آئندہ عام انتخابات کے بعد ملک میں معلق پارلیمنٹ لانے کی کوششوں کا آغاز کردیا گیا ہے ، نورخان اخوندزادہ

پری پول رگنگ کا عمل جاری ہے جس سے ملک میں جمہویت کو شدید نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے ۔الیکشن کمیشن آف پاکستان شفاف انتخابات کے انعقاد کے لیے اپنا کردار ادا کرے، جوائنٹ سیکرٹری مسلم لیگ (ن) کراچی ڈویژن

پیر اپریل 17:58

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 اپریل2018ء) پاکستان مسلم لیگ (ن))کراچی ڈویژن کے جوائنٹ سیکرٹری نور خان اخونزادہ نے کہا ہے کہ آئندہ عام انتخابات کے بعد ملک میں معلق پارلیمنٹ لانے کی کوششوں کا آغاز کردیا گیا ہے ۔پری پول رگنگ کا عمل جاری ہے جس سے ملک میں جمہویت کو شدید نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے ۔۔الیکشن کمیشن آف پاکستان شفاف انتخابات کے انعقاد کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

ڈاکٹرفاروق ستار کی جانب سے ان کے ارکان کی زبردستی وفاداری تبدیل کرانے کی بات تشویشناک ہے ۔اس امر کی تحقیقات کی جائے کہ وہ کون لوگ ہیں جو سیاسی جماعتوں میں توڑ پھوڑ کرکے اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔پیر کو جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ مقبول قیادت ہی کرسکتی ہے ۔

(جاری ہے)

آئینی اداروں کے تصادم سے معیشت تباہ اور سفارتی تنہائی بڑھے گی ۔

عوامی سوچ کے برعکس پولیٹکل انجینئرنگ کے ذریعہ معلق پارلیمنٹ مسلط کرنے کا عمل عوام کو ملکی امور سے لاتعلق کردے گا جو ملکی مفاد کے لیے زہر قاتل ہوگا ۔انہوںنے کہا کہ عام انتخابات 2018کا شفاف انعقاد ملک کے مستقبل کی راہ متعین کرے گا ۔یکطرفہ احتساب کے ذریعہ ملک کی مقبول ترین لیڈر شپ کو انتخابی عمل سے باہر کرنے کی کوشش انتہائی خوفناک ہے جس کے انتہائی منفی اثرات مرتب ہوں گے ۔

انہوںنے کہا کہ 28جولائی کے فیصلے کے بعد یہ تاثر عام ہورہا ہے کہ ملک کے مقبول ترین لیڈر میاں نواز شریف اور قومی سیاسی جماعت مسلم لیگ (ن)کو عام انتخابات میں دیوار سے لگاکر معلق پارلیمنٹ کی راہ ہموار کی جارہی ہے تاہم عوام 1970-71میں کھیلے جانے والے کھیل کو 2018کے انتخابات میں اپنی اجتماعی دانش اور شعور سے ناکام بنادیں گے ۔نورخان اخوندزادہ نے کہا کہ حالات کا تقاضہ تو یہ ہے کہ ہر قسم کی غیر یقینی کی صورت حال پر تمام اسٹیک ہولڈرز مل کر قابو پائیں تاکہ معشیت کو سنبھالا جاسکے اور بین الاقوام سطح پر سفارتی تنہائی سے بچاسکے ۔

انہوںنے کہا کہ ادارے اپنی اپنی آئینی حدود میں رہ کر اپنے فرائض منصبی انجام دیں اور ایک دوسرے پر الزام تراشی سے گریز کریں ۔موجودہ صورت حال میں پوری قوم کی نظریں الیکشن کمیشن پر ہیں ۔ای سی پی اپنی بنیادی آئینی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے بروقت آزادانہ ،منصفانہ اور شفاف انتخابات کرواکر غیر یقینی کی صورت حال سے نکالنے کا باعث بنے تاکہ ملک امن ،ترقی اور خوشحال کے سفر پر گامزن ہو ۔