بند کریں
ادب اردو ادبمرثیہ غالب از الطاف حسین حالی

مزید اردو ادب

- مزید مضامین

مزید عنوان

مرثیہ غالب از الطاف حسین حالی مرثیہ غالب از الطاف حسین حالی ترکیب بند ، مرثیہ 1285 ھ بہ مطابق 1869 شاہد ماکلی خواجہ الطاف حسین حالی اگر غزل گوئی ترک کر کے نیچرل اور قومی و اصلاحی شاعری کی طرف نہ آتے تو آج غزل کے چند بڑے شاعروں میں سے ہوتے۔ حالی نے اٹھارہ انیس سال کی عمر میں شاعری کاآغاز کیا۔ اس وقت ہندوستان کی فضا غالب، مومن ،ذوق، شیفتہ اور ظفر کی نواوں سے گونج رہی تھی۔حالی نے مرزا غالب کی شاگردی اختیار کی۔ غالب حالی کے رنگ تغزل اور جوش طبع کی تعریف کرتے تھے۔حالی نے شعر میں وہی رنگ اختیار کیا جو غالب،مومن ، شیفتہ اور آزردہ کا تھا۔چونکہ حالی اردو میں نیچرل اور قومی شاعری کے بانیوں میں سے ہے اس لیے لوگوں نے ان کی غزل کو نظر انداز کر دیا۔حالانکہ ان کی غزل کا رنگ بہت ہی موثر اور دل نشین ہے۔حالی کو غالب سے بڑی محبت اور عقیدت تھی۔غالب کی وفات پر دیگر شاگردوں اور معاصرین نے بھی مرثیے لکھے مگرجو مرثیہ حالی نے لکھا وہ اپنی مثال آپ ہے اور اردو مرثیے کی تاریخ میں ایک شہکار کا درجہ رکھتا ہے۔ حالی 1819میں پانی پت میں پیدا ہوئے۔پانی پت ہی میں حضرت بوعلی قلندر کا مزار پر انوار ہے جن کی روحانی حکومت کا ثبوت اس حکایت سے ملتا ہے جو حضرت علامہ اقبال نے اپنی مثنوی اسرار و رموز میں بیان کی ہے۔خواجہ حالی کے سر سے ان کا والدین کا سایہ بچپن ہی سے اٹھ گیا تھا۔ قدرت نے حالی کی طبیعت میں ایک جوہر خاص ودیعت کیا تھا۔ انہیں پہلے قرآن مجید حفظ کرایا گیا ۔پھر آپ نے میر ممنون دہلوی کے بھتیجے سید جعفری سے ادب کے علاوہ فارسی پڑھی اوراس میں مہارت حاصل کی۔پھر حاجی اسماعیل انصاری سے صرف و نحو پڑھی۔پانی پت کے مشہور علما و فضلا مولوی عبدالرحمن، مولوی محب اللہ، اور مولوی قلندر علی سے منطق ، فلسفہ، حدیث اور فقہ کا سبق لیا۔ عربی تعلیم کے لیے دلی گئے اور وہیں سے ایک عربی رسالہ بھی جاری کیا۔اسی اثنا میں حالی کی شادی ہو گئی اور آپ ضلع حصار کے کلکٹر کے دفتر میں ملازم ہو گئے۔ تھوڑے ہی عرصے بعد 1857 کا انقلاب برپا ہوا اور آپ ملازمت چھوڑ کر پانی پت چلے آئے جہاں کچھ عرصہ بیکار بیٹھے رہے۔ 1874 میں محکمہ تعلیم پنجاب کے ڈائریکٹر کرنل ہائرائیڈ نے لاہور میں ایک نئی قسم کے مشاعرے کی بنیاد ڈالی جس میں نظم کے لیے کوئی عنوان تجویز کیا جاتا تھا۔ ان مشاعروں کے روح رواں خواجہ حالی، محمد حسین آزاد اور مرزا ارشد گورگانی تھے۔ یہاں سے حالی کی نیچرل شاعری کا آغاز ہوا۔انہی ایام میں سر سید نے حالی کو قوم کی طرف متوجہ کیا ۔ چنانچہ انہی کی تحریک پر انہوں نے 1871 میں مسدس حالی لکھی۔ مرثیہ غالب کیا کہوں حال دردپنہانی وقت کوتاہ و قصہ طولانی عیش دنیا سے ہو گیا دل سرد دیکھ کر رنگ عالم فانی کچھ نہیں جز طلسم خواب و خیال گوشہ فقر و بزم سلطانی ہے سراسر فریب و وہم و گماں تاج فغفور و تخت خاقانی بے حقیقت ہے شکل موج سراب جام جمشید و راح ریحانی لفظ مہمل ہے نطق اعرابی حرف باطل ہے عقل یونانی ایک دھوکا ہے لحن دائودی اک تماشا ہے حسن کنعانی نہ کروں تشنگی میں تر لب خشک چشمہ خضر کا ہو گر پانی لوں نہ اک مشت خاک کے بدلے گر ملے خاتم سلیمانی بحر ہستی بجز سراب نہیں چشمہ زندگی میں آب نہیں جس سے دنیا نے آشنائی کی اس سے آخر کو کج ادائی کی تجھ پہ بھولے کوئی عبث اے عمر تو نے کی جس سے بے وفائی کی ہے زمانہ وفا سے بیگانہ ہاں قسم مجھ کو آشنائی کی یہ وہ بے مہر ہے کہ ہے اس کی صلح میں چاشنی لڑائی کی ہے یہاں حظ وصل سے محروم جس کو طاقت نہ ہو جدائی کی ہے یہاں حفظ وضع سے محروم جس کو عادت نہ ہو گدائی کی خندہ گل سے بے بقا تر ہے شان ہو جس میں دلربائی کی جنس کاسد سے ناروا تر ہے خوبیاں جس میں ہوں خدائی کی بات بگڑی،رہی سہی، افسوس آج خاقانی و سنائی کی رشک عرفی و فخر طالب مرد اسد ا للہ خان غالب مرد بلبل ہند مر گیا ہیہات جس کی تھی بات بات میں اک بات نکتہ داں، نکتہ سنج، نکتہ شناس پاک دل، پاک ذات، پاک صفات شیخ اور بذلہ سنج شوخ مزاج رند اور مرجع کرام و ثقات لاکھ مضموں اور اس کا ایک ٹھٹھول سو تکلف اور اس کی سیدھی بات دل میں چھبتا تھا وہ اگر بمثل دن کو کہتا تھا دن اور رات کو رات ہو گیا نقش دل پہ، جو لکھا قلم اس کا تھا اور اس کی دوات تھیں تو دلی میں اس کی باتیں تھیں لے چلیں اب وطن کو کیا سوغات اس کے مرنے سے مر گئی دلی خواجہ نوشہ تھا اور شہر برات یاں اگر بزم تھی تو اس کی بزم یاں اگر ذات تھی تو اس کی ذات ایک روشن دماغ تھا نہ رہا شہر میں اک چراغ تھا نہ رہا دل کو باتیں جب اس کی یاد آئیں کس کی باتوں سے دل کو بہلائیں کس کو جا کر سنائیں شعر وغزل کس سے دادسخنوری پائیں مرثیہ لکھ کے لائے ہیں احباب کس سے اصلاح لیں کدھر جائیں پست مضموں ہے نوحہ استاد کس طرح آسماں پہ پہنچائیں لوگ کچھ پوچھنے کو آئے ہیں اہل میت جنازہ ٹھہرائیں لائیں گے پھر کہاں سے غالب کو سوئے مدفن ابھی نہ لے جائیں اس کو اگلوں پہ کیوں نہ دیں ترجیح اہل انصاف غور فرمائیں قدسی و صائب و اسیر و کلیم لوگ جو چاہیں ان کو ٹھہرائیں ہم نے سب کا کلام دیکھا ہے ہے ادب شرط منہ نہ کھلوائیں غالب نکتہ داں سے کیا نسبت خاک کو آسماں سے کیا نسبت نثر، حسن و جمال کی صورت نظم ، غنج و ولال کی صورت تہنیت، اک نشاط کی تصویر تعزیت، اک ملال کی صورت قال اس کا وہ آئینہ جس میں نظر آتی تھی حال کی صورت اس کی توجیہہ سے پکڑتی تھی شکل امکاں، محال کی صورت اس کی تاویل سے پکڑتی تھی رنگ ہجراں، وصال کی صورت لطف آغاز سے دکھاتا تھا سخن اس کا ،مآل کی صورت چشم دوراں سے آج چھپتی ہے انوری و کمال کی صورت لوح امکاں سے آج مٹتی ہے علم و فضل و کمال کی صورت دیکھ لو آج ،پھر نہ دیکھو گے غالب بے مثال کی صورت اب نہ دنیا میں آئیں گے یہ لوگ کہیں ڈھونڈے نہ پائیں گے یہ لوگ شہر میں جو ہے سوگوار ہے آج اپنا بیگانہ اشک بار ہے آج نازش خلق کا محل نہ رہا رحلت فخر روزگار ہے آج تھا زمانے میں ایک رنگیں طبع رخصت موسم بہار ہے آج بار احباب جو اٹھاتا تھا دوش احباب پر سوار ہے آج تھی ہر اک بات نیشتر جس کی اس کی چپ سے جگر فگار ہے آج