Shiv Kumar Batalvi

شیو کمار بٹالوی

امجد محمود چشتی پیر جولائی

Shiv Kumar Batalvi
مائے نی مائے میرے گیتاں دے نیناں وچ برہوں دی رڑک پوُے
ادھی ادھی راتیں اٹھ رون موئے متراں نوں مائے سانوں نیند نہ پوُے
نصرت فتح علی خان کے گائے اس مشہور گیت پہ سبھی لوگ سر دھنتے ہیں مگر یہ بات کم لوگ جانتے ہونگے کہ اس گیت کے خالق کون ہیں۔یہ جان کیٹس کی طرح جوانی میں بھرے میلے کو چھوڑنے والے پنجابی شاعر شیو کمار بٹالوی ہیں۔

23جولائی1936میں ضلع سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔تقسیم ہند کے بعد خاندان کے ہمراہ بٹالہ ضلع گورداسپورآبادہوئے۔رومانوی اور تخیلاتی مزاج کے حامل تھے۔خواب بننامشغلہ رہا۔دن بھرغائب رہنا معمول تھا۔کبھی دریا پہ اور کبھی مندر میں پائے جاتے۔تعلیمی اعتبار سے
کئی ڈگریوں کا آغاز کرتے مگر تکمیل سے قبل ہی خیرباد کہہ دیتے۔

(جاری ہے)

رامائن سے متاثر رہے۔

دیہاتی تہذیب،رومانس،ہجر ،رومانس اور جوگیوں کو شاعرانہ تخیل کا خوب حصہ بنایا۔تشبیہات اور استعارات کا استعمال کمال درجے کا کرتے تھے۔کہتے ہیں
آکھ سو نی مائے ٹک ہجراں دا پکیا
لیکھاں دے نے پٹھڑے توے
عہد شباب میں مینا نامی لڑکی پہ فدا ہوئے۔مگر اس کی بے وقت موت نے شیو کمار کو رُلا دیا۔ بعد ازاں جان کیٹس کی فینی بران کی طرح اک اور لڑکی کو دل دیا تو وہ کسی اورسے شادی کرکے امریکہ سدھار گئی۔

اس لڑکی کے پہلے بچے کی پیدائش پر شیو کمار نے شہرہ آفاق گیت لکھا
مائے نی میں اک شکرا یار بنایا
آخر ارونا نامی لڑکی سے شادی کر کے آخر تک ساتھ نبھایا۔پہلی کتاب ”پیڑاں دا پراگا“1960 میں لکھی۔ 1965میں منظوم ڈرامہ ، لونا ،، لکھا ا ور سب سے چھوٹی عمر میں سہتیااکیڈمی ایوارڈ حاصل کیا۔بے شمار غزلیں لکھیں۔عشق میں ناکامیوں اور ترقی پسندوں کی بے جا تنقید سے بہت مایوس ہوئے۔

مالی عسرت اور بیماری نے گھر میں ڈیرے ڈال دیے۔ رہی سہی کسر کثر ت شراب نوشی نے پوری کر دی۔ دوست احباب رفوچکر ہونے لگے۔بیوی نے چندی گڑھ ہسپتال داخل کروایا مگر اخراجات برداشت نہ کر پانے کے باعث اپنے میکے منتقل کر دیا جہاں 7 مئی1973 میں یہ کمال کا شاعر اس بے وفا اور فانی دنیا سے ”مکتی“پا گیا۔اس کی مشہور نظم ”الوداع“اس کے مرنے کے بعد چھپی۔برصغیر کے تمام مشہور گلوکاروں نے شیو کمار کے بے شمار گیت گا کر داد تحسین وصول کی۔جن میں جگجیت سنگھ،چترا سنگھ،پنکج اداس ،سریندر کور۔مہندر کپور۔ہنس راج ،غلام علی۔مہدی حسن اور استاد نصرت فتح علی خان شامل ہیں۔شیو کمار کہا کرتے تھے
” مجھے پی ایچ ڈی کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ لوگ مجھ پہ پی ایچ ڈی کرینگے “۔
تاریخ اشاعت: 2020-07-27

Your Thoughts and Comments