Yeh Bhi Qatal Hai

"یہ بھی قتل ہے "

ڈاکٹر راحت جبین جمعہ نومبر

Yeh Bhi Qatal Hai
منظر: کلینک
......
مریضہ: "السلام علیکم".

ڈاکٹر: وعلیکم السلام, بی بی! "آپ کو کیا بیماری ہے"؟
مریضہ: "میکو حمل کے لیے چیک اپ کروانا ہے" .
ڈاکٹر: "یہ 'میکو' کیا ہے , آپ کہیں کہ مجھے چیک اپ کروانا ہے".
مریضہ: "جی بس عادت ہوگئی ہے" .
ڈاکٹر: بی بی! "آپ پردے کے پیچھے لیٹ جائیں, میں الٹرا ساؤنڈ کرتی ہوں" .


ڈاکٹر: "الحمد اللہ, آپ حمل سے ہیں اور تقریبا دوسرا مہینہ جارہا ہے".
مریضہ: "ڈاکٹر صاحبہ میکو نہیں نہیں, مجھے یہ بچہ نہیں چاہیے , مجھے یہ بچہ گرانا ہے".
ڈاکٹر: "مگر یہ تو بہت بڑا گناہ ہے".
مریضہ: ڈاکٹر ! "میرا شوہر بھی راضی ہے.

(جاری ہے)

پہلے بھی ہمارے نزدیک لیڈی نے میرا ایک ایسا کیس کرا ہے" .
ڈاکٹر: بی بی! "پہلی بات تو یہ کہ مسئلہ تم دونوں کی رضامندی کا نہیں ہے .

بچہ گرانا بذات خود بہت بڑا گناہ ہے اور دوسری بات یہ 'کرا' نہیں 'کیا' ہوتا ہے".
مریضہ: "ڈاکٹر جی آپ تو مجھے پڑھانے لگ گئیں. ہم سب گھر میں ایسا ہی بولتے ہیں مگر آپ میری گلطی کو چھوڑیں , میری مجبوری کو سمجھیں".
ڈاکٹر: "کیا مجبوری ہے"؟
مریضہ: "میرے پہلے تین بچے ہیں, چھوٹا دس ماہ کا ہے".
ڈاکٹر: بی بی! "پھر آپ خود یا آپ کا خاوند اپنے چھوٹے بچے کا گلہ گھونٹ دیں" .


مریضہ: ڈاکٹر جی! "آپ یہ کیا کہہ رہی ہیں ہم اسے کیسے قتل کرسکتے ہیں".
ڈاکٹر: "یہی بات تو میں آپ کو سمجھا رہی ہوں کہ یہ بھی قتل ہے" .
مریضہ: "مگر اسے تو ابھی دو مہینے گزرے ہیں".
ڈاکٹر:" جی ہاں دو مہینے ہوئے ہیں مگر اس کے دل کی دھڑکن موجود ہے اور اگر موجود نہ بھی ہوتی تو بھی میں یہ کام نہیں کرتی.
مریضہ: میرے شوہر نے مولوی صاحب سے پوچھا ہے انہوں نے کہا ہے کہ یہ گناہ نہیں ہے ".
ڈاکٹر: محترمہ! "پھر آپ اس مولوی صاحب سے ہی یہ قتل کروائیں. یہ گناہ میرے گلے کیوں ڈال رہی ہیں" ؟
مریضہ: ڈاکٹر صاحب! "آپ اپنی پوری فیس لے لیں".
ڈاکٹر: "بی بی بات فیس کی نہیں ہے .

