وزیراعلی سندھ کا مقدمہ لڑنے میں ناکام ہوگئے وہ اپنی صوبائی کابینہ کی فوج ظفر موج کے ہمراہ شوق سے اسلام آباد میں دھرنا دیں، خواجہ اظہار الحسن

وزیر اعلی کی پریس کانفرنس انکے اعتماد پر سوالیہ نشان ہے، شہلا رضا کا رویہ جانبدارانہ ہے وہ حکومت کی چمچہ گیری میں لگی رہتی ہیں، اپوزیشن رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس

جمعرات اپریل 23:02

وزیراعلی سندھ کا مقدمہ لڑنے میں ناکام ہوگئے وہ اپنی صوبائی کابینہ کی ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خواجہ اظہار الحسن نے کہا ہے کہ وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ سندھ کا مقدمہ لڑنے میں ناکام ہوگئے وہ اپنی صوبائی کابینہ کی فوج ظفر موج کے ہمراہ شوق سے اسلام آباد میں دھرنا دیں وہ جمعرات کو سندھ اسمبلی اجلاس کے بعد اپوزیشن رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کررہے تھے خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ احتجاج ہمارا حق ہے وزیر اعلی کو دس سال بعد یاد آیا کہ اسلام اباد میں دھرنا دینا چاہئے وزیر اعلی اپنی فوج ظفر موج کے ساتھ اسلام آباد میں شوق سے دھرنا دیں اپ سندھ کا مقدمہ لڑنے میں ناکام ہو چکے ہیں وزیر اعلی کی پریس کانفرنس انکے اعتماد پر سوالیہ نشان ہے انہوں نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر شہلا رضا کا رویہ جانبدارانہ ہے وہ حکومت کی چمچہ گیری میں لگی رہتی ہیں میڈیا ہمارے حلقوں کے مسائل بتاتے ہوئے متعلقہ اراکین اسمبلی کی کاوشیں بھی بتائیں وزیر اعلی نے ہماری کوئی اسکیم منظور نہیں کی رکن اسمبلی کامران اختر کو انتہائی اقدام سے دور رکھنے کے لئے سمجھایا ہے شہلا رضا اسپیکر کی نشست سے انصاف نہیں کر رہیں صوبائی حکومت سندھ اسمبلی میں جھوٹی الیکشن مہم چلا رہے ہیں جو جامعہ بنائی گئی وہ برباد ہوئی خیرپور جونی ورسٹی کا بل لانا انتخابی مہم ہے جائے کہ سیکرٹری بلدیات کے دفتر سے کروڑوں روہے کہاں سے آئے سندھ یونی ورسٹی کے وائس چانسلر نے اردو دشمنی کی ہے تو سخت اقدام کرینگے اردو زبان کی مخالفت کرنے والا ملک اور قائد اعظم کا دشمن ہے اس موقع پر فنشکنل لیگ کے نند کمار گوکلانی اور پی ٹی آئی کے خرم شیرزمان نے بھی حکومت پر سخت تنقید کی اور کہا کہ آج یہ حکومت میں ہیں کل اپوزیشن میں ہونگے شکر ہے نیب نے سندھ کا رخ کیاہے انکی کرپشن کی داستانیں بے نقاب ہونگی اپوزیشن جماعتیں متحدہیں انکا یہی رویہ رہا تو سخت احتجاج کریں گے