بھارتی آرمی چیف کا حالیہ بیان کشمیریوں کے جذبہ حریت کوکمزور کرنے میں فوج کی شکست کا اعتراف اور مظلوم کشمیری قوم کی اخلاقی فتح ہے‘رائے شماری کے ذریعے ہی معلوم کیاجاسکتا ہے کہ کشمیریوں کی غالب اکثریت کس کے ساتھ ہے

کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سیدعلی گیلانی کا جاری بیان

منگل اپریل 15:43

سرینگر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 اپریل2018ء) مقبوضہ کشمیرمیں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سیدعلی گیلانی نے کہاہے کہ بھارتی فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت کے کشمیر بارے حالیہ بیان میںکشمیریوں کے جذبہ حریت کو کمزور کرنے میں بھارتی فوج کی شکست کا برملا اعتراف کیاگیا ہے۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سیدعلی گیلانی نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہاکہ جنرل بپن راوت کی طرف سے یہ اعتراف کہ طاقت کے بل پر بھارت کو کچھ حاصل نہیں ہو گا مظلوم کشمیری قوم کی زبردست اخلاقی فتح ہے۔

انہوں نے ان کے بیان کو مسئلہ کشمیر کے تاریخی تناظر میں صاف چھپتے بھی نہیں اور سامنے آتے بھی نہیں کے مصداق قرار دیتے ہوئے کہا کہ جنرل بِپن راوت نے زمینی سطح پر کشمیری قوم کے جذبہ آزادی کو کچلنے میں بھارتی فورسز کی شکست کا برملا اظہار کیاہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے اپنے حق خودارادیت کے حصول کیلئے کشمیریوں کی عظیم قربانیوں پر پوری قوم کو خراج تحسین پیش کیااورکہاکہ یہ مظلو م قوم کی اہم اخلاقی فتح ہے۔

سیدعلی گیلانی نے جنرل راوت کو تاریخ کشمیر کا بغور مطالعہ کرنے کامشورہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں یہ کیسے معلوم ہوا کہ جموں و کشمیر کی غالب اکثریت بھارت کے حق میں ہے جبکہ حقیقت حال یہ ہے کہ بھارتی قابض فورسز نے پورے مقبوضہ علاقے میں نہتے کشمیریوں کے خلاف ایک خونین جنگ چھیڑ رکھی ہے۔انہوں نے جنرل راوت کے اس بیان کو سفید قراردیتے ہوئے کہاکہ وہ تاریخی حقائق کو مسخ کرنے سے باز رہیں اور آدھے سچ اور آدھے جھوٹ سے مسئلہ کشمیر کے حل کو زیادہ دیر تک ٹالا نہیں جاسکتا۔

انہوں نے کہاکہ فوجی سربراہ کو اپنے سیاسی ارباب اقتدار تک یہ بات پہنچانے کا فرض ادا کرناچاہیے کہ کشمیری بھارت کی فوجی طاقت کے سامنے جھکنے کیلئے ہرگز تیار نہیں اور نا ہی وہ اپنے حق خودارادیت کے حصول کی تحریک سے دستبردار ہوں گے ، جس کا اعتراف جنرل راوت نے اپنے بیان میں کیا ہے۔ حریت چیئرمین نے اس تاریخی حقیقت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر کی موجودہ گھمبیر صورتحال صرف بھارت کی ضد اور ہٹ دھرمی کا نتیجہ ہے جس نے جموں و کشمیر پر جبری تسلط کر رکھا ہے اورپر امن کشمیری عوام گزشتہ ستر برس سے اس جبری قبضے کے خلاف اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں رائے شماری کرانے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

انہوں نے جنرل راوت سے کہا کہ رائے شماری کے ذریعے ہی معلوم کیاجاسکتا ہے کہ کشمیریوں کی غالب اکثریت کس کے ساتھ ہے۔ سید علی گیلانی نے جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر کے کا رکن غلام محمد خرقہ کی وفات پر گہرے رنج وغم کا اظہار کیا ہے۔ادھر حریت کانفرنس کے ترجمان نے ایک بیان میں باغندر، موہن پورہ اور نارکرہ بڈگام میں بھارتی پولیس کی طرف سے نوجوانوں کی پکڑ دھکڑ اور اندھا دھند گرفتاریوں کی شدیدمذمت کی ہے۔

انہوں نے پولیس کی طرف سے باغندر موہن پورہ میں گیارویں جماعت کے طالبعلم ساجد احمد بنگرو کی گرفتاری اور بدترین تشدد کا نشانہ بنانے اور بعد ازاں اس کے والد محمد رفیق بنگرو کی گرفتاری پرشدید تشویش کا اظہار کیا۔انہوں نے پولیس کی کارروائی کو غنڈہ گردی قراردیتے ہوئے اسے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