
سماج کیسے بدل سکتا ہے
بدھ 24 فروری 2021

لقمان اسد
(جاری ہے)
کچا گھر ہونے کے باوجود انھوں نے اپنے گھر کو ایسے صاف ستھرا رکھا ہوا تھا کہ وہاں بیٹھ کر یہ ہر گز محسوس نہیں ہو رہا تھا کہ ہم کسی مٹی کے بنے گھر کے اندر بیٹھے ہو ئے ہیں ۔
گھر میں موجود تمام چیزیں برتن وغیرہ بہت خوبصورتی اور ترتیب سے رکھے ہو ئے تھے۔سب سے پہلے بوڑھی اماں ہمارے لئے چائے بنا کر لائی اور پھر ہمارے ساتھ بیٹھ کر باتیں کرنے لگیں "بیٹا! بہت خوشی ہو ئی کہ آپ مجھ سے ملنے کے لئے میرے گھر آئے کیوں کہ ہم نفسا نفسی کے ایسے دور میں سانس لے رہے ہیں کہ جس میں پیار محبت اور رشتہ داریاں برائے نام ہی رہ گئی ہیں۔ بتانے لگیں کہ جوانی کے ہی ایام میں اسے بیوہ ہو نے کی اذیت نے آلیا۔میرے چار بچے تھے میں نے فیصلہ کیا کہ میں نے ہی اب ان بچوں کے سر پر باپ کا دستِ شفقت بھی رکھنا ہے میں نے اپنے چھوٹے چھوٹے یتیم بچوں کو لوگوں کے گھروں میں کام کاج اور محنت مزدوری کر کے پالا پوسا ۔بیٹیاں پرائی امانت ہوتی ہیں دونوں بیٹیوں کے جواں ہوتے ہی میں نے امانتیں مالکوں کو لوٹا دیں یعنی ان کی شادی کر دی۔پھر کچھ برس بعد دونوں بیٹے بھی جو ان ہو گئے۔ ان میں سے ایک کو غربت کے باوجود میں نے میٹرک تک پڑھایا جب کہ دوسرے بیٹے نے گاؤں میں محنت مزدوری کر کے میرا ہاتھ بٹانا شروع کیا اور میں اسے تعلیم نہ دلا سکی البتہ گھر میں ہی اسے میں نے قرآن مجید حفظ کرایا ۔اب میں چاہتی تھی کہ میرے بیٹوں کی بھی کہیں شادی ہو جائے ان کے رشتوں کی تلاش میں ادھر ادھر بھٹکتی اور ماری ماری پھر تی رہی۔ خاوند سر پر ہو تو عورت کو کوئی پرواہ نہیں ہوتی ،وہ حالات کی ستم ظریفیوں پر نہیں کڑھتی ،اسے کسی دکھ کااحساس گھیر بھی لے تو وہ اسے مستقل روگ میں نہیں بدلنے دیتی ۔لیکن جواں عمری میں ہی یہ رفاقت اگر ٹوٹ جائے اور خاوند اللہ کو پیارا ہو جائے تو پھر کئی بکھیڑے اور دُکھٹرے سر درد بن جاتے ہیں۔ میاں بیوی کا رشتہ بھی بہت عجیب اور کیا بے نظیر وبے مثل ہے۔ بیوی دنیا سے رخصت ہو جائے تو خاوند کے لئے بھی زندگی بسر کرنامشکل ہو جاتا ہے لیکن خاوند کے دنیا سے چلے جانے سے تو بیوہ عورت کی ہر خواہش حسرت میں بدل جاتی ہے ۔میں ایک بے سہارا اور بیوہ عورت تھی نہ مال نہ جائیداد،بس اللہ ہی کا سہارا تھا،جس کسی سے بھی بیٹوں کے رشتوں کی بات چلاتی وہ سنی ان سنی کر دیتے پھر ایک اللہ والے کے پاس گئی اس نے دعا کے ساتھ دوا بھی کی اور میرے دونوں بیٹے آج شادی شدہ ہیں اور اللہ کے فضل و کر م سے خوش باش زندگی گزار رہے ہیں ۔ کہنے لگیں کہ اب ہزار میں سے کوئی ایک آدمی ایسا مل جائے تو بہت بڑی غنیمت ہے جو کسی کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھتا ہے حالانکہ پرانے وقتوں کے لوگ اس بات میں عظمت و بڑائی سمجھتے تھے کہ کسی ضرورت مند اور حاجت مند کے کام آتے، اس کی امداد کرتے تو انھیں بڑی خوشی محسوس ہو تی اور ان کا ضمیر ایسے عمل سے مطمئن ہوتا تھا مگر آج کل کسی لا چار اور بے بس کی فریاد کو سن کر مذاق اڑانے اور ٹال دینے میں ہی لوگوں کی اکثریت بڑائی اور عظمت تصور کرتی ہے ۔