہوئ ہے۔

(جاری ہے)

آس پاس کی کوٹھڑیوں سے وقفے وقفے سے قیدیوں کے خراٹوں کی آوازیں سنائ دیتی ہیں ۔ زنگ آلود سلاخوں سے سر ٹکائے ان بے ہنگم آوازوں کو سنتا وہ یہ سوچ رہا ہے کہ کیا جرائم اسی طرح بے خبر سوتے ہیں ؟ آنے والے وقت سے بے پرواہ ہو کر ، بے خوف و خطر ۔۔۔ اس نے اس خیال سے فورا سر جھٹک دیا ۔ اس کی نظریں اندر اپنے کمرے کی جانب اٹھ گئیں ، چوکور کمرہ،تین دیواروں اور سلاخوں کا وہ تنہا قیدی۔

قید خانے کی چھت کافی اونچی ہے ۔ اس نے گردن اوپر اٹھا کر چھت دیکھی اور دل میں سوچا ان اونچی چھتوں کے نیچے نہ جانے کتنے ہی جھکے سر قید ہیں ۔ اس خیال نے اس کے تھکن زدہ چہرے پر ایک غمزدہ مسکراہٹ بکھیر دی۔ دیواروں پر نگاہ پڑی تو وہ بھی قیدیوں کی طرح اپنی عمر سے کئی گنا بڑی دکھائی دے رہی ہیں ۔ جوانی اور خوشحالی کا پلستر جگہ جگہ سے اکھڑ چکا ہے اور نیچے سے بد صورت دیوار نظر آ رہی ہے ۔

یوں لگتا ہے جیسے اس نے پلستر کے مجمعے کو اپنے سامنے سے کمرے کی صورت حال دیکھنے کو ہٹایا ہو جس کے فرش پر جابجا خون کے دھبے لگے ہوئے ہیں ۔ ان دھبوں کو دیکھ کر وہ اس فیصلے پر پہنچنے کی ناکام کوشش کر رہا ہے کہ کون سے دھبے ظالم کے ہیں اور کون سے مظلوم کے ؟ کون سا خون حق کے لیے ٹپکا ہے اور کون سا اس حق کی سر کوبی کے لیے ؟ کون سا خون سر سے سفر کر کے زمین تک پہنچا ہے اور کون سے نے محض گٹھنوں سے فرش تک کی ریاضت کی ہے ؟
دائیں ہاتھ کونے میں ایک کچی اینٹ پڑی ہے جس کی بھربھری مٹی فرش پر کچھ دور تک پھیلی ہوئی ہے ۔

جس انداز میں وہ اینٹ رکھی ہوئی ہے اسے دیکھ کر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ گویا یہ اس کمرے کے واحد قیدی کا واحد تکیہ ہے جس پر کہیں کہیں خون کے دھبے لگے ہوئے ہیں۔
سلاخوں کے پیچھے بیٹھے قیدی کو یہ محسوس ہو رہا ہے کہ جیسے وہ نہیں بلکہ یہ سارا زندان خانہ سلاخوں میں جکڑا کھڑا ہے اور صرف وہی ہے جو آزاد ہے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
سورج کی تپتی تیز کرنیں بڑے اعتماد سے سلاخوں کی درزوں سے سر اٹھائے چلی آ رہی ہیں جن سے سلاخوں کا سایہ زمین پر پڑنے لگا ہے گویا اب زمین تہہ زمین کی سلاخوں کی دیوار بن چکی ہے ۔


عدالت میں معمول کی چہل پہل ہے ۔ قیدیوں کی آوازوں کا شوروغل ، اہلکاروں کی اونچی آوازوں میں دبی سازشیں ، وکیلوں کے سیاہ کوٹ میں چھپے سیاہ دل اور عملے کی زندہ آنکھوں میں دم توڑتی انسانیت چلتی پھرتی دکھائی دے رہی ہے ۔
اچانک دو اہلکار نمودار ہوتے ہیں جن میں سے ایک نے اسے اونچی آواز سے مخاطب کیا : ابے او ! چلو تمھاری پیشی آئی ہے۔

دوسرا اہلکار مشینی انداز میں تالا کھول رہا ہے۔ دونوں اندر داخل ہوتے ہیں ، نوجوان اٹھ کھڑا ہوتا ہے ، وہ جلدی جلدی اس کے ہاتھوں میں ہتھ کڑیاں ڈالتے ہیں اور اسے باہر لے جاتے ہیں۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
عدالت تماشائیوں سے کھچا کھچ بھری ہے۔

سامنے دیوار کے ساتھ لگی کرسی پر جج صاحب براجمان ہیں ۔ دائیں اور بائیں جانب دو کٹہرے ہیں ۔ کٹہروں کی بنت میں جو پتلی اور لمبی لمبی ڈندیاں لگائی گئی ہیں انھیں دیکھ کر قیدی کو اپنی کوٹھڑی یاد آ گئی ، گویا کٹہرا بھی آدھی کوٹھڑی ہے۔ وہاں اگر جسمانی اذیت ہے تو یہاں ذہنی ، بس فرق صرف اتنا ہے کہ وہاں دیواریں اور چھت تماشائی ہیں اور یہاں جیتے جاگتے مردہ لوگ۔

