ہمیں کوسنے اور طعنے دینے والے عمران ،زرداری خاموش پارٹنر بن چکے ،چوہدری نثار

عمران جیسے دغاباز کے جھانسے میں آنیوالے نہیں ‘ خواجہ سعد رفیق عمران کا بیان کہ انکے جلسوں کی وجہ سے عدالت کو نواز شریف کیخلاف کیس سننا پڑا کھلی توہین عدالت ہے ،کیا کوئی انوکھے لاڈلے سے جواب طلبی کریگا میری کردار کشی کی افسوسناک گھنائونی مہم جاری ہے ، جھوٹے الزامات تراشنے والے اللہ کے قہر سے ڈریں‘ وفاقی وزیر ریلوے کا بیان

جمعرات اپریل 21:18

ہمیں کوسنے اور طعنے دینے والے عمران ،زرداری خاموش پارٹنر بن چکے ،چوہدری ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ ہمیں کوسنے اور طعنے دینے والے عمران خان اور آصف زرداری خاموش پارٹنر بن چکے ہیں ،،چوہدری نثار عمران جیسے دغاباز کے جھانسے میں آنے والے نہیں ،عمران کا بیان کہ انکے جلسوں کی وجہ سے عدالت کو نواز شریف کے خلاف کیس سننا پڑا کھلی توہین عدالت ہے ،کیا کوئی انوکھے لاڈلے سے جواب طلبی کرے گا ۔

انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا کہ میری کردار کشی کی افسوسناک گھنائونی مہم جاری ہے ، پہلے آشیانہ سکیم سے جوڑنے کی کوشش کی گئی ،پھر ایک ہائو سنگ سکیم کا مالک بنا دیا گیا۔ پھر میری اور میرے بھا ئی کی 40 کنال ملکیتی جگہ کا ڈھول پیٹا گیا جو کہ ہمارے اثاثہ گوشواروں میں پہلے سے موجود ہے ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ریلوے کے لئے صدق دل اور نیک نیتی سے کام کیا سوچتا تھا اس کا کچھ خیال رکھا جائیگا لیکن میری سوچ غلط تھی ملک کے لئے کام کرنے کا صلہ الزامات اور سزائیں ہی ٹھہرا ہے ، اب ریلوے میں کرپشن کے الزام کا سامنا ہے ، جھوٹے الزامات تراشنے والے اللہ کے قہر سے ڈریں۔

خاموش رہوں تو کہا جاتا ہے کچھ غلط کیا ہے تبھی نہیں بولتے۔ بولوں تو کہتے ہیں گستاخ محاذ آرائی کرتے ہیں ۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ چوہدری نثار عمران جیسے دغاباز کے جھانسے میں آنیوالے نہیں ہیں ، عمران منہ دھو رکھو۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں کوسنے اور طعنے دینے والے عمران اور زرداری خاموش پارٹنرز بن چکے ہیں ، پاکستان میں آج تک کسی طاقتور کا احتساب نہیں ہوا، عمران کا بیانیہ جھوٹا ہے ، بے ضمیر ، بے وفا اور ابن الوقت لوگوں کے گٹھ جوڑ کا دوسرا نام پی ٹی آ ئی ہے ۔ خواجہ سعد رفیق نے مزید کہا کہ عمران کا بیان کہ انکے جلسوں کی وجہ سے عدالت کو نواز شریف کے خلاف کیس سننا پڑا کھلی توہین عدالت ہے ، کیا کوئی انوکھے لاڈلے سے جواب طلبی کرے گا ۔