اگر ایک چھوٹی سی بات انسان سمجھ لے تو یہی دنیاجنت میں تبدیل ہو سکتی ہے ،وہ بات یہ ہے کہ بڑے ،بڑے محلات مٹی کاڈھیر بن جائیں گے،صدیاں بیت چکی ہیں انسان آتا ہے اور اس فانی دنیاسے خالی ہاتھ ہی رختِ سفر باندھ کر اگلے جہان سدھار جاتا ہے۔نہ سرمایہ دار اپناسرمایہ ساتھ لے کر جاتا ہے اور نہ ہی جاگیر دار اپنے رقبے اور زمینیں۔ ہم بوڑھی اماں کی باتیں بہت توجہ سے سن رہے تھے اور وہ مسلسل روانگی کے ساتھ گفتگو کر رہی تھی ۔اس کی ایک ایک بات مفکرانہ ،پر مغز اور مبنی برحقیت تھی۔ بہت سا وقت پلک جھپکتے میں ہی گزر گیا ۔ یہ احساس بھی نہ ہوا کہ ہم بہت دیر سے یہاں ان کے پاس بیٹھے ہیں جب ہم بوڑھی اماں سے اجازت لینے لگے تو وہ گویا ہوئیں کہ میں سوچتی رہتی ہوں کہ معاشرے کو بااخلاق،باصلاحیت ،باشعوراور ہونہار نوجوان دینے والی وہ مائیں نہ جانے کہاں گم ہو گئیں۔ آج بھی اگر سب مائیں یہ سوچ لیں کہ ہم نے اپنے بچوں کی پروش اور تربیت بہتر سے بہتر طریقے سے کرنی ہے اور اُنھیں اسلامی تعلیمات سے روشناس کرانا ہے تو ہمارا معاشرہ خوبصورت معاشرہ بن سکتا ہے کیوں کہ بچوں کی تربیت کے حوالے سے "ماں"سب سے بڑے مدرسے اور یونیورسٹی کا درجہ رکھتی ہے ۔سبھی مائیں اپنا تربیتی کورس اور نصاب تبدیل کر لیں تو ہمارے سماج میں مثبت تبدیلی کو آنے سے کو ئی نہیں روک سکتا ۔شام ڈھلنے لگی اور ہم بوڑھی اماں کے گھر سے باہر نکل رہے تھے میں نے پیچھے مڑکر دیکھا ان کی آنکھوں سے آنسو چھلک رہے تھے اور وہ یہ دعائیہ کلمات بار بار دھرا رہی تھیں "بیٹا اللہ کی امان ہو"تب مجھے معروف شاعر احمد سلمان یاد آئے۔
وہ دور جنگل کی جھونپڑی میں جو اِک دیا ہے وہ شاعری ہے
تما م دریا جو اِک سمند ر میں گر رہے ہیں تو کیا عجب ہے
وہ ایک دریاجو راستے میں رہ گیا ہے وہ شاعری ہے
ادارہ اردوپوائنٹ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
تازہ ترین کالمز :
لقمان اسد کے کالمز
-
” خبریں“ ایک کردار، ایک تحریک، ایک اخبار
جمعرات 21 اکتوبر 2021
-
سر زمین ِافغانستان ۔سپرپاورز کاقبرستان
بدھ 28 جولائی 2021
-
مہذب دنیا کا بد صورت اور مکروہ چہرہ
منگل 25 مئی 2021
-
آہ جرنیلِ صحافت ضیا شاہد
بدھ 14 اپریل 2021
-
اللہ کے نوکر !
بدھ 24 مارچ 2021
-
عوامی مسائل کون حل کرے گا ؟
منگل 16 مارچ 2021
-
سماج کیسے بدل سکتا ہے
بدھ 24 فروری 2021
-
نئے سال کے دکھ
اتوار 21 فروری 2021
لقمان اسد کے مزید کالمز
کالم نگار
مزید عنوان
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2025, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.