پروفیسر ڈاکٹر شگفتہ اقبال کو انصاف فراہم کیا جائے،آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ

ناروا سلوک قابل مذمت ہے مقامی اخبارات کو بلوں کی عدم ادائیگی اور سیلز ٹیکس کا خاتمہ نہ ہو نا معاشی قتل عام کے مترادف ہے،بلوچستان نیشنل پارٹی

پیر اپریل 20:40

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 اپریل2018ء) پروفیسر ڈاکٹر شگفتہ اقبال کو انصاف فراہم کیا جائے ان کے ساتھ ناروا سلوک قابل مذمت ہے مقامی اخبارات کو بلوں کی عدم ادائیگی اور سیلز ٹیکس کا خاتمہ نہ ہو نا ان کا معاشی قتل عام کے مترادف ہے پروفیسر ڈاکٹر شگفتہ اقبال کو فوری طو رپر ان کے گریڈ 21کے مطابق رہائش گاہ کی فراہمی کو حکومت یقینی بنائے گزشتہ روز ان کے ساتھ پیش آنے والے ناروا سلوک کی مکمل تحقیقات کی جائے پروفیسر صاحبہ کی خدمات بلوچستان کیلئے گراں قدر ہیں بلوچ معاشرہ اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ سابق صوبائی حکومت کے وزراء کے ناروا سلوک کی مکمل تحقیقات کی جائے اور کمیٹی تشکیل دے پروفیسر ڈاکٹر شگفتہ اقبال کو انصاف فراہم کیا جائے ان خیالات کا اظہار بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ ‘ مرکزی ہیومن رائٹس سیکرٹری موسیٰ بلوچ ‘ احمد نواز بلوچ نے بلوچستان اسمبلی کے سامنے خواتین اساتذہ اور مقامی اخبارات کے مدیران کی جانب سے دیئے گئے دھرنوں میں جا کر اظہار یکجہتی کی اس موقع پر میر قاسم پرکانی ‘ رضا جان شاہی زئی ‘ گنیش راجپوت ‘ دلیپ کمار بھی موجود تھے اس موقع پر انہوں نے کہا کہ بلوچ معاشرے میں خواتین کو قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے لیکن بدقسمتی سے بلوچستان میں تعلیمی انقلاب کے بلند و بالا دعوے کرنے والوں نے اپنے اقتدار میں حکومت تعلیمی اداروں کو تباہی تک پہنچانے میں کسی کسر سے دریغ نہیں کیا سابق وزیر تعلیم نے پروفیسر ڈاکٹر شگفتہ اقبال کو گھر سے بے گھر کرنے میں جو کردار ادا کیا وہ قابل مذمت ہے تعصب کی بنیاد پر پروفیسر ڈاکٹر شگفتہ اقبال اور دیگر بلوچ اساتذہ کو گھروں سے بے دخل کرنے کیلئے بلا جواز تبادلے کئے گئے جو قابل مذمت ہیں مقامی اخبارات پر عائد سیلز ٹیکس فوری طور پر ختم کیا جائے بیورو کریسی حکومتی اقدامات کو ماننے سے انکاری ہے سیلز ٹیکس معاشی قتل ہے بلوچستان کے عوام معاشی تنگ دستی سے دوچار ہے زرعی اور صنعتی شعبے پہلے ہی نہیں ہیں اخباری صنعت کو بھی دانستہ طور پر مشکلات سے دوچار کیا جا رہا ہے حکمران فوری طور پر سیلز ٹیکس خاتمے کے حوالے سے فوری نوٹیفکیشن جاری کرے تاکہ عوام سکھ کا سانس لے سکیں ۔

(جاری ہے)

ڈاکٹر پروفیسر شگفتہ اقبال کے ہونے والے ناانصافیوں پر تحقیقاتی کمیٹی بنائی جائے جو غیر جانبدار ہو کر تحقیقات کرے سابق صوبائی وزیر کے دور حکومت میں پی ایچ ڈی پروفیسر کے ساتھ ایسی روش کیوں اپنائی گئی پروفیسر صاحبہ نے بلوچستان میں تعلیم کی ترقی کیلئے کلیدی کردار ادا کیا انہیں ان کے گریڈ کے مطابق رہائش دی جائے آج معاشروں میں خواتین اساتذہ ‘ پروفیسرز کے ساتھ حکمرانوں کی ایسی روش رکھی گئی ہے جو ظلم ہے پارٹی مظلوم انسانوں کے ساتھ ظلم پر آواز بلند کرتی رہے گی صوبائی حکومت فوری طور پر پروفیسر شگفتہ اقبال کو انصاف فراہم کرتے ہوئے تحقیقات کرے کہ کس طرح انہیں گھر سے گھر کیا گیا ۔

متعلقہ عنوان :