Perfect Match Making

پرفیکٹ میچ میکننگ۔۔۔لڑکی کے لیے شرائط

حمنہ افضل جمعرات ستمبر

Perfect Match Making
عمر 25 سال سے کم، رنگ گورا،لمبا قد، خوبصورت جسم، تعلیمی قابلیت ایم بی بی ایس،پوسٹ گریجویٹ، خواہش شادی کے بعد نوکری نہ کرنے کی، مشغلہ صرف اور صرف کھانا بنانا
لڑکے کے لئے شرائط
اپنا گھر، پرو فیشنل ڈگری، لاکھوں میں کھیلا تی نوکری آزادنہ طرزِ زندگی
یہ ہیں وہ پرفیکٹ مصالحے جو ایک پرفیکٹ میچ میکننگ کو جنم دیتے ہیں اور ان میں سے ایک بھی مصالحہ کم ہوجائے تو پرفیکٹ میچ
میکننگ کا ذائقہ خراب سمجھا جاتا ہے ہاں اسے اور سوادش بنانے کے لیے مصالحے زیادہ کیے جا سکتے ہیں لیکن کم ہونا میچ میکنگ کی توہین ہے۔


آج کل فرصت کے لمحات زیادہ ہونے کی وجہ سے نیٹ فلکس معاون خصوصی کا کردار ادا کر رہا ہے۔ تو بس ہم نے بھی وقت گزاری کے لیے اسی کا سہارا لے رکھا ہے۔

(جاری ہے)

کچھ دن پہلے ایک سیریز ختم کرنے کے بعد دوسری کا انتخاب کرنا چاہا تو ٹاپ ٹرینڈ انڈین میچ میکنگ پر نظر پڑی۔ ویسے بھی اب عمر کے اس حصے میں آ پہنچے ہیں جہاں میچ میکنگ کے سماجی تقاضے سمجھنے میں کوشا ہیں تو سوچا چلو اور تھوڑا نا چاہی معلومات میں اضافہ کیا جائے۔


یہ ایک نفسیاتی عمل ہے کہ جب کوئی ڈرامہ، فلم، گیت، کردار آپ کے خیالات آپ کی ذات یا آپ کے اردگرد کے ماحول کی ترجمانی کرنے لگے تو دل اس سے خود بخود منسلک ہونے لگتا ہے۔اس طرح ہر کہانی میں کہیں کہانیاں چھپی ملتی ہیں۔
میچ میکنگ ٹاپ ٹرنید سیریز کسی ایک فرد کی کہانی کو نہیں بلکہ زمانے کے اس غیر متغیر اسلوب کو بیان کرتی ہے جس کا جنم آب حیات پی کر صدیوں پہلے ہو چکا ہے (تو اس کو موت کا کوئی اندیشہ نہیں) جب تک ہم اس صدی میں جی رہے ہیں یہ سوچ ہمیشہ رہے گی یا شاید کوئی معجزہ ہو جائے اور سوچنے کی روش میں کچھ جدت آ جائے۔


میچ میکنگ آنٹی کا کردار کچھ نیا نہیں یہ مشرق سے لے کر مغرب تک خاص کر جنوبی ایشیائی ممالک سے خوب دوستی رکھتا ہے۔ یہ دوستی اس وقت اور گہری ہوجاتی ہے جب ان ممالک میں بسنے والے جواں سالی میں قدم رکھنے ہیں۔
پاکستان کی بات کی جائے تو یہاں بھی صورتحال ہمسایہ ملک سے مختلف نہیں۔ یہاں بھی پرفیکٹ میچ میکنگ کی تلاش کا یہ معروف کھیل خوب کھیلا جاتا ہے اور اس کھیل پر لاکھوں پیسے لوٹانے سے بھی گریز نہیں کیا جاتا۔


عجیب ہے نہ ہمارا یہ ملک اور اس میں بسنے والے ہمارے اسلام کے پیروکار، بڑے بڑے عالم فاضل جو یہ دیکھنے کے قائل ہی نہیں کہ شادی جیسے مقدس رشتے کی پیوندکاری کتنے کچے دھاگوں سے ہورہی ہے یہ کوئی نہیں سمجھ پا رہا کہ سماجی دباؤ اور سوشل اسٹیٹس کی کٹھ پتلی بن کر ہم کوئی بھی دھاگہ استعمال کرنے سے گریز نہیں کر رہے۔ ملال تو اس بات کا ہے کہ سمجھ تب آتی ہے جب کچے دھاگوں سے بنی اس نئے رشتے کی سلائی مختصر وقت کے بعد اکڑ جاتی ہے۔


ظاہر سی بات ہے جن رشتوں کے بنانے میں رنگ و نسب امیری، خوبصورتی، لالچ، جھوٹ، خود غرضی، دکھاوا، ںناوٹ، فریب اور چاپلوسی شامل ہو جائے وہ کتنے کھوکھلے ہوں گے اس بات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔
یہ ہر گھر کی کہانی ہے کہ لڑکا ہو یا لڑکی عمر کے مخصوص حصے میں آتے ہی انھیں شادی کے لیے یا یوں کہیے کہ پرفیکٹ میچ میکنگ میں کامیاب کرانے کے لئے اپنی زندگی اپنی مرضی سے جیو کا لالی پاپ دینے والی سوسائٹی اپنے بنائے ہوئے پل صراط سے گزارتی ہے۔


