کامن ویلتھ گیمز سے وطن واپس پہنچتے ہی ریسلر انعام بٹ پھٹ پڑے

حکام بالا کرکٹ کو اتنا سپورٹ کرتے ہیں تو ریسلنگ کو بھی کریں تاکہ اولمپک میں میڈل آسکیں‘‘ورلڈ بیچ چیمپین بننے پر گوجرانوالہ میں الاٹ کی گئی میری اکیڈمی بھی واپس لی جارہی ہے‘ انعام بٹ

بدھ اپریل 18:11

کامن ویلتھ گیمز سے وطن واپس پہنچتے ہی ریسلر انعام بٹ پھٹ پڑے
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 اپریل2018ء) کامن ویلتھ گیمز میں پاکستان کا نام روشن کرنے والی ریسلنگ ٹیم کی وطن واپس پہنچ گئی ہے‘گولڈ کوسٹ آسٹریلیا میں سبز ہلالی پرچم سربلند کرنے ولے قومی پہلوانوں کا لاہور ائیرپورٹ پر پرتپاک استقبال کیا گیا.ایک طلائی اور دو کانسی کے تمغے جیتنے والے ریسلرز کو شائقین نے پھولوں کے ہار پہنائے اور ڈھول کی تھاپ پر خوب بھنگڑے بھی ڈالے۔

قومی ریسلنگ ٹیم 2 برونز اور ایک گولڈ میڈل تھامے لاہور ائیر پورٹ پہنچی تو شائقین کھیل نے پھول کی پتیاں نچھاور کی.ٹیم کی قیادت کرنے والے پہلوان انعام بٹ طلائی تمغہ جیتنے پر تو خوش ہیں مگر کرکٹرز پر لاکھوں خرچ کرنے والے حکومتی رویہ سے نالاں دیکھائی دیتے ہیں۔ اس موقع پر انعام بٹ کا کہنا تھا کہ اگر حکام بالا کرکٹ کو اتنا سپورٹ کرتے ہیں تو ریسلنگ کو بھی کریں تاکہ اولمپک میں میڈل آسکیں‘ انعام بٹ نے کہا اولمپک میں گولڈ میڈل کیلئے کم از کم 24 مقابلے کھیلنا ہوں گے‘ جس کیلئے 2 کروڑ روپے درکار ہیں‘انعام بٹ کا کہنا ہے کہ ورلڈ بیچ چیمپین بننے پر گوجرانوالہ میں الاٹ کی گئی میری اکیڈمی بھی واپس لی جارہی ہے۔

(جاری ہے)

برونز میڈلز جیتنے والے محمد طیب بھی حکومتی عدم تعاون پر نالاں دکھائی دئیی. محمد طیب کا کہنا ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ ہمیں گرانٹ ریلیز کری.خیال رہے کہ وزیراعظم کی جانب سے انعام بٹ کو پچاس لاکھ جبکہ پہلوان طیب اور بلال کو دس دس لاکھ روپے انعام دینے کا اعلان تو کر دیا گیا لیکن میڈلز حاصل کرنے والی پہلوانوں کو ائیرپورٹ لینے کوئی حکومتی نمائندہ نہیں پہنچا۔