وہاں قیدی کا سر اگر جھکا ہوتا ہے تو اٹھا ہوا یہاں بھی نہیں ہوتا ۔ ہاں ۔۔۔ البتہ قیدی کی چیخ وہاں خودبخود فضا میں بلند ہوتی ہے اور یہاں اسکی گھٹی گھٹی آواز زبردستی نکلوائی جاتی ہے۔
کٹہرے سے ذرا آگے کرسیوں پر سیاہ سوٹ اور سیاہ ٹائی میں ملبوس دو وکیل بیٹھے ہیں ۔ دائیں جانب والاقیدی کا وکیل ہے جب کہ بائیں جانب والا اس کے مخالفین کا ،جس کی سیاہ ٹائی اسے اپنا پھانسی کا پھندہ دکھائی دے رہی ہے ۔

پیچھے کی نشستوں پر ان گنت تماشائی بیٹھے ہیں ۔ ہر چہرے پر مختلف تاثرات ہیں، خوف کے ، رحم کے، شفقت کے، نفرت کے، محبت کے ، افسوس کے اور حقارت کے۔ کچھ کے چہروں پہ استہزائیہ مسکراہٹ ہے تو کچھ کے چہروں پہ استفہامہ کرب ، کوئی دونوں ہاتھ اوپر اٹھائے آسمان کو دیکھ رہا ہے تو کوئی کرسی سے ٹیک لگائے سامنے کی دیوار پہ نصب گھڑی کی سوئیوں کو ٗ گویا کارروائی شروع ہونے کا انتظار کر رہا ہو ، کوئی اپنے برابر بیٹھے شخص کو کہنی مار کر متوجہ کر رہا ہے توکوئی سرگوشیوں میں اپنی رائے بیان کر رہا ہے اور کوئی دوسرے کو ہونٹوں پہ انگلی رکھ کر خاموش رہنے کا اشارہ کر رہا ہے۔


ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
جج صاحب اپنی کرسی پر براجمان ہو چکے ہیں۔ سیاہ کوٹ، سیاہ ٹائی اور سفید شرٹ زیب تن کی ہوئی ہے۔آنکھوں پر چشمہ لگایا ہوا ہے۔عمرپچاس کے لگ بھگ دکھائی دے رہی ہے۔ ہاتھوں میں سیاہ رنگ کی فائل پکڑی ہوئی ہے اور مطالعے میں منہمک ہیں ۔

کچھ دیر بعد انھوں نے فائل سے سر اٹھایا ، کٹہرے میں کھڑے ملزم کی جانب دیکھا اور بولے: کوروناوائرس صاحب آپ پر الزام ہے کہ آپ نے بے شمار لوگوں پر قاتلانہ حملہ کرنے کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں لوگوں کو شدید زخمی بھی کیا ہے جو آج کل اہسپتالوں میں نہایت نازک صورتِ حال کا شکار اپنی زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں ۔ مزید برآں آپ نے لوگوں کو ان کے گھروں میں قید کر دیا ہے ، ان کے معاش کو ان سے چھین لیا ہے، انھیں بھوک، فاقہ اور تنگ دستی کا شکار کر کے انھیں کاروبارِ زندگی سے نکال باہر پھینکا ہے۔

(ایک لمحے کو رک کر ایک نظر حاضرین پر ڈالی ) آپ پر الزام ہے کہ آپ فروری 2020 سے اس ملک پر حملہ آور ہیں اور اب تک دوہزار سے زائد زندگیوں کو متاثر کر چکے ہیں ۔ کیا آپ اس جرم کو قبول کرتے ہیں ؟؟؟ ملزم کے خاموش رہنے پر جج نے دوبارہ سوال کیا : کیا آپ نے یہ جرم کیا ہے ؟؟؟
کٹہرے میں کھڑے ملزم کی نظریں اپنے وکیل کی جانب اٹھ گئیں جو بدستور اسے دیکھ رہا تھا ۔

ملزم کے دیکھنے پر وکیل نے خفیف سے اندازمیں اپنی گردن دائیں بائیں نفی میں ہلا کر ملزم کو اس الزام سے انکار کرنے کا اشارہ کیا ۔ ملزم نے اپنی نگاہیں وکیل سے ہٹا کر فرش پر گاڑ دیں اور آہستہ آواز میں بولا : نہیں ۔ جج نے قلم اٹھایا ، فائل پر کچھ لکھا اور فائل سامنے بیٹھے شخص کو تھما دی ۔ وہ فائل اٹھائے ملزم کے پاس آیا اور اس سے دستخط کروائے جو اس نے خاموشی سے کر دیے ۔


جج نے ایک نظر کمرہ عدالت پر ڈالی اور بولا : استغاثہ آئندہ پیشی پر اپنی تمام شہادتیں پیش کریں ۔ عدالت برخاست کی جاتی ہے۔اور اٹھ کھڑا ہوا جس کی پیروی میں کمرہ عدالت میں موجود تمام نفوس بھی کھڑے ہو گئے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
پہلی پیشی:
کمرہ عدالت معمول کے تماشائیوں سے بھرا ہوا ہے۔

