Rahat Indori

"راحت اندوری۔۔۔۔۔۔۔۔ اردو ادب کا ایک اور درخشاں ستارہ ٹوٹ گیا"

صفیہ ہارون جمعہ اگست

Rahat Indori
منفرد لب و لہجے کے عوامی شاعر، عوام کے جذبات و امنگوں کی ایک زندہ و توانا آواز ہمیشہ کے لیے غائب ہو گئی۔ علمی و ادبی حلقوں میں بےپناہ شہرت و مقام پانے والے لیجنڈ شاعر 11 اگست 2020ء کو کورونا وائرس سے لڑتے لڑتے اپنی جان کی بازی ہار گۓ۔ عالمی سطح پر ان کی وفات پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا گیا۔
راحت اندوری کا اصل نام راحت اللّٰہ تھا اور راحت بطور تخلص استعمال کرتے تھے۔

کئی جگہ ان کا اصلی نام راحت قریشی بھی لکھا گیا ہے۔ اس بےمثال شاعر نے یکم جنوری 1980ء کو بھارت کے شہر اندور میں آنکھ کھولی۔ان کے والد کا نام رفعت اللّٰہ قریشی اور والدہ کا نام مقبول النساء بیگم تھا۔ وہ اپنے والدین کی چوتھی اولاد تھے۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم نوتن اسکول اندور سے حاصل کی۔

(جاری ہے)

اس کے بعد 1978ء میں اسلامیہ کریمیہ کالج اندور سے بیچلر کی تعلیم مکمل کی۔

1975ء میں راحت اندوری نے برکت اللّٰہ یونیورسٹی بھوپال سے اردو ادب میں ایم۔اے کی ڈگری حاصل کی۔ پھر مزید اعلٰی تعلیم کے حصول کی خواہش انہیں مدھیہ پردیش لے آئی۔ 1985ء میں انہوں نے مدھیہ پردیش بھوج اوپن یونیورسٹی سے اردو ادب میں پی۔ایچ۔ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ وہ ایک اچھے شاعر اور ممتاز نغمہ نگار تھے۔ انہوں نے بےشمار ہالی۔وڈ فلموں کے لیے نغمے لکھے اور شہرتِ دوام حاصل کی۔

ان کا شمار ایسے ممتاز شعرا میں ہوتا ہے جن کو ان کے دورِ حیات میں ہی بےپناہ پزیرائی حاصل ہو جاتی ہے۔ انہوں نے جو گیت لکھے وہ بہت مقبول اور زبانِ زد عام ہیں۔ انہوں نے معاشرے کے ہر پہلو کو زیرِ قلم لانے کی کوشش کی۔ انہوں نے ہر موضوع پر قلم اٹھایا اور کمال مہارت سے معاشرتی زنندگی کے ہر پہلو کو اپنے الفاظ میں سمو دیا۔ انہوں نے سرزمین ِ پاکستان میں موجود روشنیوں کے شہر کراچی میں ہونے والے عالمی مشاعرے میں بھی شرکت کی۔

ان کی تصانیف میں
"میرے بعد"، "دھوپ دھوپ"، "پانچواں درویش"، "ناراض"، "موجود" اور "رت بدل گئی" شامل ہیں۔ وہ جس مشاعرے میں بھی شریک ہوتے ، لوگوں کا جم غفیر جمع ہو جاتا اور جب وہ اپنی شاعری سناتے تو ہر طرف سے مکرر مکرر کی صدائیں بلند ہونے لگتیں۔ ان کی شاعری عوام کو اپنے جذبات و احساسات کی عکاسی کرتی معلوم ہوتی ہے۔

جہانِ فانی میں بےحس لوگوں کے دلوں و رویوں میں موجود منافقتوں سے وہ عمر بھر خائف رہے۔ دوہرے چہرے، دوہرے لوگ، دوہرے معیار دیکھ کر ان کا دل کڑھتا تھا۔ اس کا برملا اظہار انہوں نے اپنی شاعری میں بھی کیا ہے۔

