اینکر عمران خان صاحب آپ جیت گئے،فردوس عاشق اعوان جھوٹ سمیت ہار گئیں

Anchor Imran Khan Sahab Aap Jeet Gaye,Firdous Ashiq Awan Jhoot Sameit Haar Gaye

Ahmad Tariq احمد طارق ہفتہ مئی

Anchor Imran Khan Sahab Aap Jeet Gaye,Firdous Ashiq Awan Jhoot Sameit Haar Gaye
پاکستان تحریک انصاف ایک ایسی جماعت ہے جو حکومت میں تبدیلی کا نعرہ لگا کر آئی۔ الیکشن سے قبل وزیراعظم پاکستان عمران خان صاحب نے قوم سے کئی وعدے کیے جنہیں وہ پورا کرنے میں ناکام نظر آرہے ہیں۔ ان چند وعدوں میں سے ایک میڈیا کی آزادی کا نعرہ تھا، جسے وزیراعظم صاحب نہ صرف خصوصی انٹرویوز میں باربار دہراتے رہے بلکہ جلسے اور ریلیوں میں بھی یہ وعدہ کئی بار کیا گیا،بات یہیں ختم نہیں ہوتی، حکومت میں آتے ہی سب سے پہلی تقریر میں وزیراعظم صاحب نے میڈیا کا شکریہ ادا کیا اور ان کے بقول اس کامیابی میں میڈیا کا بہت بڑا کردار تھا، نہ صرف یہ بلکہ ان کے نزدیک یہ کامیابی میڈیا کے بغیر ادھوری تھی۔

خیر! آزادی صحافت کا وعدہ بھی دوسرے وعدوں کی طرح وفا نہ ہوسکا۔ کیا خوب ہی کسی نے کہا ہے کہ سیاست میں کبھی کسی حکمران کے وعدے پر تب تک یقین نہ کیا جائے جب تک کہ وہ حکومت میں نہ آجائے۔

(جاری ہے)

 

ہمارے ہینڈسم وزیراعظم نے شروع دن سے ہی اپنی کابینہ میں ان سیلیکٹڈ لوگوں کو شامل کرنا شروع کردیا جنہیں 2018کے عام انتخابات میں عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا، انہیں چند سیلیکٹڈ وزیروں میں سے ایک ہماری فردوس عاشق اعوان صاحبہ تھیں، جنہیں سیالکوٹ کے حلقہ این اے 72میں مسلم لیگ ن کے ارمغان سبحانی نے عبرتناک شکست دی ۔

لیکن ہمارے ہینڈسم وزیراعظم صاحب نے انہیں عہدہ دینے سے قبل یہ تک نہ سوچا کہ فردوس عاشق اعوان صاحبہ کو تو ان کے حلقے کی عوام نے مسترد کردیا ہے۔ خیر! سیلیکٹڈ فردوس عاشق اعوان صاحبہ کو18اپریل 2019کو وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات مقرر کردیا جاتا ہے۔اور وہ اس عہدے پر تقریباًایک سال رہتی ہیں، اور پھر ایک سال بعد یعنی کچھ دن قبل مختلف وجوہات کی بنا پر وزیراعظم صاحب انہیں عہدے سے ہٹادیتے ہیں۔

عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد پاکستانی صحافت کا بڑا نام اینکر عمران خان صاحب اپنے یوٹیوب چینل پر ان کے عہدے سے ہٹائے جانے کی وجہ بتاتے ہیں اور ان کے وہ راز سامنے لیکر آتے ہیں جن کی وجہ سے وزیراعظم انہیں عہدے سے ہٹائے جانے پر مجبور ہوئے، یہ وہ راز تھے جو پوری قوم جاننا چاہتی تھی اورایک مرتبہ پھر اینکر عمران خان صاحب نے سب سے پہلے یہ خبر اپنے یوٹیوب چینل پر دی اور حق اور سچ کی آواز بنے۔

 
جیسے ہی فردوس عاشق اعوان صاحبہ کے کرتوت عوام کے سامنے آتے ہیں تو بجائے اس کے ڈاکٹر صاحبہ پوری قوم سے معافی مانگتیں، فردوس عاشق اعوان نے سینئر تجزیہ نگار عمران خان صاحب کو 2ارب روپے ہرجانے کا نوٹس بھجوادیا، اور کہا کہ اپنی خبر پر فوری طورپر معافی مانگیں نہیں تو 2ارب روپے دینے پڑجائیں گے۔ جی ہاں! یہ اسی جماعت کی (الیکشن میں عبرتناک شکست کھانے والی) رہنما ہیں جو جماعت الیکشن سے قبل میڈیا کی آزادی پر بات کرتی تھی اور آزادی صحافت کے گن گاتی تھی۔

رواں ہفتے مذکورہ نوٹس بھیجا گیالیکن ہمارے ہینڈسم وزیراعظم بھی بالکل خاموش ہیں اور سب تماشا دیکھ رہے ہیں۔ صحافت کا طالب علم ہونے کی حیثیت سے میں اینکر عمران خان صاحب کو پوری قوم کی جانب سے سلیوٹ کرتا ہوں جنہوں نے فردوس عاشق اعوان صاحبہ کی مبینہ کرپشن کو عوام کے سامنے بے نقاب کیا، کیونکہ یہ عوام کیلئے جاننا ضروری ہے کہ ان کا پیسا کون کھا رہا ہے اور کونسا وزیر کرپشن میں ملوث ہے۔

ساتھ ہی ساتھ وزیراعظم سمیت ان کی ٹیم کو (جو حکومت میں آنے کے بعد خود کو خدا سمجھنے لگ گئے ہیں) سن لینا چاہیئے کہ حق اور سچ کی آواز کو کبھی دبایا نہیں جاسکتا اور نہ ہی کبھی دبایا جائے گا۔ اس نوٹس سے اینکر عمران خان صاحب کی عزت میں مزید اضافہ ہوا ہے اور وہ جیت چکے ہیں جبکہ دوسری جانب پی ٹی آئی اپنی کرتوتوں کی وجہ سے ہار چکی ہے۔ وزیراعظم عمران خان کو فوری طور پر اس معاملے کو خود دیکھنا چاہیئے کیونکہ اگر وہ خاموش رہے تو قوم یہ ماننے پر مجبور ہوجائے گی کہ آپ نے اور آپ کی جماعت نے الیکشن سے قبل میڈیا کی آزادی سمیت جتنے بھی وعدے کیے تھے، سب کے سب جھوٹے تھے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین بلاگز :

Your Thoughts and Comments