جج صاحب تشریف لا چکے ہیں ۔ملزم کو دوبارہ کٹہرے میں لایا گیا۔ آج اسے عدالت میں موجود سب افراد ایک سے لگ رہے ہیں ٗ بے حس، خود غرض اور خود پرست۔جج کے سپاٹ اور بے تاثر چہرے کی جانب دیکھ کر وہ یہ سوچ رہا ہے کہ فیصلہ سنانے والوں کے چہروں سے کیا اسی طرح بے نیازی چھلکتی ہے ؟ جج اپنے سامنے رکھی فائل کے صفحات پلٹنے میں مصروف ہے ، فائل میں موجود آخری صفحہ پلٹنے کے بعد اس نے فائل بند کر دی ، ایک نظر دائیں ہاتھ کٹہرے میں کھڑے ملزم پر ڈالی اور حاضرین کی جانب دیکھ کر بولا: کارروائی شروع کی جائے۔


استغاثہ اپنی جگہ سے اٹھ کر کٹہرے کے سامنے آ کھڑا ہوا ۔
استغاثہ: جی تو کوروناوائرس صاحب ! آپ فروری 2020 کو اس ملک میں آئے تھے اور آتے ہی آپ نے یہاں کے معصوم اور شریف عوام کو بے رحمی سے قتل کرنا شروع کر دیا ۔ آپ نے چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں سے کے کر بزرگوں تک کو تڑپنے پر مجبور کر دیا ۔ کیا آپ اپنا جرم قبول کرتے ہیں ؟؟ ملزم نے جھکا ہو ا سر اٹھایا جج کو دیکھا اور مختصرا بولا : وہ تمام لوگ طبعی موت مرے تھے۔


استغاثہ : آپ کا کہنا ہے کہ وہ تمام لوگ طبعی موت مرے تھے تو کیا آپ کا واقعی ان سب میں کوئی عمل دخل نہیں ہے ؟
ملزم : جی نہیں !
استغاثہ کے چہرے پہ استہزائیہ مسکراہٹ دوڑی اس نے سر کو خم دیا اور دو قدم پیچھے جا کر اپنی میز سے ایک سفید رنگ کی فائل اٹھا کر جج کو دی اور کہنے لگا: یور آنر یہ ان چند لوگوں کی میڈیکل ریپورٹس ہیں جن کے خون میں کوروناوائرس کے جراثیم پائے گئے ہیں ان میں سے کچھ افراد کی حالت تو نہایت نازک ہے جب کہ کچھ دم توڑ چکے ہیں ۔

یور آنر آپ دیکھ سکتے ہیں کہ 20 فروری سے لے کر اس ملک میں جتنی بھی یلاکتیں ہوئی ہیں ان سب کا خون جب لیبارٹری میں ٹیسٹ کیا گیا تو ان میں کوروناوائرس کی موجودگی پائی گئی ہے۔
اتنا کہہ کر وہ خاموش ہو جاتا ہے، دو قدم پیچھے ہٹتا ہے ایک نظر ملزم پر ڈالتا کر کہتا ہے: مجھے ان سے اور کچھ نہیں پوچھنا اور واپس اپنی جگہ پر بیٹھ جاتا ہے ۔
وکیل صفائی اپنی جگہ سے اٹھ کر جج کی میز کی سیدھ میں آ کھڑا ہوا۔


وکیل صفائی: یور آنر میں ان ڈاکٹر سے کچھ سوالات کرنا چاہتا ہوں جن کے توسط سے یہ میڈیکل رپورٹس آئی ہیں ۔
چالیس پینتالیس برس کے لگ بھگ ایک شخص کمرہ عدالت میں داخل ہوتا ہے ۔ بدن پر سفید کوٹ اس کے پیشے کی نشاندہی کر رہا ہے۔ چند قدم سیدھا چلنے کے بعد اب وہ بائیں جانب بنے کٹہرے میں آ کھڑاہوا ہے ۔
وکیل صفائی: ڈاکٹر صاحب! جن لوگوں کی اموات ہوئی ہیں ان کے خون میں آپ کو صرف کوروناوائرس کی علامات ملی تھیں ؟؟ یعنی ان کی موت صرف کوروناوائرس کی وجہ سے ہوئی تھی ؟
ڈاکٹر: جی ہاں !
وکیل صفائی : ڈاکٹر صاحب ایک بات تو ماننی پڑے گی کہ آپ نے بہت محنت سے ان مریضوں کو ڈیل کیا تھا،
ڈاکٹر: جی بالکل !
وکیل صفائی: ( ایک ایک لفظ پر زور دے کر ) ان کے خون میں اور کوئی وبا موجود نہیں تھی ؟ آپ یقین سے کہہ سکتے ہیں ؟
ڈاکٹر: جی ہاں میں اپنے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ان کے خون میں اور کوئی وبا شامل نہیں تھی ۔

ان کی موت صرف کورونا وائرس کی وجہ سے ہی ہوئی تھی۔
وکیل صفائی: ڈاکٹر صاحب آپ اس بات کو حلفیہ کہہ رہے ہیں ؟ کیوں کہ مجھے یقین ہے کہ ان رپورٹس میں تمام عوامل کی نشاندہی نہیں کی گئی۔
(استغاثہ نے زور سے میز پر ہاتھ مارا اور مشتعل ہو کر اٹھ کھڑا ہوا)
استغاثہ: یور آنر معزز عدالت کے سامنے شواہد آ چکے ہیں جن کی روشنی میں یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ ملزم کوروناوائرس نے کئی لوگوں کی جان لی ہے ۔

