دہشت گردی کا شکار پاکستان حکومتی اقدامات کی بدولت اس جنگ کا فاتح بن چکا ہے،احسن اقبال

دہشت گردی ،انتہاء پسندی کیخلاف اپنی کامیابیوں کے تجربات سے دنیا کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں ، دوسروں کے تجربات سے بھی سیکھنے کے خواہاں ہیں،افغانستان میں سوویت یونین کیخلاف جنگ کے بعد پاکستان کو تنہا چھوڑ دیا گیاجس سے ملک لاکھوں افغان پناہ گزینوں، منشیات ،کلاشنکوفوں کے بوجھ تلے دب گیا، پاکستان نے اکیلے ان چیلنجوں کا مقابلہ کیا اور بھاری قیمت ادا کی،غیر متزلزل عزم ، جرات کا مظاہرہ کرنیوالی قوم کی نمائندگی کرتے ہوئے یہاں کھڑے ہونے پر فخر محسوس کررہا ہوں، وزیر داخلہ کا کامن ویلتھ ہیڈز آف گورنمنٹ میٹنگ 2018 کے موقع پر پرتشدد انتہاء پسندی کے انسداد کے موضوع پر پینل مباحثہ میں خطاب

بدھ اپریل 22:46

دہشت گردی کا شکار پاکستان حکومتی اقدامات کی بدولت اس جنگ کا فاتح بن ..
ندن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 اپریل2018ء) وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے دہشت گردی کا شکار پاکستان حکومتی اقدامات کی بدولت اس جنگ کا فاتح بن چکا ہے،دہشت گردی ،انتہاء پسندی کیخلاف اپنی کامیابیوں کے تجربات سے دنیا کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں ، دوسروں کے تجربات سے بھی سیکھنے کے خواہاں ہیں،،افغانستان میں سوویت یونین کیخلاف جنگ کے بعد پاکستان کو تنہا چھوڑ دیا گیاجس سے ملک لاکھوں افغان پناہ گزینوں، منشیات ،کلاشنکوفوں کے بوجھ تلے دب گیا، پاکستان نے اکیلے ان چیلنجوں کا مقابلہ کیا اور بھاری قیمت ادا کی،غیر متزلزل عزم ، جرات کا مظاہرہ کرنیوالی قوم کی نمائندگی کرتے ہوئے یہاں کھڑے ہونے پر فخر محسوس کررہا ہوں۔

وزیر داخلہ احسن اقبال نے یہ بات فارن اینڈ کامن ویلتھ آفس میں کامن ویلتھ ہیڈز آف گورنمنٹ میٹنگ 2018کے انعقاد کے موقع پر پرتشدد انتہاء پسندی کے انسداد کے موضوع پر پینل مباحثہ میں خطاب کرتے ہوئے کہی ۔

(جاری ہے)

مباحثہ میں برطانیہ کے دولت مشترکہ کے وزیر ومبلڈن کے لارڈ احمد، نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سنٹر کے ہیڈ، نائیجیرین کوآرڈینیٹر کاؤنٹر ٹیررازم سنٹر سے ڈاکٹر مارٹن کیمانی، ٹرینی ڈاد اینڈ ٹوباگو کے وزیراعظم کے دفتر میں وزیر ریئر ایڈمرل یامینو موسیٰ، نوجوان رکن پارلیمنٹ سٹورٹ رچرڈ، دولت مشترکہ کے سیکرٹری جنرل کے دفتر کے سی وی ای یونٹ کے سربراہ مارک ایلبن اور دیگر شامل تھے پینل مباحثہ کے دوران دولت مشترکہ پی/سی وی ای پروگرام کو رکن ممالک میں متعارف کرانے کے حوالہ سے تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس کے علاوہ پاکستان،، نائیجیریا، کینیا اور ٹرینی ڈاد اینڈ ٹوباگو میں پرتشدد انتہاء پسندی کے خلاف حاصل کی گئی کامیابیوں پر بھی بات چیت کی گئی اور برطانیہ کی سی وی ای کے حوالہ سے اپروچ پر سی وی ای ماہرین اور بیانات اور پریزنٹیشنز کا اعلان کیا گیا ہے۔ وزیر داخلہ نے انتہاء پسندی کے خلاف پاکستان کی طرف سے بھرپور تعاون کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جبکہ ماحولیاتی تبدیلی، دہشت گردی، انتہاء پسندی اور عدم مساوات جیسے عالمی چیلنجز ہمارے سامنے موجود ہیں عالمی سیاست فریکچر ہو رہی ہے، ہمیں اجتماعی کوششیں کرنے کی ضرورت ہے نہ کہ یہ ایک دوسرے پر الزام تراشی کا وقت ہے۔

انہوں نے کہا کہ پرتشدد انتہاء پسندی کے انسداد کیلئے کسی بھی مؤثر پالیسی کیلئے دنیا میں بڑھتی ہوئی انتہاء پسندی کے اندرونی اور بیرونی اسباب بشمول تصفیہ طلب بین الاقوامی تنازعات، اقوام، مذاہب اور کمیونٹیز کے خلاف مخصوص میڈیا مہموں سے آگاہی حاصل کرنے کی ضرورت ہے اور ہمیں اس سلسلہ میں ایک جامع اور بامقصد اپروچ اختیار کرنا ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ تعصب، ناانصافی اور ناامیدی کا شکار ہونے اور مسائل اور تنازعات کے پرامن حل کیلئے راستہ نہ ملنے پر افراد دہشت گردی اور پرتشدد انتہاء پسندی کی جانب راغب ہوتے ہیں، دہشت گردی اور انتہاء پسندی کو اس وقت تک شکست نہیں دی جا سکتی جب تک یہ نہ معلوم کیا جائے کہ یہ کیوں اور کیسے پھیلتی ہے۔ وزیر داخلہ نے شرکاء کو دہشت گردی اور انتہاء پسندی کے انسداد کیلئے کی جانے والی کاوشوں سے آگاہ کیا اور بتایا کہ پاکستان دہشت گردی کا شکار ملک تھا لیکن حکومت پاکستان کے اقدامات اور کوششوں کی بدولت پاکستان اب اس جنگ میں فاتح ملک بن چکا ہے۔

انہوں نے پاکستانی قوم کی طرف سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیوں اور عزم کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ آج وہ پاکستانی قوم کی طرف سے یہاں کھڑے ہو کر فخر محسوس کر رہے ہیں کیونکہ وہ ایک ایسی قوم کی نمائندگی کر رہے ہیں جس نے غیر متزلزل عزم اور جرات کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف جنگ کے بعد تنہا چھوڑ دیا گیا، مغربی ممالک سوویت فوجوں کی واپسی کے بعد فتح کے جھنڈے لہراتے ہوئے نکل گئے اور پاکستان لاکھوں افغان پناہ گزینوں، منشیات اور کلاشنکوفوں کے بوجھ تلے دب گیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اکیلے ان چیلنجوں کا مقابلہ کیا اور اس کی بھاری قیمت ادا کی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں مغربی ممالک سے امداد کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ وہ اس مسئلہ کو سمجھیں۔ انہوں نے حکومت کی طرف سے گزشتہ چار سالوں کے دوران دہشت گرد تنظیموں کیخلاف کئے گئے اقدامات کو اجاگر کرتے ہوئے شرکاء کو بتایا کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت حکومت نے پرتشدد انتہاء پسند عناصر سے نمٹنے کیلئے عملی اقدامات کئے، کالعدم تنظیموں اور عسکریت پسندوں کے خلاف بندوبستی اور قبائلی علاقوں میں آپریشنز کئے گئے اور ان کے انفراسٹرکچر، تربیت گاہوں اور نیٹ ورکس کو تباہ کیا۔

پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر دہشت گردوں اور ان کی سرگرمیوں کو اجاگر کرنے پر مکمل پابندی عائد کی، مذہبی طور پر کسی کو تنگ کرنے کے خلاف اقدامات کئے، انتہاء پسندوں کے حمایتیوں اور ان سے تعاون کرنے والوں کے خلاف انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر آپریشنز کئے گئے۔ نیکٹا چوکس ایپ کے ذریعے نفرت پھیلانے والی تقریروں اور مواد کے خلاف کریک ڈاؤن کیا گیا۔

کالعدم تنظیموں کی فنڈنگ روکنے کیلئے اقدامات اور ان کے اکاؤنٹس منجمد کئے۔ پی ٹی اے نے کالعدم تنظیموں کی ویب سائٹس بند کیں۔ تشدد اور نفرت پر مبنی پیغامات پھیلانے والے افراد کے خلاف مقدمات درج کئے گئے اور کالعدم تنظیموں کے افراد اور گروپوں کی مانیٹرنگ کرتے ہوئے ان پر سفری پابندیاں عائد کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے نیشنل کاؤنٹر ایکسٹریم ازم پالیسی گائیڈ لائنز کے تحت جامع پالیسی وضع کی جو سیکورٹی کے حوالہ سے روایتی تصور سے آگے بڑھ کر کام کرے اور قانون کی حکمرانی اور کریمنل جسٹس سسٹم کی بہتری، شہریوں اور نوجوانوں کو مصروف کرنے میڈیا انگیجمنٹ، ایپکس کمیٹیوں سے آگے بڑھتے ہوئے اشتراک کار سے کام کرنے کمیونٹی پولیسنگ، مربوط تعلیمی اصلاحات، ازسرنو ہم آہنگی و ثقافتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور علاقائی اور عالمی سطح پر ہم آہنگی پیدا کرنے کے حوالہ سے کام کرے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے نفرت اور تشدد پھیلانے والی طاقتوں کو شکست دی ہے اور پرتشدد انتہاء پسندی کے انسداد کیلئے ایک جامع حکمت عملی وضع کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ نے ہمیں ایک ہم آہنگ اور ہمہ گیر معاشرے کا وژن دیا، وہ اقتصادی ترقی کیلئے امن اور استحکام کے خواہاں تھے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی اور انتہاء پسندی کے خلاف اپنی کامیابیوں کے حوالہ سے اپنے تجربات سے دنیا کو آگاہ کرنا چاہتا ہے، اس کے ساتھ ساتھ ہم دوسروں کے تجربات سے بھی سیکھنے کے خواہاں ہیں۔ بعد ازاں سوال و جواب کے دوران شرکاء نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کوششوں اور قربانیوں کو سراہا اور اسے ایک عظیم کامیابی قرار دیا۔