اور یہ لازم ہے کہ اگر پار لگنا ہے تو اسی پل صراط سے گزرنا پڑے گا۔ بس فرق اتنا ہے کہ جنس کے امتیاز سے اس پل کے سوالات مختلف ہوتے ہیں۔
اگر لڑکی ہے تو اس کا خوبصورت ، خوش اخلاق، کمپرومایزنگ،نوکری کے شوق سے بری الزمہ، گھریلو، باورچی (جو پرفیکٹ گول روٹی بنا سکے) ہونا واجب ہے۔
اب بات کر لیتے ہیں اس معاشرے میں مرد حضرات کی جنہیں میچ میکنگ کا حصہ بنانے کے لیے ان سب اوپر بیان کردہ خصوصیات سے تو مبرا کر دیا جاتا ہے لیکن ان کے لیے بھی نئے کاغذ پر نئے سوالات ترتیب دیے جاتے ہیں۔


کتنا کما لیتے ہو؟ کیا تنخواہ لاکھوں میں ہے؟ نوکری سرکاری ہے یا پرائیویٹ؟ گھر کتنی اراضی کا ہے؟ سواری کونسی ہے؟ شادی کے بعد علیحدہ رہو گے نہ؟
اف یہ اکیسویں صدی کی آزاد قوم اور اس کے سوالات۔۔
اور کمال کی بات یہ ہے کہ ان سب طے شدہ سوالات کے جوابات صرف اور صرف گردن ہلانے یعنی ہاں میں ہی قابل قبول ہے۔
جوڑے آسمان پر بنتے ہیں اگر ایسا ہے تو زمین پر ان جوڑوں کی تلاش میں اتنی پیچیدگیاں کیوں؟ کیا جوڑے بنانے والے خدا نےان کو بھی پیدا کیا ہے یا آنٹی میچ میکننگ جیسے معاشرے نے اس الجھاؤ کو جنم دیا ہے؟؟
شادی جیسے پاک رشتے میں کوئی برائی نہیں دو لوگوں کا ایک دوسرے سے پاکیزگی کے ساتھ عمر بھر کے لیے ناطہ جوڑنا اور نئی نسل کو پروان چڑھانا ایک خوبصورت اور حسبِ اطمینان سانچہ ہو سکتا ہے۔

لیکن سمجھنے کی بات یہ ہے کہ کیوں اس سانچے کو، اس خوبصورت رشتے کو بے مطلب رنگوں سے بدنما بنایا جارہا ہے اور جن ضروری رنگوں کا عکس (مطابقت،مفاہمت عزت، احترام، احساس ذمہ داری، برابری، پیار، محبت، رضا مندی، اپنائیت) چھلکنا چاہیے انہیں مٹایا جا رہا ہے۔
افسوس ہے کہ شادی جس کا لغوی معنی خوشی تو ہے لیکن خوشی کا ہر حرف اس پر فیکٹ میچ میکنگ میں اس طرح پس جاتا ہے کہ بس لوگوں کو دکھانے کے لیے خوشی کے کچھ بے سود ذرے رہ جاتے ہیں۔


یہی وجہ ہے کہ اب ہمارا معاشرا صرف لو یا ارینج میرج کا بندوبست نہیں کرتا بلکہ یہاں ان دو طرح کی شادیوں کے علاوہ ہر طرح کی شادی پائی جاتی ہے۔
عمر نکل جانے والی شادی
جیسے آپ کو ٹھیک لگتا ہے ویسے ہونے والی شادی
ہماری عزت کا سوال ہے والی شادی
ابھی نہیں کرو گے تو کب کرو گے والی شادی
ماں باپ کی ذمہ داری پوری کرنے والی شادی
معاشرے میں عزت برقرار رکھنے والی شادی
بس تیری شادی دیکھ کر پوتے کا منہ دیکھنے والی شادی
دو خاندانوں کے درمیان رشتہ بنانے والی شادی
ذات پات کو فروغ دینے والی شادی
صرف بچوں کے لئے ہونے والی شادی
یہ موضوع اتنا وسیع ہے کہ لکھنے کو تو ابھی بہت کچھ ہے لیکن بس اختتام اس سوال کے ساتھ کرنا چاہوں گی کہ انڈین میچ میکنگ (جیسے میں نے پرفیکٹ میچ میکنگ کا نام دیا ہے) جیسی دقیانوسی سیریز کا بھارت اور پاکستان دونوں میں ٹاپ ٹرنید ہونا کیا ایک لمحہ فکریہ نہیں جو اس جذبے کو فروغ دیتا ہے کہ ابھی بھی منزل بہت دور ہے۔

ابھی بھی ہمارا معاشرہ شادی جیسے مضبوط بندھن کی اصل تعریف سمجھنے سے قاصر ہے ابھی بھی اس رشتے کو جوڑتے وقت یہ دیکھا جاتا ہے کہ کس کا پلڑا بھاری ہے اور بھاری پلڑے کے ساتھ کون سربراہی سنبھالے کا اثر و رسوخ رکھتا ہے۔قابل افسوس ہے کہ اس رشتے میں برابری کے قائل ہم نہ پہلے تھے اور نہ شاید ہونے کو تیار ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2020-09-10

Your Thoughts and Comments