تفریح کیلئے جانیوالے دریائے کابل میں ڈوب گئے،بہن اوربھانجی کی لاش برآمد،بھائی لاپتہ

پیر اپریل 22:12

نوشہرہ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 اپریل2018ء) پشاور سے سیر و تفریح کے لیے کنڈ نیشنل پارک آنے والے سگے بہن بھائی اور بھانجی دریائے کابل میں ڈوب کر لاپتہ ہوگئے ‘بہن اور بھانجی کی لاشیں ریسکو1122 کی ٹیم نے نکال دی جب کہ بدقسمت بھائی کی لاش کی تلاش کا کام جارہی ۔ بدقسمت انیس اپریل کو دوبئی جانے والا تھا کہ دریائے سندھ کی بے رحم موجوں کی نذر ہوگیا۔

تفصیلات کے مطابق سب انسپکٹر نیاز محمد خان کے مطابق ستائیس سالہ نور جمیل ولد جمیل خان ساکن پاڑہ چنارہ حال رنگ روڈ پشاور اپنی بہن بیس سالہ مسمات نائیلہ دختر جمیل خان اور پندرہ سالہ بھانجی ثنا دختر موجود گل اور دیگر عزیز و اقارب کے ہمراہ کنڈ نیشنل پارک میں سیر وتفریح کے لیے آئے تھے اور تینوں دریائے سندھ کے کنارے چہل قدمی کے لیے اتر ے تھے کہ اس دوران ثنا پانی میں اتر گئی اور اچانک دریامیں پھسل گئی جس پر نائیلہ نے اسکو بچانے کے لیے ہاتھ دیا اور ثنا نے اس کو بھی اپنی طرف کھینچ لیا بہن اور بھانجی کو ڈوبتے دیکھتے ہوئے نور جمیل نے ان کو بچانے کی کوشش کی اور وہ بھی دریامیں جاگرا۔

(جاری ہے)

اور اس طرح تینوں لاپتہ ہوگئے ۔ اس دوران ریسکیو 1122 نوشہرہ اور مردان کی ٹیمیں پہنچ گئی۔ نوشہرہ کی 1122 کے خوطہ خوروں نے نائیلہ اورثناء کی لاشیں دریائے سے نکال لی۔ جبکہ نور جمیل کی تلاش کاکام جاری ہے خوطہ خوروں کاکہنا ہے کہ دریائے سند ھ کے اس کنارے پر دریائے سند ھ کی گہرائی بیس سے پچیس فٹ تک ہے۔ عوام لوگوںکو معلوم نہیں وہ اسکو کنارہ سمجھتے ہیں یہ انتہائی کھائی ہے۔

اس خونی کھائی میں ہر سال درجنوں افراد ڈوب کر لاپتہ ہوجاتے ہیں۔ ریسکیو1122 پشاور کی ٹیم بھی موقع پر پہنچ گئی تاہم اخری خبریں انے تک لاش تلاش کاکا م جاری ہے نو رجمیل کے قریبی رشتہ داروں کے مطابق نور جمیل دوبئی میںمحنت مزدوری کرتا ہے ۔ جس کی چھٹی ختم ہونے والی تھی اور انیس اپریل کو اس کو واپس دوبئی جانا تھا۔ دریائے سندھ کے کنارے پر لوگوں کی کافی تعداد اس اندھوناک واقع پر جمع ہوگئی۔بدقسمت دوبئی میں محنت مزدوری کرتا ہے اور چار سال قبل اسکی شادی ہوئی تھی اپنے پیچھے بیوہ سوگوار چھوڑ گیا ہے۔

متعلقہ عنوان :