دلوں میں آگ ، لبوں پر گلاب رکھتے ہیں
سب اپنے چہروں پر دہری نقاب کرتے ہیں

عوام الناس کے لیے ان کی شاعری درس دیتی معلوم ہوتی ہے۔

اپنی شاعری میں جب کبھی بھی عزم و حوصلے کا درس دیتے تو ان کا انداز ناصحانہ معلوم ہوتا بلکہ بعض دفعہ یہ ناصحانہ انداز جارحانہ روپ بھی اختیار کر لیتا۔ وہ دکھوں میں گھری انسانیت کو ہر حال میں زندہ رہنے کا درس دیتے ہیں۔ غم و الم زندگی کا حصہ ہیں۔ ان مصائب و آلام سے گھبرانا نہیں چاہیے۔ یہی بات وہ منفرد طریقے سے اپنے شعر میں بیان کر رہے ہیں:

؎آنکھ میں پانی رکھو ، ہونٹوں پہ چنگاری رکھو
زندہ رہنا ہے تو ترکیبیں بہت ساری رکھو

ان کا متذکرہ بالا شعر ادا جعفریؔ کے اس شعر سے میل کھاتا نظر آتا ہے۔



؎اک شمع بجھائی تو کئی اور جلا لیں
ہم گردشِ دوراں سے بڑی چال چلے ہیں

راحت اندوری بلند حوصلہ و باہمت شاعر تھے۔ ان کی شاعری حرکت و عمل کا درس دیتی محسوس ہوتی ہے۔ وہ ہمیشہ جہدِ مسلسل کا درس دیتے رہے۔ جہاں وہ ایک طرف حرکت و عمل اور مسلسل سعی کی ترغیب دیتے نظر آتے ہیں، وہیں دوسری طرف خود سے قبل گزر جانے والے لوگوں کی کوتاہیاں بھی ببانگ ِ دہل بیان کرتے نظر آتے ہیں۔



؎ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے
کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے

انہوں نے ہمیشہ نفرت و حسد کے جیسے جذبات کی حوصلہ شکنی کی۔شاعر لوگ بہت حساس واقع ہوۓ ہیں۔ اردگرد پھیلے کرب کو اپنے الفاظ میں ڈھالنے کا ہنر بخوبی جانتے ہیں۔ ان کے دل خدمت ِ خلق کے جذبات سے لبریز ہوتا ہے۔ وہ جو ہمدردی و درد اپنے گھر والوں کے لیے محسوس کرتے ہیں ، وہی وہ راہ چلتے کسی اجننی کے لیے بھی محسوس کرتے ہیں۔

ادبی لوگ ادب کی دنیا سے وابستہ ہونے کے باعث دنیاوی و مادی چیزوں کی جانب بہت کم دھیان دیتے ہیں۔ اپنے شعر میں اپنے کسی بھائی سے مخاطب ہو کر لکھتے ہیں۔

؎میری خواہش ہے کہ آنگن میں نہ دیوار اٹھے
مرے بھائی مرے حصے کی زمیں تو رکھ لے

ان کی شاعری میں شہروں کی نسبت گاؤں اور گاؤں کے لوگوں کی محبت کا ذکر ملتا ہے۔

وہ شہر والوں کی بےحسی سے نالاں تھے۔ اس کا اظہار ان کی شاعری میں بھی موجود ہے۔

؎شہر والوں سے حقارت کے سوا کچھ نہ ملا
زندگی آ تجھے لے جاؤں کسی گاؤں میں

حق گوئی و بےباکی ان کی شخصیت کا خاصہ تھی۔ برمحل و برجستہ اشعار کہتے۔ جو دیکھتے تھے، وہی بیان کرنے اور لکھنے کے عادی تھے۔ سچ بات کو جھوٹ کے لبادے میں پیش کرنا انہیں ہرگز نہیں آتا تھا۔



؎ہمارے منہ سے جو نکلے وہی صداقت ہے
ہمارے منہ میں تمہاری زبان تھوڑی ہے

لوگوں کے بےبنیاد خدشات اور واہمات پر وہ نالاں نظر آتے تھے۔ وہ لوگوں کو متحرک پیہم عمل دیکھنے کے آرزو مند تھے۔ لوگوں کے ڈر کو بنیاد بناتے ہوۓ لکھتے ہیں:

؎لوگ ہر موڑ پہ رک رک کے چلتے کیوں ہیں
اتنا ڈرتے ہیں تو ہھر گھر سے نکلتے کیوں ہیں

راحت اندوری کے ہاں طرزِ اظہار کا انوکھا بانکپن موجود ہے۔

ان کے کلام کی جدت و ندرت انہیں دیگر ہم عصر شعرا سے ممتاز کرتی ہے۔ ان کے اشعار کی قادرالکلامی تو مشہور ہے ، لیکن اس کے علاوہ بھی ایک اور اعزاز ان کے حصے میں آیا۔ انہیں نعتِ رسولِ مقبول لکھنے کا شرف بھی حاصل ہوا۔ انہوں نے اپنی نعت کے ذریعے رسول اکرم ﷺ کی شانِ اقدس میں گلہاۓ عقیدت پیش کیے۔اپنی نعت کے اشعار میں اپنی عاجزی و کم مائیگی کا اظہار کرتے ہوۓ لکھتے ہیں:

؎زم زم و کوثر و تسنیم نہیں لکھ سکتا
یا نبی آپ کی تعظیم نہیں لکھا سکتا
میں اگر سات سمندر بھی نچوڑوں راحتؔ
ان کے نام کی اک میم نہیں لکھ سکتا

نبی کریم ﷺ پر درود پڑھنے سے ذہن و قلب میں روشنی پھیل جاتی ہے۔

مایوسی کے اندھیرے چھٹنے لگتے ہیں۔ محمدﷺ پر درودو سلام بھیجنے سے فکر و آگہی کے کئی در وا ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اسی مضمون کو راحت اندوری اپنی نعت میں یوں بیان کرتے ہیں۔

؎اندھیرے پاؤں نہ پھیلا سکیں زمانے میں
درود پڑھیے کہ ہر سمت روشنی ہو جاۓ

انسان جس دیس کا باسی ہوتا ہے، اس دیس سے اس کی محبت فطری ہوتی ہے۔

اپنے وطن سے محبت کا اظہار کرتے ہوۓ لکھتے ہیں:

؎ہم اپنی جان کی دشمن کو اپنی جان کہتے ہیں
محبت کی اس مٹی کو ہندوستان کہتے ہیں

راحت اندوری صاحب اپنی پیچھے شاعری کی ایک خوبصورت داستان چھوڑ گۓ ہیں۔ ان کی شاعری کے موضوعات متنوع، گوناگوں ، ہمہ گیر و ہمہ جہت ہیں۔ ان کی شعری کائنات کے موضوعات میں آدمی، زندگی ، موت ، کائنات ، زمانہ ، فطرت کے گہرے حقائق، جبر و اختیار کے خلاف آواز ، مقام ِ آدمیت ، رویوں کی بےحسی ، اپنے مقصد سے گہری وابستگی ، رسول پاکﷺ کی عظمت و رفعت کا اقرار، سماجی بےگانگی ، احساسِ مجبوری و بےقدری، لاحصلی، دردوغم، احتجاج ، انحراف ، غمِ ذات ، غم ِ کائنات ، اعتراف ِ حقیقت، اخلاقی اقدار کی پامالی، مادیت پرستی سے نفرت اور محبت و یگانگت کا فروغ ہیں۔

انہوں نے اپنی شاعری میں مختلف النوع تشبیہات، استعارات، اشارات، کنایات، محاورات، علامات، تلازمات، محاکات و پیکرات کا استعمال کیا ہے۔ ان کی شاعری معنی آفرینی، مضمون آفرینی، جدت ادا، طرز اور شوکتِ لفظی، بندش و چستی اور ندرتِ بیان کا ایک بحرِ بےکراں اپنے اندر سموۓ ہوۓ ہے۔ وہ ایک ایسے شاعر تھے کو ہر لمحہ نئی و منفرد باتوں کی کھوج میں رہتے۔


ان کی آخری غزل کے چند اشعار دیکھیے۔

نئے سفر کا جو اعلان بھی نہیں ہوتا
تو زندہ رہنے کا ارمان بھی نہیں ہوتا

تمام پھول وہی لوگ توڑ لیتے ہیں
وہ جن کی کمروں میں گلدان بھی نہیں ہوتا

خموشی اوڑھ کے سوئی ہیں مسجدیں ساری
کسی کی موت کا اعلان بھی نہیں ہوتا

وبا نے کاش ہمیں بھی بلا لیا ہوتا
تو ہم پر موت کا احسان بھی نہیں ہوتا

ان کی یہ خواہش پایہِ تکمیل تک پہنچ گئی۔

وہ اتنے خوددار تھے کہ انہوں نے موت کا احسان لینا بھی گوارا نہیں کیا۔ وبا کے باعث اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔
وہ بچپن سے ہی شعر و ادب کا ذوق و شوق رکھتے تھے۔ اختر شیرانی سے وہ گہری عقیدت رکھتے تھے۔ ساحر کو اپنا خضرِ راہ مانتے تھے۔ اس کے علاوہ وہ فیض سے بھی متاثر تھے۔انہوں نے بالی۔وڈ فلموں کے لیے نغمہ نگاری کی۔ بےشمار گیت لکھے اور گلوکاری کے کئی شوز میں بطور جج حصہ لیا۔

