Zinge Awaz H, Baten Kro, Baten Kro

زندگی آواز ہے باتیں کرو،باتیں کرو

مراد علی شاہد بدھ دسمبر

Zinge Awaz H, Baten Kro, Baten Kro
شاعری زوال پذیر معاشروں کی میراث اور نثر ترقی یافتہ معاشرہ کی پہچان سمجھی جاتی ہے۔سخن وری ہو کہ نثر نگاری،معاشرتی موضوعات ہی خشتِ اول قرار پاتے ہیں۔صنف شاعری اور موضوعات سخن میں سے اگر انسان،انسانیت اور محبت جیسے لطیف جذبات کو منہا کر دیا جائے تو لفظوں اور مصرعوں کی بنت اور بے ترتیب زنجیر کے سوا کچھ حاصل نہیں رہ جاتا۔ایسے ہی فن نثر نگاری میں سے معاشرتی اقدار ،قوموں کے عروج و زوال کی داستان اور بنی نوع انسان کی تدریجی ترقی کے مراحل کو منفی کر دیا جائے تو لفظ کھوکھلے اور بے معنی ہو جاتے ہیں۔

ایک اچھے شاعر کی آنکھ میں زمانہ اور ہاتھ میں چاک ہوتا ہے،اور ایک کہنہ مشق ادیب ونثر نگار کی آنکھ میں انصاف کا ترازو اور ہاتھ میں قلم کی تلوار پکڑی ہوتی ہے۔دونوں ہی اپنے اپنے میدان میں معاشرتی نا انصافیوں کو اپنے الفاظ کے کالبد میں ایسے ڈھالتے ہیں کہ زمانہ ان کے اشعار اور نثر پاروں کا منتظر رہتا ہے۔

(جاری ہے)

ایسے ہی جیسے voltaire کی تحریروں کا فرانس کی نوجوان نسل انتظار کیا کرتی تھی۔

بہت کم ایسے دیکھنے میں آیا ہے کہ ایک اچھا سخن ور،کمال کا نثر نگار بھی ہو مگر خدا جسے چاہے کمال عطا فرما دے۔احمد مشتاق کا شمار بھی انہیں عطا کردہ رجلِ خاص میں ہوتا ہے جنہیں قدرت نے ہمہ جہت اوصاف و محاسن سے نوازا ہوتا ہے۔خاموش طبع احمد مشتاق دور حاضر میں غزل گو شعرا کے سرخیل خیال کئے جاتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ ترجمہ نگاری میں بھی اپنا منفرد اور الگ مقام رکھتے ہیں۔

1933 میں جب چوہدری رحمت علی لفظ پاکستان کی تخلیق فرما رہے تھے اسی سال پنجاب کے دل لاہور میں احمد مشتاق کی پیدائش ہوئی۔عمر کا زیادہ حصہ لاہور ہی میں اپنے دوستوں اور ہم مکتبوں کے ساتھ گزارا، جسے احمد مشتاق متاع حیات خیال کرتے ہیں۔تعلیم سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد بینک میں ملازمت اختیار کر لی اورچارٹرڈ بینک میں زندگی کا ایک حصہ گزارا اور اب مستقل طور پر ہوسٹن امریکہ میں سکونت پزیر ہیں۔

مجموعہ،گرد مہ تاب،محراب،اور اندھے لوگ ان کی وہ تصانیف ہیں جو منصہ شہود پر شہرتِ دوام حاصل کر چکی ہیں۔اگر ہم ان کی کتب کا تجزیہ کریں تو ”اندھے لوگ“ کے علاوہ شاعری کی تمام کتب کلیات کی شکل میں بھی مارکیٹ میں دستیاب ہے۔یہ وہ شاعری ہے جو احمد مشتاق نے1952 سے 2003 تک کی۔اس عرصہ میں انہوں نے غزل ہی میں طبع آزمائی کی۔2003 کے بعد یہ تسلسل کچھ دیر کو ٹوٹا مگر شاعر حضرات کو گوشہ نشینی کہاں راس آتی ہے،قلم سے رشتہ کیسے ٹوٹ سکتا ہے۔

دوبارہ لکھنا شروع کیا اور 2015 میں انکی ایک اور تخلیق کو ریختہ فاؤنڈیشن نے شائع کروانا اپنے لئے اعزاز سمجھا۔”اوراق خزانی“شمیم حنفی کی بلاشبہ ایک بہترین کاوش ہے۔اوراق خزانی در اصل مجموعہ ہے اداسی کا،اداس شاعری کا،انسان کے اندر کی کہانی کا،خزاں رسیدہ پتوں کا شاخ ِسر سبز سے ٹوٹ کر ہواؤں میں بکھر جانے کا،بلکہ کبھی کبھی تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہی مضامین پھر سے زندہ ہو کر احمد مشتاق کی شاعری میں در آئے ہیں جن کا تذکرہ قراطیس شاعری میں ناصر کاظمی نے بیان کیا۔

