عرب سربراہ اجلاس، تنازع فلسطین کے دیرپا ، منصفانہ حل پر زور

مشرقی بیت المقدس صرف آزادانہ اور خود مختار فلسطینی مملکت کا دارالحکومت بنے گا ، اس پر اسرائیل کا کوئی حق نہیں، فلسطین میں یہودی بستیوں کی تعمیر وتوسیع کا سلسلہ بند کیا جائے ،فلسطینیوں پر مظالم ڈھانے کا عمل روکا جائے، اعلامیہ

منگل اپریل 17:47

الریاض (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 اپریل2018ء) سعودی عرب کی میزبانی میں ہونے والے عرب سربراہ اجلاس میں تنازع فلسطین کے دیر پا اور منصفانہ حل پر زور دیا گیا۔سعودی عرب کے شہر الظہران میں ہونیوالے اجلاس کے آخر میں جاری اعلامئے میں مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دیئے جانے کے امریکی اعلان کی مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ مشرقی بیت المقدس صرف آزادانہ اور خود مختار فلسطینی مملکت کا دارالحکومت بنے گا اور اس پر اسرائیل کا کوئی حق نہیں۔

اجلاس میں زور دیا گیا کہ اسرائیل 1967ء کی 6روزہ جنگ کے دوران قبضے میں لئے تمام علاقے خالی کرے تاکہ ان پرمشتمل فلسطینی ریاست قیام عمل میں لایا جاسکے۔ فلسطین میں یہودی بستیوں کی تعمیر وتوسیع کا سلسلہ بند کیا جائے اور فلسطینیوں پر مظالم ڈھانے کا عمل روکا جائے۔

(جاری ہے)

اعلامئے میں ’عرب اسرائیل‘ تنازع کے حل کیلئے 2002 ء میں خلیجی ممالک کی طرف سے پیش کردہ امن فارمولے کو ایک مثالی حل قرار دیتے ہوئے اس کے نفاذ پر زور دیا گیا۔

اعلامئے میں کہا گیا کہ امریکا کی طرف سے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنا عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس موقع فلسطینی ریاست کومالی طورپر مستحکم کرنے کیلئے 100 ملین ڈالر کی فوری امداد فراہم کرنے کا ابھی اعلان کیا گیا۔قبل ازیں سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان نے اپنی افتتاحی تقریر میں کہا کہ’مسئلہ فلسطین ہمارا اوّلین ایشو ہے اور ہم اس کو ہمیشہ مقدم جانیں گے‘۔

انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے تل ابیب سے اپنا سفارتخانہ بیت المقدس منتقل کرنے کے فیصلے کی مذمت کی۔انہوں نے عرب لیگ کے سربراہ اجلاس کو ’القدس کانفرنس‘ سے موسوم کیا ہے تاکہ دنیا بھر میں ہر کسی کو یہ باور کرایا جاسکے کہ فلسطین عرب عوام کے ضمیر میں جاگزیں ہے۔ شاہ سلمان نے یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ مشرقی القدس کو آزاد فلسطینی ریاست کا دارالحکومت ہونا چاہئے۔

متعلقہ عنوان :