کوئٹہ سمیت اندرون بلوچستان میں اتائی ڈاکٹروں کیخلاف سخت کاروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے،عبدالماجد ابڑو

ینگ ڈاکٹرز اور حکومت کے درمیان بات چیت کامیاب ہوگئی تھی سارے مطالبات فوری طورپر نہیں مانے جاسکتے ہیں ،وزیراعلی بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو حکومت کو ہڑتال کرنیوالوں سرکاری ملازمین کیخلاف سخت ایکشن لینا چاہیے،صوبائی وزیر شیخ جعفر مندوخیل

جمعرات اپریل 21:25

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) صوبائی وزیر صحت میر عبدالماجد ابڑو نے کہاہے کہ کوئٹہ سمیت اندرون بلوچستان میں اتائی ڈاکٹروں کیخلاف سخت کاروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے ،یہ بات انہوں نے جمعرات کے روز بلوچستان صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں نیشنل پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی محترمہ شمع اسحاق کے توجہ دلائو نوٹس پر ایوان میں خطاب کرتے ہوئے کہی ،انہوں نے کہاکہ اس سلسلے میں سیکرٹری صحت کو خصوصی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ فوری طورپر اتائی ڈاکٹروں کیخلاف کاروائی کیلئے بل تیار کریں اور ایوان میں پیش کریں ،وزیراعلی بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے جمعرات کے اجلاس کے دوران ایک نقطے پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ ینگ ڈاکٹرز اور حکومت کے درمیان بات چیت کامیاب ہوگئی تھی اور انہوںنے ہڑتال ختم کردی گئی تھی مگرا ن کے سارے مطالبات فوری طورپر نہیں مانے جاسکتے ہیں ،اگر انکے مطالبات فوری طورپر مان جاتے ہیں تو وہ کوئٹہ سے باہر کام کرنے کیلئے نہیں جاتے ہیں جب انہیں کہا جاتاہے کہ وہ صوبے سے باہر کام کریں ،توہ وہ تیار نہیں ہوتے ہیں اور سفارشیں کراتے ہیں ابھی تک ہم ڈاکٹروں کے تنخواہوں پرکروڑوں روپے خرچ کرچکے ہیں مگرا بھی تک یہ ڈاکٹر کوئٹہ سے باہر جانے کیلئے تیار نہیں صرف کوئٹہ شہر میں کام کرنے کیلئے تیار ہیں ،انہوں نے کہاکہ ڈاکٹروں کے ہڑتال سابق وزیراعلی ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ اور نواب ثناء اللہ زہری کے دور میں بھی ہڑتالیںہوتی تھی ڈاکٹرز ڈیوٹی کم اور ہڑتالیں زیادہ کرتے ہیں ،ہماری کوشش ہے کہ ڈاکٹروں کے مسائل حل کئے جائے مگر حکومت کے وسائل بہت کم ہے ،اور ہماری کوشش ہے کہ انکے مسائل حل کریں ،صوبائی وزیر زراعت شیخ جعفرخان مندوخیل میں ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ حکومت کو ہڑتال کرنیوالوں سرکاری ملازمین کیخلاف سخت ایکشن لینا چاہیے ڈاکٹر ہوں یا اور کوئی محکمے کے ملازم ہوں جب وہ ہڑتال کی دھمکی دیتے ہیں تو ہم انکے دھمکی سے ڈر جاتے ہیں اور انکے مطالبات مان لیتے ہیں میں جب ایکسائز کا منسٹر تھا تو میں نے انکے نہ مطالبات مانے تھے اورنہ ہی انکو کوئی مراعات دی تھی وہ ہرسال کے بعد اپنے مطالبات پیش کرتے تھے اور حکومت کو بلیک میل کرنے کی کوشش کرتے تھے میری تجویز ہے کہ ہڑتالی ڈاکٹرو ں کیخلاف سخت کاروائی کی جائے انہیں مراعات نہ دی جائے جب تک حکومت سخت ایکشن نہیں لے گی اس وقت تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا ۔