یور آنر یہ سفاکیت اور سنگ دلی کی انتہا ہے۔
وکیل صفائی: یور آنر میرے موکل پر تمام تر لگائے گئے الزامات جھوٹے اور بے بنیاد ہیں اس کیس کے کئی ایسے حقائق ہیں جن سے ابھی پردہ اٹھنا باقی ہے۔ (ایک نطر حاضرین پر ڈالتا ہے)میں معزز عدالت کے علم مین یہ بات بھی لانا چاہتا ہوں کہ اس کیس سے جڑے کئی عوامل اور محرکات جو نظر انداز کیا گیا ہے ۔ پولیس نے بھی نہایت ناقص اور جانبدارانہ تفتیش کر کے عدالت کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے۔

یور آنر اصل وجہ پر پردہ ڈال کر اور اصل محرک کو چھپا کر جان بوجھ کر واقعے کو کسی اور طعف موڑا جا رہا ہے ۔ میں نہایت ادب سے معزز عدالت سے یہ درخواست کرتا ہوں کہ مجھے اگلی پیشی میں اس کیس سے جڑے اہم حقائق اور اہم شہادتیں پیش کرنے کی اجازت دی جائے۔
استغاثہ: (ایک دم اٹھ کھڑا ہوتا ہے) آبجیکشن یور آنر ! میرے فاضل دوست خواہ مخواہ عدالت کا وقت برباد کر رہے ہیں ۔

یہ سیدھا سیدھا اقدامات قتل کا کیس ہے جس میں جرائم بھی عیاں ہیں اور محرکات بھی لہذا میر ی معزز عدالت سے درخواست ہے کہ اس کیس کا فیصلہ فی الفور کیا جائے۔
جج: انصاف کے تقاضوں کے تحت ڈیفینس کو اپنے کیس کے حوالے سے تمام ثبوت اور شہادتیں پیش کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔ آپ اگلی پیشی میں اپنے تمام ایویڈینس اور شہادتیں لائیے۔ (لمحے بھر کو رکا) عدالت برخاست کی جاتی ہے۔


ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
دوسری پیشی
عدالت اپنا مخصوص منظر پیش کر رہی ہے ۔ ہر کوئی اپنے آپ کو منصف سمجھ رہا ہے ۔۔۔۔ حق اور انصاف کا علمبردار۔۔۔۔۔!
جج نے سامنے کرسی پر بیٹھے وکیل صفائی کو دیکھا اور کہا : تو آج آپ اپنے موکل کے دفاع میں کیا شہادتیں پیش کرنا چاہیں گے ؟
وکیل صفائی: (مودبانہ کھڑا ہو جاتا ہے) یور آنر میں اپنے ایک گواہ کو عدالت میں پیش کرنا چاہتا ہوں ۔


جج: ڈیفینس اپنے گواہ پیش کریں ۔
وکیل صفائی : یور آنر میرے گواہ آغا خان اہسپتال کے میڈیکل اسٹاف کے ایک سینئیر ڈاکٹرٗ ڈاکٹر فاروق شمسی ہیں جنھوں نے بہت سے مریضوں کا علاج کیا ہے ۔ (کٹہرے میں کھڑے ڈاکٹر کی جانب ،مڑا) ڈاکٹر صاحب کیا آپ معزز عدالت کو یہ بتانا پسند کریں گے کہ اس ملک میں فروری سے لے کر اب تک جو اموات ہوئی ہیں یا جو لوگ بیماری کا شکارہوئے ہیں اس کی واحد وجہ ان میں کوروناوائرس کا پایا جانا ہے ؟
ڈاکٹر: (گواہ) جی نہیں! ہمارے پاس اب تک جو مریض آئے ہیں یا اس سارے عرصے میں جتنی اموات ہوئی ہیں وہ صرف اور صرف کوروناوائرس کی وجہ سے نہیں ہوئیں۔

دنیا بھر میں روزانہ ایک بڑی تعداد میں لوگ طبعی موت مرتے ہیں۔ اہسپتال میں بھی اس وقت جو لوگ زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں اس کے پیچھے بھی بہت سی وجوہات ہیں جن میں صفائی کا فقدان سر فہرست ہے ۔ رہنے سہنے کے ماحول سے لے کر کھانے پینے کی اشیاء تک میں صفائی ستھرائی کی جانب سے غفلت برتی گئی ہے جس کا نتیجہ آپ سب کے سامنے ہے ۔ کھانا انسان کی جسمانی صحت پر بڑی حد تک اثر انداز ہوتا ہے لہذا اگر اس کے حلال اور طیب ہونے کا خیال نہ رکھا جائے تو بے شمار جسمانی مسائل کا سامنا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔
(استغاثہ مشتعل ہو کر جھٹکے سے اٹھ کھڑا ہوا اور گواہ کی بات کاٹ کر کہنے لگا)
استغاثہ: آئی آبجیکٹ یور آنر
جج: ( استغاثہ کی جانب دیکھ کر) آبجیکشن اوور رولڈ
استغاثہ: (تیز آواز میں ) یور آنر یہ گواہی سراسر جھوٹی اور لغو ہے، الزام ہے ڈراما اسکرپٹڈ اور ڈیفینس کاؤنسل کا گواہ کو رٹایا ہوا ہے۔
جج: فاضل وکیل ذاتیات پر حملے اور الزامات سے گریز کریں اور عدالت کر وقار کو ملحوظ خاطر رکھیں ۔


