قطر سے سستی ایل این جی کا دعویٰ غلط ،سالانہ ایک ارب80کروڑ کا نقصان ہورہا ہے ،میاں کامران سیف

پیر اپریل 16:30

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 اپریل2018ء) پاکستان مسلم لیگ ق کے راہنما وسیکرٹری اطلاعات پاکستان مسلم لیگ لاہور میاں کامران سیف نے ان اخباری رپورٹس پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ قطر سے سستی ایل این جی کا دعویٰ غلط ثابت ہوا اور قطر سے ایل این جی لینے سے سالانہ ایک ارب80کروڑ روپے کا نقصان ہورہا ہے انہوںنے کہا کہ پاکستان قطر سے ایل این جی کا فی کارگو نجی کمپنیوں کے مقابلے میںکم از کم 3کروڑ روپے مہنگا خرید رہا ہے جس سے ماہانہ 15کروڑ جبکہ سالانہ 1ارب 80کروڑ روپے کا نقصان ہورہا ہے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوںنے مسلم لیگ ہائوس میں کارکنوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔میاں کامران سیف نے کہا کہ ررینٹ خام تیل کی قیمت میں اضافے کے ساتھ قطر سے مہنگی ایل این جی خریدنے کا ماہانہ نقصان بڑھتا جارہا ہے پاکستان ایل این جی کمپنی نے عالمی نجی کمپنیوں سے قطر کے مقابلے میں سستی ایل این جی خریدنے کا معاہدہ کیا مگر پنجاب میں آر ایل این جی پر چلنے والی3600میگا واٹ صلاحیت کے حامل پاور پلانٹس فنی خرابی کے باعث بند ہونے کے باعث نجی کمپنیوں سے سستے ایل این جی خریدنے ،سستی ایل این جی کارگو منسوخ کنے اور ایل این جی ٹرمینل کم صلاحیت پر استعمال کرنے کے باعث کروڑوں روپے کا بوجھ عوام پر ڈالا جارہا ہے ۔

(جاری ہے)

اس لیے ایل این جی معاہدہ پر نظر ثانی کی ضرروت ہے۔نیز نیب قومی دولت کی لوٹ مار کرکے قطر سے مہنگی ایل این جی میں ملوث افراد کو بے نقاب کرے قومی دولت واپس لائی جائے۔

متعلقہ عنوان :