پاکستان میں سرمایہ کاری کے بہترین مواقع موجود، وسطی ایشیائی ممالک کیلئے اہم منڈی ثابت ہو سکتے ہیں،رانا محمد افضل

ْسی پیک کے باعث تجارتی راہداری میں اضافہ ہوگیا ہے، ٹیکسٹائل، لیدر، فارماسیوٹیکل ، سروسز، بینکنگ ، سیاحت، حلال فوڈ اور زراعت کے شعبے میں دو طرفہ تجارت میں اضافہ ممکن ہے، وزیر مملکت کا پاک ازبک نیٹ ورکنگ سیمینار سے خطاب

بدھ اپریل 22:46

راولپنڈی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 اپریل2018ء) وزیر مملکت برائے خزانہ رانا محمد افضل نے کہا ہے کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے بہترین مواقع موجود ،وسطی ایشیائی ممالک کیلئے اہم منڈی ثابت ہو سکتا ہے ،،سی پیک کے باعث تجارتی راہداری میں اضافہ ہو گیا ہے ،کئی ممالک اس کا حصہ بنتے جا رہے ہیں ،ٹیکسٹائل، لیدر، فارماسیوٹیکل ، سروسز، بینکنگ ، سیاحت، حلال فوڈ اور زراعت کے شعبے میں دو طرفہ تجارت میں اضافہ ممکن ہے۔

وزیر مملکت رانا محمد افضل نے یہ بات بدھ کو راولپنڈی چیمبر آف کامرس کے زیر اہتمام پاک ازبک نیٹ ورکنگ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کے باعث ریل اور روڈ نیٹ ورک میں اضافہ ہوا ہے ۔وسطی ایشیائی ممالک ازبکستان، تاجکستان، ترکمانستان کیساتھ طویل مدتی منصوبے شروع کیے جا سکتے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے تجارتی وفد کو بتایا کہ پاکستان میں بجلی کے منصوبے لگنے سے بجلی کی قلت دور ہو گئی ہے اور ہر سال بجلی کی قیمت میں فی یونٹ ایک روپیہ کمی لائی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہاکہ ہائیڈرل ڈیمز کے بننے سے دو روپے یونٹ بجلی میسر آئیگی، آئندہ برسوں میں بجلی وافر اور سستی ہو گی ۔ وزیر مملکت رانا محمد افضل نے چیمبر آف کامرس تجارتی روابط بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں ۔ چیمبر نے حال ہی میں گوادر میں کانفرنس منعقد کروائی ہے جس میں 40سے زائد چیمبرز کے صدور نے شرکت کی اور ہمیں پاکستان میں تجارتی وسعت اور بڑھوتری سے آگاہی ملی ۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ چیمبر تجارتی سرگرمیوںکے فروغ کیلئے اپنا کردار ادا کرتا رہیگا۔ وزیر تجارت خودیف جمشید نے سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ازبکستان پاکستان کیساتھ تجارتی روابط بڑھانے کا خواہاں ہے، دو طرفہ تجارتی حجم بہت کم ہے اسے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری آبادی تین کروڑ سے زائد اور جی ڈی پی دوسو بیس ارب ڈالر سے زیادہ ہے، پاکستان تجارتی مواقعوں سے فائدہ اٹھائے، زرعی مشینری اور ادویات میں تعاون بڑھایا جا سکتا ہے۔

قبل ازیں صدر چیمبر زاہد لطیف خان نے راولپنڈی چیمبر کی سرگرمیوں پر مختصر بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ وسطی ایشیائی ممالک کی منڈیوں سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے، علاقائی تجارت کو فروغ دے کر ہی پاکستان اپنی معاشی سمت متعین کر سکتا ہے، ابھی حال ہی میں مارگن اسٹنلے نے پاکستان کو فرنٹریئر مارکیٹ سے اٹھا کر ابھرتی ہوئی مارکیٹوں میں شمار کیا ہے، پاکستان سٹاک ایکسچینج بھی تیزی کے ساتھ ترقی کر رہی ہے ۔

گروپ لیڈر سہیل الطاف نے کہا کہ سیاسی تعلقات کو اقتصادی تعلقات میں بدلنے کی ضرورت ہے حکومت سے مطالبہ ہے کہ وہ ازبکستان کیلئے پی آئی اے کی براہ راست پروازیں شروع کرے اور بجٹ میں مراعات دے۔ اس موقع پر ازبکستان چیمبر آف کامرس کے ساتھ ایم او یو پر دستخط بھی کئے گئے ازبکستان کے سفیر فرقت صدیقوف، تاجکستان کے سفیر جنوو شیر علی،، نیپال کی سفیر سیوا لمسل ادیکاری، آذر بایجان کے سفیر علی علیزادے سمیت ازبک وزارت تجارت کے نمائندے بھی موجود تھے۔ اس موقع پر سینئر نائب صدر خالد فاروق قاضی، گروپ لیڈر سہیل الطاف، ایس ایم نسیم، سابق صدور، مجلس عاملہ کے اراکین و مختلف کمپنیوں کے نمائندوں سمیت چیمبر ممبران بھی شریک تھے ۔