استغاثہ: میں بہت ادب کے ساتھ معذرت چاہتا ہوں یور آنر لیکن معززعدالت مجھے یہ کہنے کی اجازت دے کہ یہ سب کا سب بیان من گھڑت اور آفٹر تھوٹ ہے ۔ اصل جرم سے پردہ پوشی کے لیے فرضی قصے اور کہانیاں گھڑ کے معزز عدالت کا وقت ضائع کیا جا رہا ہےجب کہ سچ ےو یہ ہے کہ کوروناوائرس نے بے شمار انسانی جانوں کو نقصان پہنچایا ہے۔
( گواہ کے چہرے پر بے یقینی اور افسوس کے ملے جلے تاثرات ہیں وہ کبھی حیرت سے جج کو دیکھتا ہے اور کبھی استغاثہ کو )
استغاثہ اپنی جرح جاری رکھتے ہوئے: میری معزز عدالت سے درخواست ہے کہ اس جھوٹی گواہی کو رد کر کے مقدمے کا فیصلہ سنایا جائے تاکہ انسانی زندگی امن و سکون میں آ سکے۔


وکیل صفائی: (اپنی کرسی سے کھڑا ہو جاتا ہے اور جج کی طرف دیکھ کر کہتا ہے)گواہ جھوٹ نہیں سچ بول رہا ہے ہور آنر! یہ کیس جھوٹ کی بنیاد پر شروع کیا گیا ہے ۔ یور آنر اس کیس میں پولیس اور ڈاکٹزر نے اپنے فرائض سے غفلت برتتے ہوئے اصل حقائق کو کورٹ سے پوشیدہ رکھنے کی کوشش کی ہے ۔ یور آنر جنھوں نے یہ میڈیکل رپورٹس آپ کو دی ہیں یہ ڈاکٹر یہاں بیٹھے ہیں ان سے پوچھا جائے کہ کیا ان افراد میں صرف کوروناوائرس کے جراثیم پائے گئے تھے جو انھوں نے رپورٹ میں لکھ کر عدالت میں جمع کروائے ہیں ؟ ( وکیل صفائی اپنی میز سے سفید رنگ کی فائل اٹھا کر جج کو دیتا ہے) یور آنر اس فائل میں موجود جو میڈیکل رپورٹس آپ ملاحظہ کر رہے ہیں (جج فائل پر گہری نظریں جمائے صفحات پلٹ رہا ہے) یہ آغا خان اہسپتال کے مریضوں کی ہیں جو میرے گواہ کے ہر بیان کی تصدیق کرتی ہیں ۔

میڈیکل رپورٹس میں ان مریضوں کی بد احتیاطی سے ان کے جسم میں پیدا ہونے والی بیماریاں اس میں صاف ظاہر ہیں ۔ ( اتنا کہہ کر وہ خاموش ہو جاتا ہے)۔
جج: (پچھلی نشست پر بیٹھے ڈاکٹر سے) ڈاکٹر یہ بتائیں گے کہ کیا انھوں نے مریضوں میں وہ تمام عوامل پائے جن کا ذکر ڈیفینس کونسل کر رہے ہیں تو انھوں نے ان تمام عوامل کی نشاندہی کیوں نہیں کی اور مکمل رپوٹ عدالت میں پیش کیوں نہیں کی ؟
ڈاکٹر: ( اپنی نشست سے کھڑا ہو جاتا ہے) یور آنر اس ٹریٹمینٹ کے جو بھی عوامل تھے وہ ہم نے ان رپورٹس میں بیان کر دیے ہیں ۔

باقی ۔۔۔۔۔ باقی جن کا ذکر وکیل صفائی کر رہے ہیں وہ ہمیں اہم نہیں لگے اس لیے ہم انھیں عدالت میں پیش نہیں کر سکے۔ (چہرے پہ گھبراہٹ صاف نمایاں ہیں )
جج: (غصے سے) ڈاکٹرز کون ہوتے ہیں یہ فیصلہ کرنے والے کہ کون سی شہادت عدالت کے لیے اہم ہے اور کون سی غیر اہم ؟ کیس عوامل عدالت سے چھپانا سنگین جرم ہے ۔ کیا ڈاکٹر یہ بات جانتے ہیں ؟ کیا آپ کو اس بات کا احساس ہے کہ آپ نے اپنے فرائض سے غفلت برت کے کتنا بڑا جرم کیا ہے ؟ اس حوالے سے آپ کے خلا ف محکمانہ کارروائی بھی ہو سکتی ہے ۔

آپ کے علاوہ اس بددیانتی میں میڈیکل اسٹاف میں سے اگر کوئی بھی ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف سنگین کارروائی ہوگی۔(ڈاکٹر پریشانی سے اپنا سر جھکا لیتا ہے ) عدالت ڈاکٹرز کو یہ حکم دیتی ہے کہ عدالت سے چھپائے گئے تمام عوامل اور محرکات کو واضح طور پر عدالت کے سامنے پیش کیا جائے۔
عدالت برخاست کی جاتی ہے ۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تیسری پیشی
عدالت میں معمول کی گہماگہمی ہے۔

کمرہ عدالت میں کارروائی شروع کرنے کا حکم جاری ہو چکا ہے۔ استغاثہ ملزم کے کٹہرے کے سامنے آ کھڑا ہوا اور اس نے بولنا شروع کیا: آپ نے فروری کے ماہ سے لے کر اس ملک کے معصوم لوگوں کو ان کے گھروں میں قید کر رکھا ہے۔ غریب طبقہ بھوک ، فاقوں اور تنگ دستی کی چکی میں پس رہا ہے ۔ آپ نے اس ملک کے نچلے طبقے سے لے کو الیٹ کلاس تک کے نظام کو درہم برہم کر دیا ہے۔