یعنی ہجرت کی شاعری،تقسیم کا درد،رفتگاں کے بچھڑنے کا غم،اور اداسی۔احمد کا ایسے موضوعات کو اپنی شاعری کا حصہ بنا نا بنتا بھی تھا۔کیونکہ ان کا ظہور بھی اسی پیرائے میں ہوا کہ جب سب یار یعنی انتظار حسین،ناصر کاظمی،مظفر سید،ظاہر ڈار، ٹی ہاؤس کی جوانی کے ماتھے کا جھومر اور سر کا تاج تھے۔اوراق خزانی کی کچھ شاعری فارسی سے ترجمہ شدہ ہے۔

ترجمہ نگاری میں بھی احمد مشتاق کو کمال کا ملکہ حاصل ہے۔”اندھے لوگ“دراصل پرتگال سے تعلق رکھنے والے ادیب،حوزے سارا ما گو کی انگریزی کتاب کا ترجمہ ہے،سارا ما گو کو ادب کے نوبیل انعام سے بھی نوازا جا چکا ہے۔اور ایسے ادیب کی کسی کتاب کا ترجمہ کرنا سہل کام نہیں ہوتا مگر احمد مشتاق نے نہ صرف اس کتاب کا ترجمہ کیا بلکہ میدان ادب میں انہیں اس کاوش پر پزیرائی سے بھی نوازا گیا۔

جو اس بات کی بین دلیل ہے کہ شاعری کے ساتھ ساتھ انہیں فن ترجمہ نگاری میں بھی ملکہ حاصل ہے۔ احمد مشتاق تہذیب کا شاعر ہے۔میری نظر میں تہذیب کا شاعر اُس کو کہا جاتا ہے جس میں لفظوں کے چناؤ کا سلیقہ ہو،احترام آدمیت اس کا خاصہ ہو،معاشرتی اقدار کی پاسداری کا خیال رکھتا ہو،تہذیب و تمدن کے آداب سے واقفیت خاص ہو،اور یہ تمام خوبیاں احمد مشتاق کی ذات اور شاعری میں بدرجہ اتم موجود ہیں۔

اسی لئے احمد مشتاق اپنی شاعری میں محبوب کو بدنام کرنے ،عشق کو عام کرنے اور محبت کے اعلان کو آداب عشق کے خلاف اور توہین محبوب خیال کرتے ہیں۔ اس لئے حال ِ دل نہیں کہتا کہیں جذبات میں نہ بہہ جاؤں احمد مشتاق وقت کی اہمیت و قدر کے خوب شناسا ہیں ،گزرتے لمحوں کا احساس انہیں کرب میں مبتلا کر دیتا ہے،یارانِ قدر دان اور اپنوں کے بچھڑنے کے دُکھ کو ہمیشہ اپنی ذات کا ہی ایک حصہ سمجھا اور اس احساس کا اظہار وہ شعری پیرہن میں اکثر کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

وہی گلشن ہے،لیکن وقت کی پرواز تو دیکھو کوئی طائر نہیں پچھلے برس کے آشیانوں میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ّّّّّّّّ باقی تو مکمل ہے تمنا کی عمارت اب گزرے ہوئے وقت کا شیشا نہیں ملتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دل فسردہ تو ہوا دیکھ کے اس کو لیکن عمر بھر کون جواں ،کون حسین رہتا ہے احمد مشتاق کی شاعری میں در،دریچہ،مکان،گھر،طاق اورآنگن کا تذکرہ بطور خاص ملتا ہے ،اس کی بھی ایک خاص وجہ ہے کہ ہر استعمال کردہ لفظ سے ان کی زندگی کی ایک کہانی جڑی ہوئی ہے۔

وا دیدگی ان کی شاعری میں اس قدر پائی جاتی ہے کہ لگتا ہے ہوسٹن کی چکا چوند روشنیاں بھی ان کے دل سے لا ہور کی گلیوں اور رونق کو جدا نہیں کر پائیں،اس کا ظہار وہ کچھ اس طرح فرماتے ہیں کہ مل ہی جائے گا کہیں دل کو یقیں رہتا ہے وہ اسی شہر کی گلیوں میں کہیں رہتا ہے اک زمانہ تھا کہ سب ایک جگہ رہتے تھے اور اب کوئی کہیں،کوئی کہیں رہتا ہے احمد مشتاق کی شاعری ،فن و شخصیت اور موضوعات کو ایک مضمون میں قلمبند کرنا یقینا ناممکن ہے،اس لئے آخر میں ان اشعار کا تذکرہ کرنا ضروری خیال کرتا ہوں جو لوگوں کے حافظوں میں اپنا مستقل اثر چھوڑے ہوئے ہیں اور ایک ضرب المثل کی صورت اختیار کر گئے ہیں۔

بلا کی چمک اس کے چہرے پہ تھی مجھے کیا خبر تھی کہ مر جائے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہی بستی وہی قصبہ ہمارا پتہ اب تک نہیں بدلا ہمارا وہی ٹوٹی ہوئی کشتی پرانی وہی ٹھہرا ہوا دریا ہمارا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تنہاکو ئی ملے تو کرے اس سے بات بھی ہر آدمی کے ساتھ ہے سایہ لگا ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چپ اگر بیٹھے رہے یونہی تو چپ لگ جائے گی زندگی آواز ہے باتیں کرو،باتیں کرو
تاریخ اشاعت: 2018-12-26

Your Thoughts and Comments