بات یہ ہے کہ آپ ایک انسان کو دنیا میں آنے سے روک رہی ہیں. انسان کا پیدا ہونا اور مرنا صرف اور صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے".
مریضہ:" تو کیا مولوی گلط کہہ رہے تھے"؟
ڈاکٹر:" لفظ 'گلط' نہیں غلط ہوتا ہے. مولوی غلط یا درست جو بھی کہہ رہے تھے, میں اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتی, میں بس اتنا جانتی ہوں کہ حدیث میں ہے کہ "جس نے ایک انسان کی جان بچائی, گویا اس نے پوری انسانیت کی جان بچائی اور جس نے ایک انسان کا قتل کیا اس نے پوری انسانیت کا قتل کیا". آپ یہ بچہ پیدا ہونے کے بعد مجھے دے دیں.
مریضہ: "بچہ کسی کو کیسے دیا جاسکتا ہے ؟ اور یہ تو بہت چھوٹا ہے ".
ڈاکٹر: محترمہ! "یہ ابھی چھوٹا ہے مگر جب یہ پیدا ہوگا , پھر بڑا ہوگا .

اس کی شادی ہوگی . اس کا ایک خاندان ہوگا جن میں بیٹے, بیٹیاں, نواسے, پوتے وغیرہ شامل ہونگے . تم صرف اس کا قتل کرنے نہیں جارہی ہو اس کے پورے خاندان کا قتل کرنے جارہی ہو".
مریضہ: "مگر مجھے بہت مشکل ہورہی ہے, چھوٹے بچے کے ساتھ" .
ڈاکٹر: بی بی! "یہ بات پہلے سوچنا چاہیے تھا . خاندانی منصوبہ بندی کی گولیاں اور ٹیکے ہیں وہ کھا لیتی کچھ عرصے کے لیے تاکہ بچہ نہ ہوتا".
مریضہ: "مگر وہ تو گناہ ہے".
ڈاکٹر: "واہ احتیاط کرنا گناہ ہے اور قتل کرنا ثواب".
مریضہ:" پتہ نہیں بڑے یہی کہتے ہیں".
ڈاکٹر: "قراں شریف میں ہے کہ اپنے بچوں کو ڈھائی سال تک اپنا دودھ پلاؤ .

اور سائنس نے واضح کردیا ہے کہ دودھ پلانے کے دوران ماں کے جسم میں ایسے ہارموں بنتے ہیں جن کی وجہ سے حمل نہیں ٹہرتا".
مریضہ: بی بی جی! " یہ باتیں مجھے معلوم نہیں تھیں. میں اپنے بچے کو زیادہ تر ڈبے والا دودھ دیتی ہوں اور سوچتی تھی کہ دو بچوں کے لیے ڈبے کا دودھ کیسے خریدوں".
ڈاکٹر: بی بی! "آپ ان ماؤں کو دیکھیں, جن کے جڑواں یا تین بچے ایک ساتھ ہوتے ہیں, کیا وہ ایک کو دودھ پورا نہ ہونے کی وجہ سے مار دیتی ہیں؟ آپ چھوٹے کو اوپر کی غذا بھی دیں اور جب یہ پیدا ہوگا تو اسے چار سے چھ ماہ تک صرف اپنا دودھ پلائیں .


مریضہ: ٹھیک ہے , میں اب یہ تکلیف برداشت کروں گی اور خاندانی منصوبہ بندی کے لیے آپ کے پاس آؤں گی".
ڈاکٹر: "جی بالکل اور عورت کی انہی تکالیف کے اجر میں اس کے قدموں کے نیچے جنت رکھ دی گئی ہے اور جو اپنی اولاد کا قتل ان کے دنیا میں آنے سے پہلے کرتے ہیں تو کیا انہیں یہ جنت نصیب ہوگی؟ کیوں کہ جسے آپ مار رہی ہیں , اس کی عدالت صرف اور صرف خدا کی عدالت ہے تو کیا عرش کا منصف یہ خون معاف کرے گا"؟
مریض: جی ڈاکٹر صاحبہ ! "میں اللہ سے توبہ کروں گی اور شوہر کو بھی سمجھاؤں گی".

تاریخ اشاعت: 2020-11-13

Your Thoughts and Comments