ملک کی معیشت کا جو جنازہ آپ نے نکالا ہے اس کو کاندھا دینے کے لیے نہ جانے آنے والے وقتوں میں ملک کو کن حالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔(لمحے بھر کو رک کر گہری سانس لی، ابرو اچکائےاور چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ سجا کر دوبارہ گویا ہوئے ) آپ کو اس ملک سے کوئی خاص دشمنی ہے؟
وکیل صفائی کے چہرےپر غصے کے تاثرات نمایاں ہوئے ، وہ اپنی جگہ سے جھٹکے سے اٹھ کھڑا ہوا اور بولا: آبجیکشن یور آنر! یہ میرے موکل کو پریشان کر رہے ہیں ۔


جج: آبجیکشن اوور رولڈ
استغاثہ: یور آنر کوروناوائرس کے کیس میں یہی پوچھا جائے گا کہ ان کو اس ملک سے آخر دشمنی کیا ہے؟ پینڈولم کیسے ایجاد ہوا تھا یہ تو پوچھا جانے سے رہا ۔
جج: (ہتھوڑی بجا کر) آرڈر۔ آرڈر۔ آرڈر ! عدالت کا وقار ملحوظ خاطر رکھا جائے۔
استغاثہ: میں معذرت چاہتا ہوں یور آنر لیکن یہ تمام سوالات بے حد ضروری ہیں ۔


جج: ملزم بیان دیں ۔ آپ اپنی جرح جاری رکھیں ۔
(کٹہرے میں کھڑے ملزم کےچہرے پر کرب نمایاں ہے ، اس کی آنکھوں سے برابر آنسو گر رہے ہیں اس نے ایک نگاہ سامنے کھڑے وکیل پر ڈالی اور بولنا شروع کیا)
میری اس ملک سے کوئی دشمنی نہیں ۔ میں نے ملک کے نظام کو ہرگز۔۔۔ ہرگز درہم برہم نہیں کیا ۔ یہ سراسر مجھ پہ الزام ہے۔ فروری سے لے کر اب تک جو بھی واقعات ہوئے ہیں یا جہاں تک محصور کر دینے کی بات ہے تو اس کا مقصد لوگوں ان کی اصل فطری زندگی کی جانب واپس لانا ہے۔

آپ کا کہنا کہ میں نے زندگی کے نظام کو روک دیا ہے سراسر غلط ہے (ذرا دیر کا رک کر سانس بحال کیا ، بے رحمی سے ہاتھ کی پشت سے گالوں پر لڑھکتے آنسوؤں کو رگڑا اور دوبارہ کہنا شروع کیا) میں نے اس کائنات کے نظام پر کوئی اثر نہیں ڈالا ، زندگی تو اسی طرح رواں دواں ہے جیسے پہلے تھی، سورج اور چاند کا نکلنا اپنے وقت پر ہے، دریا بہہ رہا ہے ، پھول کھل رہے ہیں ، ہوا چل رہی ہے۔

۔۔ کائناتی نظام اور اصل زندگی دونوں اپنے اپنے حساب سے چل رہی ہیں ــــــ ہاں ! اگر ذرا دیر کو کچھ رکا ہے تو وہ مصنوعی زندگی ہے جس نے کائناتی زندگی میں بگاڑ پیدا کرنے کی حتی الامکان کوشش کی ہے ۔ میرا خیال ہے میں نے انسان کو اس کی اصل کی طرف لوٹاکر کوئی جرم نہیں کیا ۔( اس نے سر جھکا لیا اور نظریں زمین پر گاڑ دیں )
استغاثہ: (جج کی جانب پلٹتا ہے) یور آنر ! ملزم کے جذباتی بیان اور آنسوؤں نے عدالت میں بیٹھے کمزور دل افراد پر گہرا اثر چھوڑا ہو گا ، مگر کیا کریں عدالت ثبوتوں اور گواہوں پر چلتی ہے جذباتی بیانات پر نہیں ۔

جو میڈیکل رپورٹس آپ کو پہلے پیش کی گئی تھیں ان سے صاف ظاہر ہے کہ اس وقت انسانی جان کو کس قدر خطرہ لاحق ہے لہذا میری معزز عدالت سے درخواست ہے کہ ملزم کو جلد سے جلد سزا سنائی جائے۔
(استغاثہ کے آخری جملے سے وکیل صفائی کے چہرے پر ایک دم پریشانی نمودار ہوتی ہے، ملزم کے حق میں گواہی دینے والے اپنی نشستوں پر جزبز ہوتے ہیں اور کمرہ عدالت میں موجود ملزم کی رہائی کے لیے دعاگو نفوس بے چینی سے پہلو بدلتے ہیں )
وکیل صفائی: (جج کی جانب دیکھ کر التجائیہ کہتا ہے) یور آنر میں اپنے موکل کے دفاع میں مزید کچھ شہادتیں پیش کرنا پاہتا ہوں پلیز مجھے ایک تاریخ اور دی جائے۔


