سازگار حکومتی پالیسیوں کے باعث اقتصادی اعشاریے مثبت راہ پر گامزن ،معاشی شرح نمو بڑھنے سے روزگار کے مواقع بڑھیں گے ،مفتاح اسماعیل

صوبوں کو فنڈز کی منتقلی 100 فیصد بڑھ گئی ہے،ٹیکس محاصل 4000 ارب روپے سے زیادہ ہوجائینگے ،آئندہ بجٹ میں عوام کو ریلیف دیا جائیگا،ملک کے کئی مسائل پر قابو پایا جا چکا ،درآمدات کی کمی ،برآمدات کو بڑھا کر خسارہ کو کم کیا جائیگا،نادرا کے ذریعے ڈیٹا حاصل کر کے نئے ٹیکس دہندگان کو ٹیکس کے دائرہ کار میں لائینگے، یکم جولائی کے بعد پراپرٹی خریدنے کیلئے ٹیکس رجسٹریشن لازم ہوگی جس سے معیشت کو ریکارڈ پر لانے میں مدد ملے گی، مشیر وزیراعظم کا پری بجٹ سیمینار سے خطاب

پیر اپریل 21:40

سازگار حکومتی پالیسیوں کے باعث اقتصادی اعشاریے مثبت راہ پر گامزن ،معاشی ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 اپریل2018ء) وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ، ریونیو اور اقتصادی امور ڈویژن ڈاکٹر مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ سازگار حکومتی پالیسیوں کے باعث اقتصادی اعشاریے مثبت راہ پر گامزن ہیں ،معاشی شرح نمو بڑھنے سے روزگار کے مواقع بڑھیں گے ،صوبوں کو فنڈز کی منتقلی 100 فیصد بڑھ گئی ہے،ٹیکس محاصل 4000 ارب روپے سے زیادہ ہوجائینگے ،تعلیم کے شعبہ کا بجٹ دو گنا کر دیا ہے،بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا بجٹ 120 ارب روپے سے زائد کیا جا رہا ہے،آئندہ بجٹ میں عوام کو ریلیف دیا جائے گا،ملک کے کئی مسائل پر قابو پایا جا چکا ،درآمدات کی کمی ،برآمدات کو بڑھا کر خسارہ کو کم کیا جائیگا،نادرا کے ذریعے ڈیٹا حاصل کر کے نئے ٹیکس دہندگان کو ٹیکس کے دائرہ کار میں لائینگے، یکم جولائی کے بعد پراپرٹی خریدنے کیلئے ٹیکس رجسٹریشن لازم ہوگی جس سے معیشت کو ریکارڈ پر لانے میں مدد ملے گی۔

(جاری ہے)

مشیر وزیراعظم مفتاح اسماعیل نے یہ بات پیر کوایس ڈی پی آئی کے زیر اہتمام پری بجٹ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے دور میں مہنگائی 11 فیصد سے زیادہ تھی ،گذشتہ پانچ سال میں مہنگائی کی شرح چار فیصد تک رہی ہے،انہوں نے کہا کہ معاشی شرح نمو بڑھنے سے روزگار کے نئے مواقع ملیں گے ،انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کا خسارہ رواں سال 45 ارب روپے رہے گا ،ڈسکوز 176 ارب روپے کا نقصان کریں گی ،پرائیویٹائزیشن حکومت کی اہم ترین ترجیح ہونی چاہیئے ،انہوں نے کہا کہ پاکستان سے دہشت گردی کو ختم کر دیا گیا ہے اور پاکستان کی حکومت امن و امان کی بہتری پر خصوصی توجہ دے رہی ہے جس سے ملک میں عالمی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت معیشت کی بہتری کے لئے مالی نظم و ضبط پر عمل کر رہی ہے جس سے کئی شعبوں میں ترقی ہوئی ہے۔ ہماری مجموعی قومی پیداوار 5 فیصد اور بڑے صنعتی اداروں کے شعبہ کی کارکردگی 4.15 فیصد تک بڑھی ہے جبکہ افراط زر کی شرح 11.83 فیصد سے 5 فیصد تک کم ہوئی ہے۔ اس طرح کی مزید کئی کامیابیاں بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال کے دوران قومی معیشت کی شرح نمو 5.8 فیصد ہے جو گزشتہ 30 سال میں سب سے زیادہ ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے افراط زر پر قابو پانے اور برآمدات بڑھانے کے لئے خصوصی پیکیج متعارف کرائے ہیں اور برآمدات میں 5 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے اور آنے والے مہینوں میں مزید بڑھیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے کئی مسائل پر قابو پایا جا چکا ہے، درآمدات کی کمی اور برآمدات کو بڑھا کر خسارہ کو کم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کے پانچویں سال کے دوران برآمدات میں 18 سے 20 فیصد تک اضافہ متوقع ہے۔

ڈاکٹر مفتاح اسماعیل نے کہا کہ 5.8 فیصد کی شرح نمو اتنی زیادہ نہیں ہمیں روزگار کی فراہمی کے لئے قومی معیشت کی 6 فیصد سے زائد کی ترقی درکار ہے تاکہ لوگوں کو روزگار مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ ملک سے غربت کے مکمل خاتمے کے لئے جی ڈی پی میں آٹھ فیصد کا اضافہ ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ متوسط طبقہ کی آمدنی اور صارف اخراجات بڑھے ہیں۔ جی ڈی پی میں 10 فیصد کے اضافے کے لئے کام کرنا ہوگا جس سے فی کس آمدنی میں اضافہ اور قومی معیشت مستحکم ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں 10 فیصد کی شرح نمو کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے لئے عالمی برادری کو متوجہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاروں کو بتانے کی ضرورت ہے کہ یہاں پر امن و امان کا کوئی مسئلہ نہیں اور کاروباری اخراجات بھی کم ہیں۔ توانائی دستیاب ہے اور صنعتوں کو ان کی ضروریات کے مطابق فراہم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی موجودہ حکومت ملک میں توانائی کا انقلاب لائی ہے۔

70 سال کے دوران 20 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی گئی جبکہ موجودہ حکومت نے پانچ سالوں کے دوران 10 ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی کے کئی منصوبے مکمل کئے، تنخواہ دار طبقہ سمیت دیگر ٹیکس دہندگان کو سہولیات فراہم کی ہیں جس سے ٹیکس کا دائرہ کار بڑھانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نادرا کے ذریعے ڈیٹا حاصل کر کے نئے ٹیکس دہندگان کو ٹیکس کے دائرہ کار میں لائے گی۔

انہوں نے کہا کہ رئیل اسٹیٹ کے سیکٹر میں ریفارمز سے ٹیکس وصولیاں بڑھیں گی اور یکم جولائی کے بعد پراپرٹی خریدنے کے لئے ٹیکس رجسٹریشن لازم ہوگی جس سے معیشت کو ریکارڈ پر لانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ رئیل اسٹیٹ میں بھاری سرمایہ کاری سے ٹیکس وصولیاں بڑھیں گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے متعارف کرائی گئی ٹیکس ایمنسٹی سکیم سے بھی ٹیکس وصولیوں کا دائرہ کار وسیع ہوگا اور حکومت کی آمدن میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ منی لانڈرنگ پر قابو پانے کے لئے حکومت جامع اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ دور حکومت میں مسلم لیگ (ن) نے پہلے دو تین سال ریونیو بڑھانے پر توجہ دی اور اب شرح نمو میں اضافہ پر توجہ دے رہی ہے ۔