صوبائی حکومت کا بجٹ پیش کرنے سے انکار راہ فرار اختیار کرنے کا حربہ ہے،میاں افتخار حسین

منگل اپریل 19:16

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 اپریل2018ء) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کے برائے فروخت ممبران بِک چکے ہیں اور بجٹ پیش کرنے سے انکار دراصل راہ فرار اختیار کرنے کا حربہ ہے ،ان خیالات کا اظہار انہوں نے یونین کونسل بالو میں تنظیمی اجلاس اور این وائی او کے ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اس موقع پر تنظیمی ساتھیوں کی طرف سے میاں افتخار حسین کی سالگرہ کا کیک بھی کاٹا گیا اور انہیں مبارکباد دی گئی ، اپنے خطاب میں میاں افتخار حسین نے کہا کہ حکومت کو خدشہ ہے کہ ممبران کی تعداد پوری نہ ہونے کی وجہ سے وہ بجٹ پاس نہیں کر سکیں گے لہٰذا عوام کو دھوکہ دینے کیلئے شوشہ چھوڑا گیا ،انہوں نے کہا کہ سینیٹ الیکشن میں حکومت کے کئی ممبران اپنی وفاداریاں تبدیل کر چکے ہیں اور اگر بجٹ پاس نہ ہوا تو حکومت کو جان کے لالے پڑ جائیں گے ، انہوں نے کہا کہ صوبے کی تاریخ میں یہ بدقسمت اضافہ ہے جس سے اپنے دور میں تمام بجٹ لیپس ہوئے اور آخری بجٹ پیش کرنے کے قابل ہی نہیں ہیں اس سے بڑھ کر حکومت کی ناکامی کیا ہو سکتی ہے، میاں افتخار حسین نے کہا کہ عمران خان خود پارلیمنٹیرین ہوتے ہوئے پارلیمنٹ پر اعتماد نہیں کرتے اور سیاسی معاملات کو عدالتوں تک لے گئے جو کسی طور اچھی روایت نہیں ہے ، انہوں نے کہا کہ جب عدالتوں سے غیر مقبول اور نا پسندیدہ فیصلے آئیں گے تو عوامی ہمدردیاں سیاستدانوں کو ملیں گی جبکہ عدالت کی حیثیت متنازعہ ہو جائیگی،انہوں نے کہا کہ کپتان نے پانچ سال جمہوریت کے خلاف سازش میں گزار دیئے تاہم وہ اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہوسکے ، انہوں نے کالاباغ ڈیم کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ مذکورہ ڈیم کا مسئلہ پہلے تیکنیکی تھا جو بعد میں سیاسی اور اب جانی صورت اختیار کر گیا ہے ڈیم کی تعمیر سے ہزاروں جانوں کے ضیاع کا خدشہ ہے ،انہوں نے کہا کہ ملک کے تین صوبے اس کے مخالف تھے اور بعد ازاں پنجاب نے بھی اس کی مخالفت میں رائے دی جس کے بعد ماضی میں جسٹس ناصر الملک نے اس معاملے کو مسترد کر دیا اور اسے پارلیمنٹ کے ذریعے حل کرنے کا کہا ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ اس حوالے سے عوامی رد عمل بھی آ چکا تھا اور اب یہ مسئلہ ختم ہوچکا ہے لہٰذا عدالت اس میں مداخلت سے گریز کرے ،مردہ گھوڑے کو زندہ کرنے سے ملک کی یکجہتی اور استحکام کو نقصان پہنچ سکتا ہے ، انہوں نے کہا کہ 39ارب ڈالر سی پیک میں بجلی منصوبوں کیلئے ملے تو تمام خزانہ پنجاب منتقل کر دیا گیا جہاں کوئلے سے مہنگی ترین بجلی پیدا کی جارہی ہے حالانکہ خیبر پختونخوا میں سستی بجلی پیدا کرنے کے مواقع موجود ہیں چھوٹے ڈیم بنائے جاتے تو سستی بجلی کے ساتھ ساتھ پانی کی کمی کا مسئلہ ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جا سکتا تھا لیکن اس وقت عدالت کو نوٹس لینے کا خیال نہیں آیا ،انہوں نے کہا کہ عدالت عظمیٰ کا احترام کرتے ہیں تاہم سپریم کورٹ متنازعہ اور سیاسی معاملات کو چھیڑ کر اپنی حیثیت متنازعہ نہ کرے، میاں افتخار حسین نے کہا کہ کسی بھی نئی ترمیم کے ذریعے 18ویں ترمیم کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کی اجازت نہیں دیں گے ، این ایف سی ایوارڈ میں چھوٹے صوبوں کے حقوق اس سے بھی زیادہ ہیں جو مرکز کسی صورت دینے کے حق میں نہیں ، انہوں نے کہا کہ پنجاب بڑا بھائی ہے لیکن چھوٹے صوبوں کے حقوق غصب کرنا بڑے بھائی کو زیب نہیں دیتا اور جب تک صوبے مضبوط نہ ہوں ملک مضبوط نہیں ہو سکتا،انہوں نے آخر میں اپنی سالگرہ منانے والے دوستوں اور ساتھیوںکا تہہ دل سے شکریہ ادا کیااور کہا کہاس موقع پر کیک کاٹنے والوں اور سوشل میڈیا کے ذریعے مبارکباد دینے والوں کو انتہائی مشکور ہوں ۔

متعلقہ عنوان :