استغاثہ: یور آنر! میرے فاضل دوست ایک بار پھر عدالت کا وقت ضائع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں (وکیل صفائی کی طرف مڑتا ہے) آپ کیا آسمان سے شہادتیں لائیں گے ؟ جب جرم ثابت ہو چکا ہے تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جج: (ہتھوڑی بجا کر) آرڈر۔ آرڈڑ۔ آرڈر فاضل وکلاء اپنے معزز پیشے کا خیال رکھیں ۔
استغاثہ" میں معذرت چاہتا ہوں یور آنر !
جج: (وکیل صفائی کی طرف متوجہ ہوتا ہے)آپ کو ایک تاریخ اور دی جاتی ہے ۔

آپ اپنی شہادتیں لائیں اور اگلی پیشی میں دونوں وکلاء اپنے بیانات اور جرح مکمل کریں ۔
عدالت برخاست کی جاتی ہے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
آخری پیشی
ملزم سیاہ لباس میں ملبوس کٹہرے میں کھڑا ہے ۔ بال پیشانی کو چوم رہے ہیں ۔

دل عجیب کشمکش میں مبتلا ہے ۔ کٹہرے میں کھڑے اسے بے اختیار اعراف والے یاد آگئے۔۔۔ ہاں ــــ! اعراف والے ۔۔۔ بیچ راستے میں روک لیے جانے والے، جیت کی خوشی اور شکست کے خوف کے درمیان معلق کہ نہ جانے کب کون سا فیصلہ سنا دیا جائے۔ اعراف والوں کو بھی اپنے رب سے امید ہو گی اور اسے بھی آج اس معزز عدالت سے امید ہی ہے ۔
جج کی تشریف آوری ہو چکی ہے ۔

انھوں نے کرسی پر بیٹھتے ہی سامنے میز پر پڑی سیاہ رنگ کی فائل اٹھائی ، چند لمحے اس پر نظریں جمانے کے بعد سر اوپر اٹھایا ، سامنے دیکھا اور کہا : وکیل صفائی اپنا گواہ پیش کریں ۔
وکیل صفائی اپنی جگہ سے اٹھا اور جج کی میز کے سامنے جا کھڑا ہوا ۔ گردن اٹھی ہوئی ہے، آواز سپاٹ اور بلند ہے ۔
وکیل صفائی: یور آنر میرا گواہ کوئی نیا نہیں بلکہ ہم سب کا جانا پہچانا سوشل میڈیا ہے۔


کٹہرے سے ذرا آگے دیوار کے ساتھ کھڑا شخص آواز لگاتا ہے : گواہ سوشل میڈیا حاظر ہو ۔
کمرہ عدالت میں ایک شخص نموراد ہوتا ہے اور دھیمی چال چلتا ہوا کٹہرے میں آ کھڑا ہوتا ہے ۔ وضع قطع پر جدیدیت کی گہری چھاپ ہے اور انداز بے باک ہے۔
وکیل صفائی چند قدم چلتا ہوا اس کے کٹہرے کے سامنے آ کھڑا ہوا اور اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سوال کیا: سوشل میڈیا آپ عدالت کو کیا بتانا چاہیں گے ؟
سوشل میڈیا نے جج کو دیکھا پھر ایک طائرانہ نگاہ کمرہ عدالت میں موجود نفوس پر ڈالی اور گویا ہوا : میں جو بھی کہوں گا سچ کہوں گا ، سچ کے سوا کچھ نہ کہوں گا ۔

(ایک لحظے کو رک کر وکیل کی طرف دیکھا اور سلسلہ کلام وہیں سے جوڑا ) جج صاحب میرے ذریعے پھیلائی گئی خبریں نوے فیصد جھوٹی ہیں جن کا مقصد قوم میں خوف وہراس پھیلانا ہے ۔ میرے ساتھ پرنٹ میڈیا بھی اس سلسلے میں یہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ہر بیماری کو کوروناوائرس کا نام دے کر اسے انٹرنیٹ کے ذریعے لوگوں تک پہنچایا جا رہا ہے اور تو اور مختلف بیماریوں میں مبتلا مریضوں کی ویڈیوز بنا کر ان پر کوروناوائرس کی چھاپ لگا دی گئی ہے جس کی وجہ سے عوام میں وحشت اور دہشت کے اثرات نمایاں ہیں ۔

یور آنر انسانی جسم اس کے دماغ کے مطابق کام کرتا ہے ۔ آپ جیسا سوچتے ہیں وہسا ہی آپ کے ساتھ ہونے لگتا ہے ۔ خوف و ہراس کی وجہ سے صحت مند انسانوں میں بھی کوروناوائرس کا تناسب بڑھ رہا ہے جب کہ اصل حقیقت اس کے برعکس ہے ۔ یور آنر میں اپنی بات کو ثابت کرنے کے لیے چند اہم، معزز اور قابل اعتماد شخصیات کے تاثرات بیان کرنا چاہتا ہوں جو مجھ پر اپ لوڈ ہو چکے ہیں ۔


یور آنر ایکسپریس اخبار کے مشہور کالم نگار جاوید چودھری نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ہمارے عوام کوروناوائرس سے نہیں بلکہ اس کے خوف سے متاثر ہو رہے ہیں ۔ اس کے علاوہ ایک اور شخصیت کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں کوروناوائرس کا پھیلاؤ خوف اور پریشانی کا سبب بن رہا ہے لیکن سوشم میڈیا کے جگت باز کسی صورت باز آنے کو تیار نہیں ۔ یور آنر کوروناوائرس کے متعلق مسلسل خواہ منفی اثرات مرتب ہوتے نظر آ رہے ہیں ۔

