حکومت بجٹ کی تیاری میں ٹیکس کی شرح کو کم کرے، آل پاکستان بزنس فورم کی بجٹ تجاویز

پیر اپریل 20:08

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 اپریل2018ء) آل پاکستان بزنس فورم نے ٹیکس بیس میں توسیع کے ساتھ بجٹ کی تیاری میں ٹیکس کی شرح کو کم کرنے کی تجویز دیتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں پاکستانی مصنوعات کو مسابقتی دھارے میں لایا جائے۔ بجٹ تجاویز کے مطابق آل پاکستان بزنس فورم نے وفاقی بجٹ 2018-19ء کے لئے مخصوص تجاویز کو حتمی شکل دی ہے۔ بجٹ تجاویز کا ذکر کرتے ہوئے آل پاکستان بزنس فورم کے صدر ابراہیم قریشی نے کہا کہ آل پاکستان بزنس فورم نے آئندہ وفاقی بجٹ کے لئے جامع تجاویز جمع کروائی ہیں جن کا بنیادی مقصد آزادانہ سرمایہ کاری پالیسی لانا، انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ، ٹیکس بیس میں وسعت اور صنعت کے ذریعے روزگار کی تشکیل ہے۔

بجٹ تجاویز شفاف انداز میں مرتب کی گئی ہیں جن میں ملک بھر سے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی کاروباری برادری کی جانب سے موصول ہونے والی آراء شامل ہیں۔

(جاری ہے)

آل پاکستان بزنس فورم کے رہنما نے نشاندہی کی کہ 40 لاکھ نیشنل ٹیکس نمبر کے حامل افراد میں سے ٹیکس فائلرز کی تعداد 2006-07ء میں 2.1 ملین تھی جو 2017ء میں 1.39 ملین تک کم ہوئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایف بی آر نے گزشتہ دس سالوں کے دوران 10 لاکھ ریٹرن فائلرز کو کھو دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آل پاکستان بزنس فورم کی بجٹ تجاویز میں سفارشات کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاروں کو مراعات فراہم کرنے کی تجاویز، معیشت کو دستاویزی شکل دینے کے ذریعے ٹیکس نیٹ میں توسیع، آسان ٹیکس نظام اور ایف بی آر کی دوبارہ تنظیم نو اور بہت سی صنعتوں کیلئے مخصوص تجاویز شامل ہیں۔ آل پاکستان بزنس فورم نے مینوفیکچرنگ شعبہ پر اضافی بوجھ پر تشویش کا اظہار کیا جس کا معیشت میں 21 فیصد اور ٹیکس ادائیگیوں میں 70 فیصد حصہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ آل پاکستان بزنس فورم کی تجاویز ٹیکس بیس کی توسیع اور ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح میں بہتری کیلئے ایک جامع ایکشن پلان ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی بجٹ 2018-19ء کے لئے آل پاکستان بزنس فورم کی طرف سے پیش کی گئی بجٹ تجاویز میں غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری کا فروغ، براہ راست ٹیکسوں کی شرح میں اضافہ اور بلاواسطہ لیویز کے سلیب کا خاتمہ شامل کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی بجٹ تجاویز میں یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ پیداوار اور افراط زر کی لاگت کو کم کرنے کے لئے سیلز ٹیکس سلیب کو فوری طور پر کم کیا جائے۔ آل پاکستان بزنس فورم نے حکومت پر زور دیا کہ وہ سیلز ٹیکس کو یک ہندسی سطح پر لائے اور آئندہ بجٹ کو کاروبار دوست بنانے کے لئے کارپوریٹ ٹیکس میں بھی کمی کرے۔ ابراہیم قریشی نے کہا کہ صرف سیاسی قوت اور سخت اقدامات ہی معیشت کو بحال کر سکتے ہیں جنہیں نمایاں طور پر مسلسل اثرات کے لئے بڑھانا چاہئے۔

انہوں نے زور دیا کہ مجموعی بجٹ کا ایک مخصوص حصہ ہائیڈرو پاور پراجیکٹس کے لئے مختص ہونا چاہئے۔ مہنگی تھرمل پاور پر انحصار پیداواری لاگت اور درآمدی بل میں بھی اضافہ کر رہا ہے۔ توانائی کی کمی سے نمٹنے کے لئے زیادہ سے زیادہ فنڈز ڈیموں اور پانی کے ذخائر کی تعمیر اور تھر کول کے لئے مختص کئے جانے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو ہائیڈرو پاور اور مقامی ایندھن میں اپنی انرجی مکس پر فوری طور پر منتقل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

آل پاکستان بزنس فورم نے ٹیکس بیس کی توسیع اور نئے ممکنہ ٹیکس دہندگان کی شناخت کیلئے تفصیلی تجاویز دی ہیں۔ اس نے سفارش کی ہے کہ زراعت سے تعلق رکھنے والی سرگرمیوں اور ہر طرح کی سرکاری اور بینکوں کی بچت سکیموں سمیت ہر قسم کی آمدن کے لئے ٹیکس مساوی ہونا چاہئے۔ تمام آمدنی حاصل کرنے والے کوں کسی بھی شعبہ کو استثنیٰ کے بغیر نیشنل ٹیکس نمبر کے ساتھ رجسٹر کرنا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکس حکام کو یقینی بنانا چاہئے کہ تمام این ٹی این ہولڈرز سالانہ آمدن/ویلتھ ریٹرنز اور ویلتھ سٹیٹمنٹس جمع کروائیں۔ حکومت کو ٹیکس دہندگان کی حوصلہ افزائی کے لئے ایمنسٹی سکیم کے اعلان سے گریز کرنا چاہئے۔ آل پاکستان بزنس فورم کی بجٹ تجاویز میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس ریٹرن فارم کو معیاری اور آسان بنایا جائے تاکہ ٹیکس دہندگان کو سالانہ بنیادوں پر نئے ٹیکس ریٹرن فارم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔

متعلقہ عنوان :