مختلف محکموں کے ملازمین کی جانب سے مطالبات کے حق میں احتجاجی مظاہرے ،دھرنے

پیپکو ملازمین نے دوسرے روز بھی واپڈا ہائوس کے باہر دھرنا جاری رکھا،عمارت کے اندر داخل ہونے کی کوشش پر سکیورٹی گارڈز سے ہاتھا پائی سول سیکرٹریٹ کے باہر پروفیسرز ،لیکچرارز کادوسرے روز دھرنا جاری، پولیس کیساتھ دھکم پیل، ٹریفک کا نظام شدید دبائو کا شکار رہا سوئی گیس ملازمین کاکمپنی کو چار حصوں میں تقسیم کرنے کے مجوزہ فیصلے کیخلاف چوتھے روز بھی علامتی بھوک ہڑتال کر کے احتجاج

جمعرات اپریل 16:30

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) صوبائی دارالحکومت میں مختلف محکموں کے ملازمین کی جانب سے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی مظاہرے اور دھرنے دئیے گئے ،پیپکو ملازمین کی جانب سے واپڈا ہائوس کے اندر داخل ہونے کی کوشش پر سکیورٹی گارڈز سے ہاتھا پائی بھی ہوئی ، سول سیکرٹریٹ کے باہر پروفیسرز ،لیکچرارز اور پولیس کے درمیان بھی دھکم پیل کا واقعہ پیش آیا،سوئی نادرن گیس پائپ لائنز کے ملازمین نے کمپنی کو چار حصوں میں تقسیم کرنے کے مجوزہ فیصلے کیخلاف چوتھے روز بھی علامتی بھوک ہڑتال کر کے احتجاج جاری رکھا ۔

تفصیلات کے مطابق واپڈا پیغام یونین کی جانب سے پیپکو کے کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کرنے سمیت دیگر مطالبات کے حق میں مسلسل دوسرے روز بھی واپڈا ہائوس سے ملحقہ سروس روڈ پر دھرنا دیا گیا ۔

(جاری ہے)

اس موقع پر کسی بھی نا خوشگوار واقعہ سے نمٹنے کیلئے پولیس کی بھاری نفری تعینات رہی ۔ صبح کے وقت مظاہرین نے زبردستی واپڈا ہائوس کی عمارت کے اندر داخل ہونے کی کوشش کی جسے واپڈا کی سکیورٹی پر تعینات گارڈز نے ناکام بنا دیا ۔

اس دوران مظاہرین اور سکیورٹی گارڈز کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی ۔ کچھ دیر بعد مظاہرین دوبارہ مرکزی گیٹ کے سامنے دھرنے پر بیٹھ گئے ۔۔پنجاب پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن کی جانب سے بھی سول سیکرٹریٹ کے باہر مسلسل دوسرے روز دھرنا دیا گیا جس سے ٹریفک کا نظام شدید دبائو کا شکار رہا ۔ اس دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان دھکم پیل بھی ہوئی ۔

پروفیسراور لیکچرارز کا کہنا تھاکہ جب تک و ن سٹپ اپ گریڈیشن اور پے پروٹیکشن کے مطالبات تسلیم نہیں کئے جاتے ہمارا احتجاج جاری رہے گا۔ دھرنے کے باعث سول سیکرٹریٹ کے باہر شاہراہوں پر ٹریفک کا نظام شدید دبائو کا شکار رہا اور گاڑیوں کی قطاریں لگی رہیں۔ سوئی نادر ن گیس پائپ لائنز کے ملازمین نے کمپنی کو چار حصوں میں تقسیم کرنے اور نجکاری کے مجوزہ فیصلے کے خلاف مسلسل چوتھے روز دو گھنٹے علامتی بھوک ہڑتال کر کے احتجاج ریکارڈ کرایا اور شدید نعرے بازی کی ۔ مطاہرین کا کہنا تھاکہ ایس این جی پی ایل منافع بخش کمپنی ہے اگر حکومت نے اس کی نجکاری یا تقسیم کا فیصلہ واپس نہ لیا تو احتجاج کا دائرہ کار وسیع کر دیا جائے گا۔