طیبہ تشدد کیس ،کمرہ عدالت سے جج اہلیہ سمیت گرفتار

حتمی دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے 27 مارچ کو فیصلہ محفوظ کیا تھا ،مقدمے میں 19 گواہان کے بیانات ریکارڈ کئے گئے جن میں 11 سرکاری اور 8 غیر سرکاری اور گھریلو ملازمہ طیبہ کے والدین شامل ہیں،اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے سابق ایڈیشنل سیشن جج راجہ خرم علی خان کو اہلیہ سمیت گرفتار کرنے کا حکم دیا

منگل اپریل 16:40

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 اپریل2018ء) چیف جسٹس سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس اور عدالت عالیہ اسلام آباد کے محفوظ شدہ فیصلہ سنائے جانے کے بعد کمرہ عدالت سے جج کو اہلیہ سمیت گرفتار کر لیا گیا ۔ گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ کے سنگل رکنی بنچ پر مشتمل جسٹس عامر فاروق نے سیکٹر آئی ایٹ میں گھریلو ملازمہ طیبہ تشدد کیس کا محفوظ شدہ فیصلہ سناتے ہوئے او ایس ڈی بنائے گئے سابق ایڈیشنل سیشن جج راجہ خرم علی خان کو اہلیہ سمیت گرفتار کرنے کا حکم دیا اور ایک سال کی سزا اور پچاس ہزار روپے جرمانہ عائد کرنے کی ہدایت کی ۔

جس کے بعد اسلام آباد پولیس نے جج کو اہلیہ سمیت گرفتار کر لیا ۔ واضح رہے کہ گھریلو ملازمہ طیبہ تشدد کیس میں حتمی دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے 27 مارچ کو فیصلہ محفوظ کیا تھا جبکہ گھریلو ملازمہ طیبہ تشدد کیس کا واقعہ 27 دسمبر 2016 کو رپورٹ ہوا ۔

(جاری ہے)

بعدازاں معاملہ میڈیا پر آنے کے بعد 29 دسمبر کو سابق جج کے گھر سے گھریلو ملازمہ کو تحویل میں لے کر کارروائی شروع کر دی اور دونوں ملزمان کے خلاف تھانہ آئی نائن میں مقدمہ درج کر لیا گیا۔

3 جنوری 2017 کو طیبہ کے والدین نے راجہ خرم اور اس کی اہلیہ کو معاف کر دیا ۔ راضی نامہ سامنے آنے کے بعد اگلے روز چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار نے معاملے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے گھریلو ملازمہ کو پیش کرنے کا حکم دیا جس کے بعد 8 جنوری 2017 کو طیبہ کو اسلام آباد کے مضافاتی علاقے سے ایک وکیل کے گھر سے بازیاب کروانے کے بعد عدالت میں پیش کیا گیا ۔

عدالتی حکم پر 12 جنوری 2017 کو راجہ خرم علی خان جو کہ بطور ایڈیشنل سیشن جج فرائض منصبی ادا کررہے تھے کو کام سے روک دیا گیا۔ سپریم کورٹ نے بعدازاں مقدمے کا ٹرائل اسلام آباد ہائی کورٹ کو بجھوا دیا جس کے بعد ملزمان نے 10 فروری کو ایڈیشنل سیشن جج راجہ آصف علی خان کی عدالت سے عبوری ضمانت کی توثیق کروائی ۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل بنچ نے 6 مئی 2017 کو فرد جرم عائد کئے جانے کے بعد گرفتار جج کی جانب سے بنچ تبدیلی کی استدعا چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس انور خان کاسی سے کی جس کے بعد جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل بنچ کو تبدیل کر کے کیس جسٹس عامر فاروق کو بجھوا دیا گیا ۔

بعدازاں مقدمے میں 19 گواہان کے بیانات ریکارڈ کئے گئے جن میں 11 سرکاری اور 8 غیر سرکاری اور گھریلو ملازمہ طیبہ کے والدین شامل ہیں ۔ ۔

متعلقہ عنوان :