ہارٹیکلچر شعبے کو بہتر بنانے کے لیے پاکستان ہارٹیکلچر بورڈ کو وزارت نیشنل فوڈ سکیورٹی میں ضم کیا جائے : احمد جواد

جمعرات اپریل 22:36

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) بزنس مین پینل کے سیکرٹری جنرل ( فیڈرل )احمد جواد نے وزیر اعظم پاکستان اور وفاقی کابینہ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہارٹیکلچر ڈویلپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ کمپنی(( PHDEC) جو اس وقت مکمل طور پر بند ہو چکا ہے ‘ صرف یہ ادارہ سرکاری فائلوں میں چل رہا ہے ‘ اس کو از سرِ نو چلانے کے لیے کو وزارت نیشنل فوڈ سیکورٹی کے ماتحت کیا جائے تاکہ صحیح معنوں میں یہ شعبہ اپنے اہداف حاصل کر سکے۔

احمد جواد نے کہا کہ پچھلے پانچ سالوں میں وزارت تجارت جو اس وقت اس ادارے کی کنٹرولنگ اتھارٹی ہے ا س ادارے کو چلانے کے لیے کوئی پیش رفت نہیں کی سوائے ہر سال کے وزارت سے لیا ہو اافسر اس ادارے میں قائم مقام چیف ایگزیکٹو کے منصب پر فائز کیا جاتا رہا جس سے ہارٹیکلچر شعبے کی برآمدات کو شدید نقصان پہنچا۔

(جاری ہے)

اگر اس ادارے کو صحیح معنوں میں پچھلے پانچ سالوں میں چلایا جاتا تو آج ہارٹیکلچر شعبے کی برآمدات ملکی برآمدات میں ایک اہم کردار ادا کر تی نظر آتیں۔

وزارت تجارت نے ہر چیز کو TDAPمیں ڈالنے کی کوشش کی جس کے نتائج ہم سب کے سامنے ہیں۔ حالانکہ 2015-18 کے سٹریٹجک ٹریڈ پالیسی فریم ورک میں وزارت تجارت نے ہارٹی کلچر شعبے کی برآمدات کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ شارٹ ٹرم میں اس شعبے سے ملکی برآمدات کو کافی حد تک سہارا مل سکتا ہے لیکن اس پر کوئی عملی اقدام نہ اٹھایا گیا۔ احمد جواد نے وفاقی کابینہ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہ ہنگامی بنیادوں پر اس ضم کرنے کے عمل کو یقینی بنایا جائے تاکہ PHDECجس مقصد کے لیے قائم کیا تھا اس پر چل سکے ، ایک پروفیشنل لوگوں کی ٹیم کی سربراہی میں جو شعبے کو سمجھتے ہوں، بیوروکریسی کے لائے ہوئے لوگ اس ادارے کو نہیں چلا سکتے جو ایک حقیقت ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ 18ویں ترمیم کے مسودے کے موقع پر رضاربانی کی سربراہی میں قائم کردہ کمیٹی نے بھی اس ادارے کو وزارت فوڈ سکیورٹی میں ضم کرنے کی سفارش کی تھی لیکن اس وقت کے وزیر تجارت مخدوم امین فہیم کی وجہ سے ا س ادارے کو وزارت تجارت میں رکھا گیا جو کہ میں سمجھتا ہوں کہ اس شعبے کی ترقی میں وقت کے ساتھ ایک رکاوٹ بن کر ابھرا۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہارٹیکلچر شعبے کی برآمدات کو ایک ارب ڈالر کی سطح پر لے جانے کے لیے اس پر طویل مدت پالیسی بنائی جائے تاکہ پاکستان کی گرتی ہوئی برآمدات کو ایک ٹھوس قسم کا سہارا مل سکے۔ شکیل)