دل میں مدت سے تھی خلش جس کی وہی برچھی جگر کے پار ہے آج دل مضطر کو کون دے تسکیں ماتم یار غمگسار ہے آج تلخی غم کہی نہیں جاتی جان شیریں بھی ناگوار ہے آج کس کو لاتے ہیں بہر دفن کہ قبر ہمہ تن چشم انتظار ہے آج غم سے بھرتا نہیں دل ناشاد کس سے خالی ہوا جہان آباد نقد معنی کا گنج داں نہ رہا خوان مضموں کا میزباں نہ رہا ساتھ اس کے گئی بہار سخن اب کچھ اندیشہ خزاں نہ رہا ہوا اک ایک کارواں سالار کوئی سالار کارواں نہ رہا رونق حسن تھا بیاں اس کا گرم بازار گل رخاں نہ رہا عشق کا نام اس سے روشن تھا قیس و فرہاد کا نشاں نہ رہا ہو چکیں حسن و عشق کی باتیں گل و بلبل کا ترجماں نہ رہا اہل ہند اب کریں گے کس پر ناز رشک شیراز و اصفہاں نہ رہا زندہ کیونکر رہے گا نام ملوک بادشاہوں کا مدح خواں نہ رہا کوئی ویسا نظر نہیں آتا وہ زمیں اور وہ آسماں نہ رہا اٹھ گیا، تھا جو مایہ دار سخن کس کو ٹھیرائیں اب مدار سخن کیا ہے، جس میں وہ مرد کار نہ تھا اک زمانہ کہ سازگار نہ تھا شاعری کا کیا حق اس نے ادا پر کوئی اس کا حق گزار نہ تھا بے صلہ مدح، شعر بے تحسیں سخن اس کا کسی پہ بار نہ تھا نذر سائل تھی جان تک لیکن در خور ہمت اقتدار نہ تھا ملک و دولت سے بہرہ ور نہ ہوا جان دینے پہ اختیار نہ تھا خاکساروں سے خاکساری تھی سربلندوں سے انکسار نہ تھا لب پہ احباب سے بھی تھا نہ گلہ دل میں اعدا سے بھی غبار نہ تھا بے ریائی تھی زہد کے بدلے زہد اس کا اگر شعار نہ تھا ایسے پیدا کہاں ہیں مست و خراب ہم نے مانا کہ ہوشیار نہ تھا مظہر شان حسن فطرت تھا معنی لفظ آدمیت تھا کچھ نہیں فرق باغ و زنداں میں آج بلبل نہیں گلستاں میں شہر سارا بنا ہے بیت حزن ایک یوسف نہیں جو کنعاں میں ملک یکسر ہوا ہے بے آئیں اک فلاطوں نہیں جو یوناں میں ختم تھی اک زباں پہ شیرینی ڈھونڈتے کیا ہو سیب و رماں میں حصر تھی اک بیاں میں رنگینی کیا دھرا ہے عقیق و مرجاں میں لب جادو بیاں ہوا خاموش گوش گل وا ہے کیوں گلستاں میں گوش معنی شنو ہوا بے کار مرغ کیوں نعرہ زن ہے بستاں میں وہ گیا جس سے بزم روشن تھی شمع جلتی ہے کیوں شبستاں میں نہ رہا جس سے تھا فروغ نظر سرمہ بنتا ہے کیوں صفاہاں میں ماہ کامل میں آ گئی ظلمت آب حیواں پہ چھا گئی ظلمت ہند میں نام پائے گا اب کون سکہ اپنا بٹھائے گا اب کون ہم نے جانی ہے اس سے قدر سلف ان پر ایمان لائے گا اب کون اس نے سب کو بھلا دیا دل سے اس کو دل سے بھلائے گا اب کون تھی کسی کی نہ جس میں گنجائش وہ جگہ دل میں پائے گا اب کون اس سے ملنے کو یاں ہم آتے تھے جا کے دلی سے آئے گا اب کون مر گیا قدر دان فہم سخن شعر ہم کو سنائے گا اب کون مر گیا تشنہ مذاق کلام ہم کو گھر سے بلائے گا اب کون تھا بساط سخن میں شاطر ایک ہم کو چالیں بتائے گا اب کون شعر میں ناتمام ہے حالی غزل اس کی بنائے گا اب کون کم لنا فیہ من بکی و عویل و عتاب مع الزمان طویل ترجمہ : اس کے غم میں ہم کتنا روتے اور آہ و زاری کرتے ہیں اور کتنے عرصے سے زمانے کو ملامت کرتے ہیں۔

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان