عمار علی جان ریگولر یا کنٹریکٹ لیکچرار نہ تھے ،نوکری سے فارغ کرنے کا الزام بے بنیاد ہے

وزیٹنگ لیکچرار عمار جان کو پاکستان مخالف خیالات، لسانی تعصبات کو فروغ دینے کے الزام میں لیکچر دینے سے روکا گیا‘ ترجمان پنجاب یونیورسٹی

بدھ اپریل 20:01

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 اپریل2018ء) پنجاب یونیورسٹی کے ترجمان نے کہا ہے کہ پنجاب یونیورسٹی انسٹی ٹیوٹ آف سوشل اینڈ کلچرل سٹڈیز کے وزیٹنگ لیکچرار عمار علی جان کو مخصوص طلباء و طالبات کو ٹارگٹ کرنے کے بعد ان میں پاکستان مخالف لسانی تعصبات پر مبنی انتہا پسند خیالات کی ترویج کرنے کی اطلاعات ملنے پر لیکچر دینے سے روکا گیا ہے علاوہ ازیں کنٹریکٹ ملازمت کی قوانین کی پاسداری نہ کرنے پر رواں سال جنوری میں ان کی تعیناتی کی پیشکش واپس لے لی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت عمار جان چونکہ نہ تو پنجاب یونیورسٹی میں ریگولر ملازم تھے اور نہ ہی کنٹریکٹ پر تھے لہذا ان کی جانب سے نوکری سے فارغ کئے جانے کا الزام بے بنیاد ہے تاہم ماضی میں عمار جان نے آسامی مشتہر ہوئے بغیر اور مقابلے میں حصہ لئے بغیر مستقل بنیادوں پر تعیناتی کے لئے دباو،ْ بھی ڈالا تھا۔

(جاری ہے)

اپنے بیان میں ترجمان نے کہا ہے کہ عمار جان اور ان کے ساتھیوں کی سوشل میڈیا پر سرگرمیوں اور مختلف ذرائع سے ملنے والی معلومات کے مطابق یہ افراد مشکوک سٹڈی سرکلز اور ایسی دیگر سرگرمیوں میں ملوث تھے جس سے نوجوان ذہنوں میں پاکستان مخالف پروپیگنڈہ کیا جا سکے۔

ترجمان نے کہا کہ مختلف طلباء نے نام نہ بتانے کی شرط پر اور چند صحافیوں نے انتظامیہ کو آگاہ کیا ہے کہ عمار جان ایسے طلباء و طالبات کو ٹارگٹ کرتا ہے جن کے ذہنوں کو وہ اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال کر سکے اور بعد ازاں انہیں ایسی سرگرمیوں میں استعمال کر سکے جس سے یونیورسٹی اور ملک میں امن و امان کے مسائل پیدا ہوں۔ ترجمان نے کہا کہ عمار جان یونیورسٹی اساتذہ کے کوڈ آف کنڈکٹ کے بر خلاف طلباء و طالبات کی پڑھائی پر توجہ نہیں دے رہے تھے بلکہ ایسے نوجوانوں کی تلاش میں رہتے تھے جن میں وہ انتہا پسندانہ نظریات کو فروغ دے سکیں۔

ترجمان نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی نے دوسرے صوبوں سے طلباء و طالبات کی بڑی تعداد کو خوش آمدید کیا ہے اور ان کے لئے بے مثال کوٹہ مخصوص کیا ہے تاکہ سب کو قومی دھارے میں لایا جا سکے اور صوبائی تعصبات ختم کر کے قومی اتحاد کو فروغ دیا جا سکے تاہم عمار جان کے بارے میں اطلاعات مل رہی تھیں کہ وہ ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہیں جس سے لسانی تعصبات کو ہوا دی جا سکے۔

ترجمان نے کہا کہ عمار جان اپنی تنخواہ سے متعلق بھی غلط معلومات فراہم کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ عمار جان کو سابق انتظامیہ نے قوانین کے بر خلاف تین ماہ کا کنٹریکٹ دیا تاہم عمار جان نے اپنی تنخواہ کے بل پر دستخط نہیں کئے جس کی وجہ سے ان کو تنخواہ نہ مل سکی۔ علاوہ ازیں عمار جان نے کبھی بھی پنجاب یونیورسٹی کو شکایت نہیں کی اور نہ ہی کوئی خط لکھا ہے کہ انہیں تنخواہ نہیں مل رہی جس سے واضح ہوتا ہے کہ تنخواہ سے انہیں کوئی خاص غرض نہیں تھی۔

ترجمان نے تعجب کا اظہار کیا کہ تنخواہ کے بغیر وہ اپنے روزمرہ زندگی کے اخراجات کیسے برداشت کرتے ہوں گے۔ ترجمان نے وضاحت کی کہ اضافی کلاسز پڑھانے پر عمار جان کو (81) اکیاسی ہزار روپے بھی دیئے گئے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ تین ماہ کا کنٹریکٹ ختم ہونے کے بعد جب انہیں گزشتہ برس نیا کنٹریکٹ دیا گیا تھا تو انہوں نے اس کنٹریکٹ کے قوانین کے مطابق جوائننگ نہیں د ی جس کی بنیاد پر 4 جنوری 2018 کو ان کی تعیناتی کا آفر لیٹر واپس لے لیا گیا۔

ترجمان نے کہا کہ یہ معمول کا معاملہ ہے کہ وزیٹنگ پر تعینات اساتذہ کی شکایات آنے پر انہیں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ موجودہ دور میں پنجاب یونیورسٹی میں اساتذہ تعلیمی آزادی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں اور عمار جان ہمدردیاں حاصل کرنے کے لئے بہانہ بنا رہے ہے کہ خواتین کے حقوق وغیرہ کے سلسلے میں آواز اٹھانے پر انہیں انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

ترجمان کے مطابق یونیورسٹی اساتذہ کی بڑی تعداد ایسی ہے جو عمار جان سے کہیں ذیادہ معاشرے میں ہونے والی نا انصافیوں کے خلاف اپنی آواز بلند کرتے ہیں اور عملی طور پر اقدامات میں حصہ بھی لیتے ہیں تاہم موجودہ دور میں کسی کے خلاف نہ تو کوئی کارروائی ہوئی ہے اور نہ ہی کسی نے کوئی شکایت کی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ یونیورسٹی نے شعبہ کلچرل سٹڈیز میں اساتذہ کی مختلف نشستیں مشتہر کی ہیں تاہم عمار جان مقابلے سے بھاگ گئے ہیں اور کسی بھی مشتہر آسامی پر بھرتی کے لئے درخواست نہیں دی ہے۔