انہوں نے نئی نسل کو کئی رہنمایانہ، فلسفیانہ و صوفیانہ باتیں بتائی ہیں۔ جو ان کے فنی سفر، تلفظ اور گلوکاری میں بھہ ممدومعاون ثابت ہوئیں۔ ان کے شعر سنانے کا انداز خطیبانہ بھی تھا، ناصحانہ بھی تھا اور جارحانہ بھی تھا۔ وہ جانتے تھے کہ مشاعرے کو کس طرح سے لوٹا جاتا ہے۔ وہ اس فن سے بخوبی واقف تھے۔ ان کی غزل میں شعری طرزِ احساس اور جدید طرزِ احساس کا اتنا حسین امتزاج ملتا ہے کہ سامعین و قارئین کے منہ سے بےاختیار واہ واہ اور مکرر مکرر کی صدائیں بلند ہونے لگتی ہیں۔

وہ ایک ایسے شاعر تھے جو سادہ و سلیس زبان میں شاعری کرتے تھے۔ ان کی شاعری کوئی مشکل شاعری نہیں تھی۔ بعض شعرا اپنے کلام میں اس طرح کی پیچیدگی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ بہت غوروفکر اور ایک عرصہ گزر جانے کے بعد ان کی شاعری سمجھ میں آتی ہے۔ راحت اندوری صاحب کا شمار ایسے شعرا میں ہوتا تھا جو اس فکر سے بےنیاز تھے کہ پانچ سو سال بعد کا ادب انہیں کیسے پکارے گا ، کس حوالے سے یاد رکھے گا، وہ لمحہِ موجود میں جینے والے شاعر تھے۔

اپنی شاعری کے موضوعات وہ اپنے اردگرد کے لوگوں اور اردگرد کی دنیا سے تلاش کرتے تھے۔جب کبھی وہ شاعری سناتے، چاہے وہ سنجیدہ شاعری ہوتی یا مزاح میں لپٹی ہوئی، ان کے الفاظ پر ایک دم سارا مجمع واہ واہ کی صداؤں سے گونج اٹھتا تھا۔ عصرِ حاضر کے بےتکے شعر اور ان کے شعرا سے وہ خفا معلوم ہوتے تھے۔ ایک جگہ لکھتے ہیں:

"آج کل کے دو ٹکے کے لوگ بھی خود کو بڑا شاعر بنا کر پیش کرتے ہیں۔

لیکن میں نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ میں بڑا شاعر ہوں۔ کوشش ہے کہ زندگی میں کوئی ایک اچھا شعر کہ لوں۔ "

اپنی اس بات کو وہ تقریباً ہر مشاعرے میں دہراتے تھے۔ان کے جانے کے بعد ادبی دنیا میں جو خلا پیدا ہوا ہے، ایسا ممکن نہیں کہ وہ خلا کبھی بھر پاۓ گا۔ انہوں نے عام مسائلِ زندگی سے لے کر سیاست و میڈیا تک کے ہر موضوع کو نوکِ قلم لانے کی کوشش کی۔

سیاست کے حوالے سے ان کا ایک مشہور شعر ہے:

؎سرحدوں پر بہت تناؤ ہے کیا؟
کچھ پتا تو کرو چناؤ ہے کیا؟

پاک وہند میں جب بھی سیاسی اکھاڑا لگتا ہے، دونوں ممالک کی سرحدوں پر کم و بیش یہی حالات ہوتے ہیں۔ان کی یہ شعر پاک و ہند کی سیاسی منظر کشی کو بیان کر رہا ہے۔
ایوانوں میں بیٹھے اقتدار ِ اعلٰی کے لوگ جب میڈیا کے سامنے آتے ہیں تو ان سے اپنی مرضی کے بیانات لکھواتے ہیں۔

