Ikhtitam Aur Ibtida

اختتام اور ابتدا

ہفتہ جون

Ikhtitam Aur Ibtida
شفیق الرحمن
جو ٹرین ڈینی بوتھ اور ہنری رائف کو گھر لائی تھی اسی سے ایک تیسرا سپاہی بھی اترا تھا۔وہ لنگڑاتا ہوا قصبے میں پھر رہا تھا۔دو قدم چل کر رک جاتا۔ہر چیز کو حیرت کی نگاہوں سے دیکھتا اور اپنے آپ سے کہتا۔
”تو یہ اتھیکا ہے۔یہ اس کی زمین ہے۔وہ اس کا آسمان ہے۔یہ سینما ہال جہاں اتھیکا کے رہنے والے قطار باندھے کھڑے ہیں۔

وہ لائبریری نظر آرہی ہے۔گرجا۔سکول۔کھیل کا میدان اور اس کے سامنے ایرا کی دکان یہ سانتا کلارا ایونیو آگیا۔وہ گھر نظر آرہا ہے۔“
سپاہی مکان کے سامنے کھڑا تھا۔
”یہاں امی ہوں گی‘بیس ہو گی اور ہومر اور یولی سیز۔پڑوس میں میری اور اس کے ابا مسٹر ایرینا ہوں گے۔“
اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔

(جاری ہے)

”اتھیکا میرے وطن‘میرے عزیز گھر۔


قصبے کی سیر سے اس کا جی نہیں بھرتا تھا۔
”وہ پارک نظر آرہا ہے جس میں لڑکے کھیل رہے ہیں‘اس عمارت میں قیدی ہوں گے۔“
وہ چلتا چلتا دور نکل گیا اور اس جگہ سے گزرا جہاں سپنگلر اور ہومر کنکریاں کھیل رہے تھے۔اندھیرے میں اچھی طرح دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ہار جیت سے بے خبر وہ کھیل میں مشغول تھے۔
ہومر نے دیکھا کہ ایک سپاہی کھڑا ہے۔

دفعتہ اسے یوں محسوس ہوا جیسے وہ اسے پہلے سے جانتا ہے۔اس سے کھیلا نہ گیا وہ سیدھا سپاہی کے پاس گیا اور بولا۔
”معاف کیجیے۔غالباً ہم دونوں پہلے کبھی ملے ہیں۔“
”جی ہاں۔“سپاہی نے جواب دیا۔
”کھیل میں شریک ہونا چاہیں تو میری جگہ لے لیں۔ویسے اندھیرا ہو گیا ہے۔“
”جی نہیں‘کھیلتے رہیے۔میں تماشا دیکھوں گا۔


ہومر سوچ میں پڑ گیا۔”جی شاید میں آپ سے کبھی نہیں ملا۔آپ اتھیکا میں رہتے ہیں؟“
”میں یہیں کا ہوں‘آج ہی واپس گھر پہنچا ہوں۔“
”تو اب آپ یہیں رہا کریں گے؟آپ کو لڑنے کے لئے تو نہیں بلایا جائے گا؟“
”مجھے فوج سے چھٹی مل گئی ہے۔دو گھنٹے ہوئے میں ٹرین سے اُترا ہوں۔تب سے قصبے کی سیر کرتا رہا۔سب جانی پہچانی جگہیں دوبارہ دیکھیں۔


”تو آپ اپنے گھر کیوں نہیں جاتے؟اپنے عزیزوں کو اپنی آمد کی اطلاع نہیں دینا چاہتے؟“
”میں گھر ضرور جاؤں گا‘عزیزوں کو اطلاع بھی دوں گا۔لیکن سب کچھ آہستہ آہستہ ہو گا۔ابھی تک مجھے یقین نہیں آیا کہ میں واقعی یہاں پہنچ گیا ہوں۔اِدھر اُدھر پھروں گا۔کچھ دیر سیر کرکے پھر گھر جاؤں گا۔“
وہ لنگڑاتا ہوا چل دیا۔

