سعودی عرب میں 35 سال بعد پہلی فلم کی ٹیسٹ سکریننگ

بدھ اپریل 20:53

ْریاض (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 اپریل2018ء) سعودی عرب میں 35 برس کے طویل وقفے کے بعد سنیما گھر کھلنے سے پہلے مشہور فلم ’بلیک پینتھر‘ کی ٹیسٹ سکریننگ کی جا رہی ہے۔ دنیا میں سنیما گھروں کی سب سے بڑی کمپنی اے ایم سی ’بلیک پینتھر‘ کی ٹیسٹ سکریننگ کرے گی جسے سعودی عرب کے سنیما گھروں میں فلم چلانے کا لائنس جاری کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ سعودی عرب میں گذشتہ 35 برسوں سے سنیما گھروں پر پابندی تھی اور مملکت میں کئی دہائیوں میں کھلنے والا یہ پہلا سنیما گھر ہو گا۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی حکام نے رواں ماہ کے آغاز میں دارالحکومت ریاض میں پہلا سنیما کھولنے کا اعلان کیا تھا تاہم اب حکام کا کہنا ہے کہ آج بلیک پینتھر‘ کی ٹیسٹ سکریننگ کی جائے گی۔ امید کی جا رہی ہے کہ اگلے ماہ سے عوام کے لیے سینما گھر کو کھول دیا جائے گا۔

(جاری ہے)

سعودی عرب کی وزارتِ اطلاعات کے سینٹر برائے بین الاقوامی مواصلات کے مطابق ملک میں سنیما گھر کھلنے سے پہلے آج ’بلیک پینتھر‘ کی ٹیسٹ سکریننگ کی جائے گی۔

اے ایم سی انٹرٹینمینٹ کے چیف ایگزیکٹو ایڈم ایرن کی جانے والی ٹیسٹ سکرینگ میں شرکت کریں گے۔ خیال رہے کہ اے ایم سی نے گذشتہ سال دسمبر میں سعودی حکومت کے پبلک انویسمنٹ فنڈ کی ایک ذیلی کمپنی کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا جس کے تحت اے ایم سی آئندہ پانچ برسوں میں ملک کے 15 شہروں میں 30 سے 40 سنیما گھر کھولے گی۔ سعودی عرب میں آنے والی اس جیسی متعدد بڑی تبدیلیوں کا سہرا 32 سالہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو دیا جا رہا ہے جو روایتی طور پر ایک قدامت پسند ملک میں خود کو جدیدیت پسند کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں۔ گذشتہ برس سعودی عرب میں پہلی مرتبہ خواتین کو ڈرائیونگ کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ سعودی عرب میں سنہ 1990 سے خواتین کے ڈرائیونگ کرنے پر پابندی عائد تھی۔ 04-18/--309