مسئلہ کشمیر حل کئے بغیر جنوبی ایشیا میں امن قائم نہیں ہوسکتا، بیرسٹر سلطان محمود

یہ مسئلہ اس وقت پیدا ہوا جب برطانیہ برصغیر سے اپنے دوسوسالہ اقتدار کے خاتمے پر یہاںسے گیاجبکہ مسئلہ کشمیر ستر سال سے آج بھی اسی طرح حل طلب ہے، صدر پی ٹی آئی آزاد کشمیر

جمعہ اپریل 16:05

لندن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 اپریل2018ء) آزاد کشمیر کے سابق وزیر اعظم و پی ٹی آئی کشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیرحل ہوئے بغیر جنوبی ایشیاء میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔یہ مسئلہ اس وقت پیدا ہوا جب برطانیہ برصغیر سے اپنے دوسوسالہ اقتدار کے خاتمے پر یہاںسے گیاجبکہ مسئلہ کشمیر ستر سال سے آج بھی اسی طرح حل طلب ہے۔

لہذا برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا کردار ادا کرے۔اگرچہ برطانوی پارلیمنٹ تو ہمارے ساتھ ہے تاہم برطانوی حکومت اسطرح سے اپنا رول ادا نہیں کر رہی۔اسی طرح برطانیہ کی اپوزیشن جماعت لیبر پارٹی کی بھی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر حل کرانے کے لئے اپنا کردار ادا کرے کیونکہ جب تقسیم ہند ہوئی تو اسوقت یہاں لیبر پارٹی کی حکومت تھی۔

(جاری ہے)

اب اگرچہ برطانیہ میں لیبر پارٹی اپوزیشن میں لیکن وہ حکومت پر مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے برطانوی حکومت پر زور دے۔لیبر پارٹی نے گذشتہ دنوں فلسطینیوں کی بھی حمایت کی جس پر اسے یہودی لابی کی طرف سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے آج یہاں لندن میں برطانوی پارلیمنٹ ہائوس آف کامنز میں لیبر پارٹی کے لیڈر و پارلیمنٹ میں اپوزیشن لیڈر جرمی کوربن سے ایک ملاقات میں کیا۔

اس موقع بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے لیبر لیڈر کو خراج تحسین پیش کیا کہ لیبر پارٹی نے فلسطینیوں کے لئے آواز اٹھائی۔اگرچہ اس پر لیبر پارٹی کو یہودی لابی کی طرف سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔لیکن لیبر پارٹی نے اس کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اورلیبر پارٹی اپنے موقف پرڈٹی رہی۔بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے لیبر پارٹی کے رہنماء کو بتایا کہ مسئلہ کشمیر ستر سال سے حل طلب ہے اور لیبر پارٹی نے ہمیشہ کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی حمایت کی ہے اور انسانی حقوق پر کی بات کی ہے۔ لہذا لیبر پارٹی برطانوی حکومت پر مسئلہ کشمیر پر حل کے لئے زور دے ۔