نیشنل ایکشن پلان پر موثر عملدرآمد کی بدولت دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے،احسان غنی

جمعرات اپریل 23:20

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) نیشنل کائونٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کے نیشنل کو آرڈینیٹر احسان غنی نے کہا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر موثر عملدرآمد کی بدولت دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے، 2010ء میں 2060 حملوں کے مقابلے میں 2017ء میں دہشت گردی کے 750 واقعات ہوئے جو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی بہت بڑی کامیابی ہے۔

جمعرات کو ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ نیپ کے تحت تمام صوبوں کی معاونت سے دہشت گردوں کی بیخ کنی کے لئے بھرپور اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیکورٹی اداروں اور تمام فریقین اور صوبوں کی مشاورت اور کو آرڈینیٹشن سے پاکستان بھر میں ریاست کی رٹ قائم ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی اندرونی سلامتی اور امن و امان کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے اور پوری دنیا دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں اور خدمات کا اعتراف کر رہی ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی اس لئے ممکن ہوئی کیونکہ پوری پاکستانی اپنی پولیس،، فوج،، انٹیلی جنس اور سیکورٹی کے اداروں کی پشت پر کھڑی ہے اور قوم نے مل کر دہشت گردی اور انتہا پسندی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ دن دور نہیں جب پاکستان سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہو جائے گا۔ دہشت گردوں اور دہشت گرد تنظیموں کی فنانسنگ روکنے کے حوالے سے نیکٹا نے موثر کوششیں کی ہیں اور حوالہ ہنڈی کے ذریعے بھجوائے گئے 1490 ملین روپے برآمد کر کے 919 مقدمات درج کئے گئے ہیں جن میں 1209 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ منی لانڈرنگ کے خلاف 424 مقدمات درج کر کے 574 افراد کو گرفتار کیا گیا، 207 مشتبہ رقوم کی منتقلی ہوئی جس میں 49 کیسوں میں مقدمات درج کئے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ تفتیش کاروں کی استعداد کار میں اضافے کے لئے بھی اقدامات کئے گئے ہیں اور منی لانڈرنگ، ٹیررفنانسنگ اور اثاثوں کا پتہ چلانے اور مالیاتی امور کی تفتیش کے لئے افسروں کو ضروری تربیت فراہم کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نیکٹا 20 وفاقی و صوبائی اداروں کے مابین کو آرڈینیشن کا ادارہ ہے اور اس کا کام پالیسی سازی تک محدود ہے۔