فلسطین،مظاہرے چھوتھے ہفتے میں داخل، مظاہرین نے پتنگوں کے ذریعے پٹرول بم سرحد پر چھوڑ دئیے

اسرائیل نے پمفلیٹ کے ذریعے فلسطینی مظاہرین کو سرحد کے قریب آنے سے منع کیا ، اسرائیل ہر طرح کے مظاہرے کے لئے تیار ہے

جمعہ اپریل 21:47

غزہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 اپریل2018ء) فلسطین کے سرحدی علاقے غزہ میں مظاہرے چھوتھے ہفتے میں داخل ہو گئے، اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے پمفلیٹ کے ذریعے فلسطینی مظاہرین کو سرحد کے قریب آنے سے منع کیا گیا،فلسطینی مظاہرین نے پتنگوں کے ساتھ پٹرول بم باندھ کر غزہ سرحد پر چھوڑ دیا، اسرائیل ہر طرح کے مظاہرے کے لئے تیار ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق فلسطین کے سرحدی علاقے غزہ میں مظاہرے چھوتھے ہفتے میں داخل ہو گئے۔

فلسطینیوں کی جانب سے لگاتار چوتھے ہفتے بھی غزہ اور اسرائیل کی سرحد کے قریب مظاہرے جاری ہیں اور اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے پمفلیٹ پھینکے ہیں جن میں فلسطینی مظاہرین کو سرحد کے قریب آنے سے منع کیا گیا ہے۔یاد رہے کہ ہر جمعہ کے روز فلسطینی مظاہرین غزہ اور اسرائیلی سرحد کے قریب مظاہرے کرتے ہیں جن میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے اب تک 31 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

(جاری ہے)

اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کی فوج تازہ مظاہروں سے نمٹنے کے لیے تیار ہے اور اندازہ کیا جا رہا ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں مظاہرین ہوں گے۔ہر ہفتے فلسطینی مظاہرین اس جگہ ٹائر جلاتے ہیں جہاں پر اسرائیلی سنائپرز تعینات ہوتے ہیں۔اسرائیلی فوج کی جانب سے نہتے فلسطینی مظاہرین پر فائرنگ کے باعث عالمی سطح پر اسرائیل کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

یہ پہلی بار ہے کہ اسرائیل نے پمفلیٹ گرا کر فلسطینیوں کو متنبہ کیا ہے۔۔اسرائیل کی جانب سے گرائے جانے والے پمفلیٹس پر لکھا ہے کہ ’حماس دہشت گرد تنظیم شدت پسند کارروائیوں میں آپ لوگوں کا فائدہ اٹھا رہی ہے۔ اسرائیلی ڈیفنس فورسز ہر صورتحال کے لیے تیار ہے۔ سرحد سے دور رہیں اور سرحدی باڑ کو نقصان پہنچانے کی کوشش نہ کریں۔‘فلسطینیوں کی جانب سے ان مظاہروں کو ’دا گریٹ مارچ آف ریٹرن‘ کا نام دیا گیا ہے۔

یہ مظاہرے 30 مارچ کو شروع کیے گئے تھے اور امکان ہے کہ ان کا اختتام 15 مئی کو ہو گا۔دوسری جانب فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق فلسطینی مظاہرین اس ہفتے ایک نئی ترکیب کا استعمال کر رہے ہیں۔مظاہرین بڑی بڑی پتنگوں کے ساتھ مولوتوو لٹکا کر غزہ اور اسرائیلی سرحد کے قریب چھوڑ رہے ہیں۔مظاہرین کی کوشش ہے کہ وہ درجنوں پتنگیں سرحد کے اس پار اڑائیں۔

ان میں سے کچھ پتنگوں کے ساتھ نوٹ لگے ہوئے ہیں جن پر اسرائیلیوں کے لیے لکھا ہے ’فلسطین میں تم لوگوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے‘۔’غزہ میں خونریزی، جنگی جرائم کا مقدمہ ہو سکتا ہے‘۔’معاف کیجیے کمانڈر، میں گولی نہیں چلا سکتا۔جمعرات کی شام کو فلسطینیوں نے رنگ دار کاغذوں اور کوکا کولا کی خالی بوتلوں کے ساتھ پتنگیں بنائیں۔کچھ نے 60 سینٹی میٹر بڑی پتنگیں بنائیں جن کے بیچ میں فلسطین کا جھنڈا تھا۔

ان پتنگوں کے ساتھ دھاتی رسی جوڑی گئی جس کے ساتھ کوکا کولا کی خالی بوتل لٹکائی گئی جس میں پیٹرول تھا۔اے ایف پی کے مطابق تین نوجوان لڑکے ایک پتنگ لے کر سرحد کی جانب گئے اور سرحد سے کچھ دور انھوں نے بوتل کو آگ لگائی۔ بوتل کو آگ لگانے کے بعد پتنگ کو ہوا میں اڑایا اور پھر اس کی ڈور کاٹ دی۔ پتنگ اڑتی ہوئی اسرائیل میں داخل ہوئی اور گر گئی اور اس سے تھوڑی سے آگ لگی۔16 سالہ عبداللہ نے اے ایف پی کو بتایا ’ہم اسرائیل کو پتنگ کے ذریعے پیغام دے رہے ہیں کہ ہم اس قبضے کے خلاف ہیں۔‘