ہومر سوچ رہا تھا۔کچھ دیر سپاہی کو جاتے ہوئے دیکھتا رہا پھر سپنگلر سے بولا۔
”خبر نہیں۔یوں لگتا ہے جیسے میں اسے جانتا ہوں۔مسٹر سپنگلر کھیل ختم نہ کر دیں۔جی نہیں چاہ رہا۔“
”اچھا۔“سپنگلر نے کنکریاں پھینک دیں۔
”میں کیا کروں؟انہیں کیا بتاؤں؟کھانے پر میرا انتظار ہو رہا ہو گا۔وہ مجھے دیکھتے ہی بھانپ جائیں گے۔

میں تو کچھ نہیں بتاؤں گا‘مگر وہ فوراً سمجھ لیں گے۔“
”ابھی گھر مت جاؤ‘تھوڑی دیر یہیں ٹھہرو۔کچھ وقت لگے گا۔“دونوں چپ چاپ بنچ پر بیٹھے تھے۔ایک طویل وقفے کے بعد ہومر بولا۔ ”میں کس چیز کا انتظار کر رہا ہوں؟“
”تم منتظر ہو کہ اس کے وجود کا وہ حصہ جو فنا ہو چکا ہے وہ تم میں بھی مر جائے۔وہ حصہ جو خاک سے بنتا ہے اور خاک میں مل جاتا ہے۔

تم موت کا کرب محسوس کر رہے ہو۔اس لئے ابھی انتظار کرو۔جانکنی کی اذیت ختم ہو چکے گی تو اپنے آپ کو ہلکا پھلکا محسوس کرو گے۔جب تک زندگی ہے ایسے عذاب آئیں گے اور چلے جائیں گے۔لیکن جوں جوں وقت گزرتا جائے گا تمہاری روح ایک نئی جلا سے آشنا ہو گی۔زندگی کی لطیف ترین چیزوں سے قریب ہوتے چلے جاؤ گے۔اس وقت صبر و تحمل کی ضرورت ہے‘تاکہ جب گھر پہنچو تو تمہارے ساتھ موت کا سایہ نہ ہو۔

ابھی ہم دونوں یہاں بیٹھ کر انتظار کریں گے۔“
سپنگلر اور ہومر گھاس کے وسیع قطعے میں بیٹھے انتظار کرتے رہے۔
میکالے خاندان کے گھر سے نغموں کی صدائیں آرہی تھیں‘روح پرور‘تسکین پہنچانے والے نغمے فضاؤں میں مرتعش تھے۔جو عورت بربط بجا رہی تھی۔اس کا چہرہ محبت اور شفقت کے نور سے روشن تھا۔جس لڑکی کی انگلیاں پیانو کے پردوں پر رقصاں تھیں اس کے دل میں معصومیت تھی‘خلوص تھا۔

گانے والی کی حلیم طبیعت اس کی آواز سے عیاں تھی۔
چھوٹا بچہ انہماک سے سن رہا تھا۔اس کی آنکھوں میں ایسی چمک تھی جیسے اس کی صداقت پر پورا یقین ہے۔
دروازے کے باہر سیڑھیوں پر ایک سپاہی بیٹھا تھا۔وہ ابھی ابھی اپنے گھر پہنچا تھا۔گھر جسے اس نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔اندر اس کا خاندان تھا جسے وہ نہیں جانتا تھا۔
اسے یوں لگ رہا تھا جیسے وہ اپنے وطن میں پہنچ گیا ہے‘یہ گھر ہے اور یہ عزیز و اقارب ہیں۔


یولی سیز نے اسے دیکھ لیا‘اپنی بہن کو بتایا۔اس نے والدہ سے کہا۔”امی سیڑھیوں پر کوئی بیٹھا ہے۔“
”اسے اندر بلا لو۔جاؤ۔ڈرنے کی کوئی بات نہیں۔“
بیس باہر آئی۔
”اندر آجایئے‘آپ کو امی بلاتی ہیں۔“
سپاہی نے مڑ کر دیکھا۔
”تم بیس ہو۔یہاں میرے پاس آکر بیٹھ جاؤ۔میں گھبرایا ہوا ہوں۔میرے ہاتھ کانپ رہے ہیں۔