یور آنر! شاہ اویس نورانی کا کہنا ہے کہ کوروناوائرس سے اموات کے لیے پاکستانی میڈیا کا بس نہیں چل رہا کہ خود ہی چند افراد کو ہلاک کر دیں ۔ (لمحے بھر کو رک کر گہری سانس لی) یور آنر جو میڈیکل رپورٹس آپ کو پہلے پیش کی گئی تھیں وہ سراسر جھوٹی ہیں ۔ ان میں صرف کوروناوائرس کی نشاندہی کی گئی تھی جب کہ ان میں سے اکثریت کی اموات مختلف بیماریوں کی وجہ سے ہوئی تھیں ۔

یور آنر! میں یہ ہر گز نہیں کہہ رہا کہ کوروناوائرس نے ملک پر کوئی اثر نہیں کیا ، بلاشبہ کچھ فیصد ضرور کیا ہے مگر یہ بھی ہمارے عوام کی نداحتیاطی اور غلطی کے باعث ہوا ہے (چند لمحے خاموش رہتا ہے) یور آنر ! میں اقبال جرم کرتا ہوں اور اپنے آپ کو قانون کے حوالے کرتا ہوں ۔ ( اتنا کہہ کر وہ خاموشی سے گردن جھکا لیتا ہے)
جج ایک نظر حاضرین پر ڈال کر سیاہ دبیز فائل کی جانب متوجہ ہوتا ہے ، چند لمحے اس پر قلم گھسیٹتا ہے اور گردن اوپر اٹھا کر سپاٹ لہجے میں مخاطب ہوتا ہے: گواہوں کے بیانات اور ثبوتوں کی روشنی میں عدالت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ کوروناوائرس بے قصور ہے اور اس کے جراثیم عوام نے اپنی غفلت اور لاپرواہی کے سبب پیدا کیے ہیں ۔

پہلی رپورٹ پیش کرنے والے ڈاکٹر کو عدالت ٹرمینیٹ کرنے کا حکم جاری کرتی ہے ۔۔۔ ملزم کوروناوائرس سے تاہم جن حالات وواقعات میں یہ جرم سرزد ہوا ہے اس کو پیش نظر رکھتے ہوئے عدالت ملزم سے ہمدردی کا رویہ رکھتے ہوئے ملزم کے جیل میں گزارے گئے دنوں کو ملزم کی سزا قرار دیتی ہے ۔ چوں کہ ملزم عدالت میں سزا پوری کر چکے ہیں لہذا عدالت پولیس کو حکم دیتی ہے کہ ضروری کارروائی مکمل ہونے کے بعد ملزم کوروناوائرس کو فورا رہا کر دیا جائے۔


(کٹہرے میں کھڑے ملزم کی آنکھوں سے آنسو لگاتار ٹپک رہے ہیں لیکن اس کے باوجود ہونٹوں پر مسکراہٹ ہے ، کوروناوائرس کے حامی اور وکیل صفائی کے چہرے خوشی سے تمتما رہے ہیں ۔ حاضرین میں بیٹھے گنتی کے چند حامیوں کے تاثرات دیکھ کر اسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارہ حواری یاد آگئے ۔ اس نے سوچا حالات کیسے بھی کیوں نہ ہوں اور دنیا کتنی ہی مخاجف کیوں نہ ہو جائے رب تعالیٰ چند حواری ضرور بھیجتا ہے )
جج چند آخری جملے ادا کر رہا ہے :۔

۔۔۔۔۔۔ اور سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں کو عدالت سختی سے تنبیہہ کرتی ہے کہ کوروناوائرس کے متعلق کوئی خبر یا معلومات سوشل میڈیا پر شئیر نہیں کی جائے گی ۔ یہ حق صرف اور صرف حکومت کو حاصل ہو گا اور جو کوئی بھی اس کی خلاف ورزی کرئے گا اسے دفعہ 68، 140 اور 188 کے تحت قابل سزا سمجھا جائے گا اور اسے فوری گرفتار کر لیا جائے گا ۔
عدالت برخاست کی جاتی ہے ۔


جج کی دیکھا دیکھی تمام لوگ اپنی نشستوں سے اٹھ کھڑے ہوئےاور آہستہ آہستہ کمرہ عدالت سے باہر نکلنے لگے۔ استغاثہ بائیں ہاتھ کٹہرے میں کھڑے سوشل میڈیا (گواہ) کے قریب آیا ، چند لمحے رکا، غصے اور تنفر سے بھری ایک نگاہ اس پر ڈالی اور تیز قدموں سے عدالت سے باہر نکل گیا ۔
تمام لوگ کمرے سے نکل کر راہداری میں آ چکے ہیں ۔ سب کے چہرے کھلی کتاب کا منظر پیش کر رہے ہیں ۔ ہر کھلی کتاب پر الگ اور منفرد عنوان درج ہے ۔ غم، غصہ، حیرت ، نفرت ، حقارت، اذیت، اشتعال، محبت اور ہمدردی کے عنوانات میں جیت اور ہار کا عنوان سب سے سنہری لکھا ہے۔
اس کے چہرے پر نرم سی مسکراہٹ بکھری ، اس نے دل ہی دل میں سوچا ایک ہی فیصلہ کتنے عنوان دے گیا، اور عدالت سے باہر نکل گیا۔
تاریخ اشاعت: 2020-09-28

Your Thoughts and Comments