پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق نے سال 2017 میں پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر رپورٹ جاری کردی

پیر اپریل 16:30

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 اپریل2018ء) پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق نے سال 2017 میں پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر رپورٹ جاری کردی ۔رپورٹ کے مطابق وفاقی پارلیمان نے سال 2016 کی نسبت 2017 میں کم قوانین بنائے، 2017 میں کل وفاقی حکومت نے کل 34 قوانین بنا لئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق سال 2017 میں صوبائی سطح پر صوبہ سندھ نے سب سے زیادہ جبکہ خیبر پختونخواہ نے دوسرے نمبر پر قانون سازی کی، پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق نے بھی صادق اور امین کی بنیاد پر نواز شریف کو نااہل کرنے کے فیصلے کو اہم ترین قرار دیا ۔

رپورٹ کے مطابق سال 2017 میں وکیلوں اور ججوں کے درمیان کشیدگی میں شدت آئی، 2017 میں ملک کی عدالتوں میں 3لاکھ 33 ہزار 103 مقدمات زیر التوا رہے ،دہشت گردی کے واقعات میں سال 2017 میں کمی آئی، ملک کے مختلف جیلوں گنجائیش 8ہزار 395 قیدیوں کی تھی جبکہ قیدیوں کی تعداد 10 ہزار 811 تھی، پاکستانی عدالتوں 253 لوگوں کو سزائے موت سنائی جن میں 5 خواتین شامل تھیں، 2017 میں 63 لوگوں کو پھانسی لگائی گئی جن میں سے 43 کو سزائ فوجی عدالتوں نے دی تھی۔

(جاری ہے)

رپورٹ کے مطابق پاکستانی پاسپورٹ دنیا بھر میں سفر کے حوالے سے دوسرا ناپسندیدہ پاسپورٹ رہا ۔رپورٹ کے مطابق مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد میں کمی نہ ہو سکی، صحافیوں اور بلاگرز کو بدستور دھمکیوں، حملوں اور اغوا جاری کا سلسلہ جاری رہا، لوگوں کو خاموش کرانے کے لیے مذہب کی تضحیک کے قانون کا استعمال جاری رہا، ۔رپورٹ کے مطابق میڈیا مجموعی طور پر حملوں کی زد میں رہا خواتین کے خلاف زیادتیوں کے کیسیز کی رجسٹریشن سے بڑی حد تک زیادہ تھیں۔

رپورٹ کے مطابق آنے والے عام انتخابات کے لیے تاحال 2 کروڑ 20 لاکھ خواتین کو بطور ووٹر رجسٹرڈ نہیں کیا گیا، رپورٹ کے مطابق ایک اور منتخب وزیراعظم کو ان کے عہدے سے ہٹایا گیا، 2017 میں پاکستان پو لیو کی منتقلی کو تقریبان مکمل طور پر روکنے میں کامیاب رہا 2017 میں پاک افغان تعلقات کے اتار چڑھاؤ کے باعث افغان مہاجرین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

متعلقہ عنوان :