تھوڑی دیر کے لئے بیٹھ جاؤ۔“
لڑکی سیڑھیوں پر بیٹھ گئی۔
”آپ کون ہیں اور آپ کو میرا نام کیسے معلوم ہوا؟“
”میں نہیں جانتا کہ میں کون ہوں۔لیکن تم بیس ہو۔میں تمہاری والدہ کو جانتا ہوں‘تمہارے بھائیوں کو جانتا ہوں۔“
”آپ میرے بھائی مارکس کو جانتے ہیں؟“
”ہاں تمہارے بھائی نے مجھے زندگی بخشی‘گھر بخشا‘کنبہ عطا کیا‘وہ مجھے بھائیوں سے بھی زیادہ عزیز ہے۔


”وہ کہاں ہیں؟اور آپ کے ساتھ کیوں نہیں آئے؟“
سپاہی نے مارکس کی دی ہوئی انگوٹھی نکالی۔
”یہ مارکس نے تمہارے لئے بھیجی ہے۔“
لڑکی خاموش ہو گئی۔
”بھائی جان مر گئے؟“اس نے لرزتی ہوئی آواز میں پوچھا۔
”نہیں بیس‘میں قسم کھاتا ہوں کہ مارکس نہیں مرا۔وہ زندہ ہے۔“
ہومر صحن میں داخل ہوا۔

بیس دوڑ کر اس کے پاس پہنچی۔
”ہومر انہیں بھائی مارکس نے بھیجا ہے۔ کافی دیر سے یہ ہماری سیڑھیوں پر بیٹھے ہیں۔“
لڑکی اندر چلی گئی۔
ہومر نے ٹوبی جارج کو پہچان لیا۔
”آپ کا نام ٹوبی ہے۔پار ک میں آپ ہی سے ملاقات ہوئی تھی؟“
سپاہی نے سر ہلایا۔
”سہ پہر کو خبر پہنچ گئی تھی۔تار میری جیب میں رکھا ہے۔بتایئے اب کیا کریں؟“
”ہومر یہ خبر غلط ہے تار کو پھاڑ کر پھینک دو۔


ہومر نے جیب سے لفافہ نکالا اور اس کے پرزے پرزے کر دیئے۔پھر کچھ سوچ کر کاغذ کے ٹکڑوں کو جیب میں ڈال لیا۔
”ہومر مجھے سہارا دو۔میں خود اُٹھ نہیں سکتا۔“
ہومر نے ٹوبی کا بازو تھام لیا۔یتیم،بے گھرا ٹوبی‘ہومر کے کندھے کا سہارا لے کر اُٹھا۔
”امی۔“ہومر کی آواز میں غم کی رمق تک نہ تھی۔
”امی !ہم گیت سنیں گے۔

آج سپاہی واپس گھر آیا ہے اس کا استقبال کیجیے۔“
موسیقی شروع ہو گئی۔”میں چاہتا ہوں کہ کچھ دیر یہیں کھڑا رہوں۔“ٹوبی بولا۔
ہومر اور ٹوبی کے چہروں پر مسکراہٹ آگئی۔ٹوبی اپنے دل کے غم کو چھپانے کی کوشش کر رہا تھا۔ہومر کو ایک نامعلوم سی تسکین محسوس ہو رہی تھی۔
میری گیت گانے لگی۔
ننھا یولی سیز باہر آیا اور سپاہی کا ہاتھ تھام کر اس کے ساتھ لگ کر کھڑا ہو گیا۔


گیت ختم ہوا تو مسز میکالے‘بیس اور میری آکر دروازے میں کھڑی ہو گئیں۔
ماں چپ چاپ کھڑی اپنے لڑکوں کو دیکھ رہی تھی جو اب دو رہ گئے تھے۔اجنبی درمیان میں کھڑا تھا۔ایک طرف ہومر تھا۔دوسری طرف یولی سیز۔
اجنبی جو اس کے مرحوم بیٹے کا دوست تھا‘مسکرایا۔
ماں کی غم زدہ آنکھوں میں روشنی آگئی۔وہ مسکرانے لگی۔
آج اس کا پردیسی واپس آگیا تھا۔اس کا مارکس لوٹ آیا تھا۔
ماں اپنے تینوں بیٹوں کو لے کر گھر میں چلی گئی۔
تاریخ اشاعت: 2021-06-05

Your Thoughts and Comments