امریکی جوہری عزائم سے روایتی و غیر ایٹمی ریاستوں کو لاحق خطرات میں اضافہ ہوا،

پاکستان کے جوہری امور کو بھی چیلنجز درپیش ہیں، امریکہ و بھارت کے ابھرتے ہوے اتحاد کے تناظر میں پاکستان کو محتاط رہنا ہو گا، صرف چین ہی وہ ملک ہے جو پاکستان کو اقتصادی و فوجی مسائل کا حل فراہم کرسکتا ہے،اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق مستقل مندوب منیر اکرم کا مباحثے سے خطاب

منگل اپریل 23:34

امریکی جوہری عزائم سے روایتی و غیر ایٹمی ریاستوں کو لاحق خطرات میں ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 اپریل2018ء) اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق مستقل مندوب منیر اکرم کا کہنا ہے کہ امریکی جوہری عزائم سے روایتی و غیر ایٹمی ریاستوں کو لاحق خطرات میں اضافہ ہوا، امریکی جوہری عزائم سے پاکستان کے جوہری امور کو بھی چیلنجز درپیش ہیں، امریکہ و بھارت کے ابھرتے ہوے اتحاد کے تناظر میں پاکستان کو محتاط رہنا ہو گا، صرف چین ہی وہ ملک ہے جو پاکستان کو اقتصادی و فوجی مسائل کا حل فراہم کرسکتا ہے اسلام آباد میں ‘‘امریکی جوہری امور کا جائزہ 2018، علاقائی و عالمی سلامتی "کے عنوان سے اسٹریٹجک اسٹڈیز انسٹی ٹیوٹ اسلام آباد کے زیر اہتمام منعقدہ مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق مستقل مندوب منیر اکرم نے کہا کہ امریکی جوہری پروگرام کے باعث دنیا میں ہتھیاروں کی خطرناک دوڑ شروع ہو چکی، مستقبل کی جنگیں انتہائی پیچیدہ ہونے کے خدشات موجود ہیں آئندہ جنگیں روایتی، غیر روایتی اور نئی ٹیکنالوجی کے مخلوط استعمال سے لڑی جائیں گی منیر اکرم کا کہنا تھا کہ امریکہ چین کو ٹیکنالوجی کے حوالے سے محدود کرنا چاہتا ہے، شمالی کوریا جوہری مسئلہ پر واشنگٹن، پیانگ یانگ مذاکرات کی کامیابی کے امکانات انتہائی کم ہیں اس معاملے پر امریکی صدر ٹرمپ، شمالی کوریا صدر کم جونگ غیر سنجیدہ دیکھائی دیتے ہیں.انہوں نے کہا کہ ایران کے لبنان و شام تک اثرورسوخ میں اضافہ، امریکہ و اسرائیل کیلئے ناقابل برداشت ہے دونوں ملک مشرق وسطی میں ایران کا اثر و رسوخ ختم کرنا چاہیتے ہیں اقوم متحدہ میں پاکستان کے سابق مستقبل مندوب نے تنبیہہ کی کہ پاکستان کو بھی امریکہ و بھارت کے ابھرتے ہوے اتحاد کے تناظر میں محتاط رہنا ہو گا، بھارت، امریکہ کو شامل کرکے اپنا خود ساختہ کھیل کھیلنا چاہتا ہے، انہوں نے کہا کہ پاکستان کو چین کیساتھ قریبی تعلقات کو وسعت کے ساتھ ساتھ امریکہ کیساتھ تعلقات بہتر بنانا ہوں گے صرف چین ہی وہ ملک ہے جو پاکستان کو اقتصادی و فوجی مسائل کا حل فراہم کر سکتا ہے ،امریکہ ہو یا کوئی اور ملک، تعلقات میں قومی مفادات مقدم رکھنا ہوں گے ،مباحثے میں مختلف ممالک کے سفراء، دفتر خارجہ اور وزارت دفاع کے اعلیٰ حکام ، یونیورسٹی طلباء،پروفیسرز اور صحافیوں نے شرکت کی.