میڈیا جو کہ جمہوریت کا چوتھا ستون ہے، وہ اب مقتدر حلقے کی کٹھ پتلی بن کر رہ گیا ہے۔ آزادی ِ صحافت کہیں نام کو بھی نہیں ہے۔ اگر کوئی حکومتِ وقت کے خلاف آواز اٹھاتا ہے تو وہ آواز ہمیشہ کے لیے بند کر دی جاتی ہے۔ میڈیا کو زیرِ عتاب لاتے ہوۓ لکھتے ہیں:

؎سب کی پگڑی کو ہواؤں میں اچھالا جاۓ
سوچتا ہوں کوئی اخبار نکالا جاۓ

یوں معلوم ہوتا ہے کہ راحت اندوری صاحب سیاسی حالات اور سیاسی لوگوں کے منافقانہ طرزِ عمل سے بخوبی آگاہ تھے لیکن اپنی بےبسی کی وجہ سے ان کے خلاف کچھ نہیں کر سکتے تھے۔

انہوں نے تقریباً نصف صدی اردو ادب سے وابستہ رہ کر گزاری۔
ان کا منتخب کلام یہاں پیش کیا جا رہا ہے۔

منتخب کلام

چمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیں
ہم آسماں سے غزل کی زمین لائے ہیں

وہ اور ہوں گے جو خنجر چُھپا کے لائے ہیں
ہم اپنے ساتھ پھٹی آستین لائے ہیں

ہماری بات کی گہرائی خاک سمجھیں گے
جو پربتوں کے لیئے خوردبین لائے ہیں

ہنسو نہ ہم پہ کہ ہم بد نصیب بنجارے
سروں پہ رکھ کے وطن کی زمین لائے ہیں

مرے قبیلے کے بچوں کے کھیل بھی ہیں عجب
کسی سپاہی کی تلوار چھین لائے ہیں

راحت اندوری کے آخری مشاعرہ سے ایک غزل پیش ہے:

بلاتی ہے مگر جانے کا نہیں
یہ دنیا ہے ادھر کو جانے کا نہیں

زمیں بھی سر پہ رکھنی ہو تو رکھو
چلے ہو تو ٹھہر جانے کا نہیں

سڑک پر ارتھیاں ہی ارتھیاں ہیں
ابھی ماحول مر جانے کا نہیں

ہے دنیا چھوڑنا منظور لیکن
وطن کو چھوڑ کر جانے کا نہیں

میرے بیٹے! کسی سے عشق کر
مگر حد سے گزر جانے کا نہیں

؎بتوں سے مجھ کو اجازت اگر کھبی مل جاے
تو شہر بھر کے خداوں کو بے نقاب کروں.

ہے میرے چاروں طرف بھیڑ گونگے بہروں کی
کسے خطیب بناؤں کسے خطاب کروں

ان کی وفات پر ان کے سامعین و قارئین کے ساتھ ساتھ شعرا و ادبا حضرات کی جانب سے بھی دکھ کا اظہار کیا گیا۔

معروف شاعر رحمن فارس نے انہیں ان الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔

شعر کا سُونا چمن کچھ اور خالی ہوگیا
ہائے کیسے شخص سے اِندور خالی ہوگیا

سرحدوں کے اِس طرف بھی اُس کی راحت تھی بہت
ایسا لگتا ہے مرا لاہور خالی ہوگیا

کیسی کیسی رونقیں تھیں اُس کے اک اک شعر میں
اک زمانہ گُم ہُوا، اک دَور خالی ہوگیا

پوچھتے ہیں اب غزل آباد کے دیوار و در
یہ بھرا گھر کس طرح فی الفور خالی ہوگیا

ان کا شعری سرمایہ ہمیشہ ہم جیسے تشنگانِ علم و ادب کے لیے مشعلِ راہ بنا رہے گا۔

ان کے جانے سے ادبی دنیا میں جو خلا پیدا ہوا ہے، وہ کبھی نہیں بھر پاۓ گا۔ اللّٰہ رب العزت اس عظیم انسان کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرماۓ۔ آمین ثم آمین۔ وہ بظاہر تو دنیا کی نظروں سے اوجھل ہو گۓ ہیں لیکن اپنی شاعری کی بدولت وہ ہم سب کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔
تاریخ اشاعت: 2020-08-14

Your Thoughts and Comments