شامی خاتون اول دمشق میں ملبے کے بیچ پرتعیش زندگی سے لطف اندوز

بشاراوراہلیہ ایک ارب ڈالر کے محل میں مقیم،خاتون اول نے جنگ شروع ہونے کے بعدبھی مہنگافرنیچرخریدا،رپورٹ

بدھ اپریل 15:15

دمشق(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 18 اپریل2018ء) ایک ایسے وقت میں جب شام کے بچّے جنگ کے ساتھ زندگی کے مشکل ترین دن جی رہے ہیں اور گیس حملوں اور بھوک سے دم توڑ رہے، صدر بشار الاسد اور اس کی اہلیہ اسماء پٴْر تعیّش زندگی کے مزے لٴْوٹ رہے ہیں۔امریکی اخبارکی رپورٹ کے مطابق بشار اور اس کی بیگم دمشق میں جس محل میں رہتے ہیں اس کی قیمت ایک ارب ڈالر کے قریب ہے۔

یہ محل غوطہ شرقیہ سے دس میل سے زیادہ کی دوری پر نہیں جہاں شامی حکومت کی ہمنوا فورسز کے زریعے بے قصور لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا۔سال 2012ء میں وکی لیکس نے بشار الاسد کی 42 سالہ اہلیہ کے نجی برقی پیغامات جاری کیے تھے جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ شامی خاتون اول نے خون ریز خانہ جنگی شروع ہونے کے ایک سال بعد فرنیچر کی خریداری پر 3.5 لاکھ ڈالر خرچ کر ڈالے تھے۔

(جاری ہے)

اس کے علاوہ اسماء الاسد نے جوتوں کی ایک جوڑی بھی خریدی جس کی قیمت 7 ہزار ڈالر تھی۔ اس جوتے کی ایڑھی میں کرسٹل جڑا ہوا تھا۔دمشق میں بشار الاسد جس محل میں سکونت پذیر ہے اسے 1979ء میں بنایا گیا تھا۔ محل کو مشہور جاپانی آرکیٹیکٹ کنزو ٹینگ نے ڈیزائن کیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق محل کے ایک کمرے میں سنگ مرمر کے سوا لاکھ ٹکڑے لگے ہوئے ہیں جن پر 1 کروڑ ڈالر سے زیادہ لاگت آئی۔اگرچہ اس محل پر خطیر لاگت آئی تاہم 3.4 لاکھ مربع فٹ رقبے کا یہ گھر دمشق کے مغربی حصّے میں اپنے محلِ وقوع کے سبب بآسانی میزائلوں کا ہدف بن سکتا ہے۔

متعلقہ عنوان :