ْخصوصی بچے بھی معاشرے کا اہم حصہ ہوتے ہیں ، کسی بھی طرح نظر انداز نہیں کرنا چاہئے، مقررین

جمعہ اپریل 23:29

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 اپریل2018ء) وفاقی جامعہ اردو کے شعبہ خصوصی تعلیم کے تحت پاکستان سینٹر فار آٹزم کے تعاون سے پیدا ئشی ذہنی بیماری آٹزم کے موضوع پر ہونے والے سمینار سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہاکہ خصوصی بچے بھی معاشرے کا اہم حصہ ہوتے ہیں لہذا انہیں کسی بھی طرح نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔ ایسے بچوں کے والدین کو ان کی دیکھ بھال اورتربیت میں انتہائی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

خصوصی بچوں میں آٹزم کا شکار بچے بھی شامل ہوتے ہیں جنکا ذہن دوران حمل مکمل طور پر نہیں بن پاتا ہے ۔ایسے بچوں کو ان کے رویئے سے شناخت کی جاتی ہے آکیوپیشنل تھراپی، اسپیچ تھراپی اور دیگر تھراپیز سے آٹسٹک بچوں کی حالت کو بہتر کیا جاسکتا ہے۔ مقررین میں انچارج شعبہ خصوصی تعلیم ڈاکٹر اسماء مسعود، ڈائریکٹر پاکستان سینٹر فار آٹزم ساجدہ علی، آکیوپیشنل تھراپسٹ شازیہ حیدر، اسپیچ تھراپسٹ نجیب میں شامل تھے اور مختلف تھراپیز کا عملی مظاہرہ بھی کرکے بتایا۔

(جاری ہے)

مقرین نے مزید کہا کہ ایسے بچوں کی ذہنی نشوونما دماغ نامکمل ہونے کے باعث بہت سست ہوتی ہے اس لئے جسمانی عمر میں اضافے کے باوجود ان کی ذہنی عمر کم ہوتی ہے۔ان میں نارمل بچوں کی طرح حسیات نہیں ہوتیں جس کے باعث ان کا رویہ عام افراد سے مختلف ہوتا ہے۔ ان میں سونے، کھانے پینے ،ہاضمے، انزائٹی جیسے دیگر صحت کے مسائل بھی واقع ہوسکتے ہیں ہر آٹسٹک بچے کا رویہ اور صحت دیگر آٹسکٹ بچے سے مختلف ہوسکتا ہے، بعض بچے نارمل بچوں کی طرح بہت باصلاحیت بھی ہوتے ہیں۔

ایسے بچوں کی نگہداشت میں نہ صرف والدین بلکہ پورا معاشرہ اہم کردار ادا کرتا ہے۔ زیادہ تر آٹسٹک بچوں میں کوئی نہ کوئی صلاحیت ضرور ہوتی ہے جس کا اظہار کرکے وہ انتہائی خوشی محسوس کرتے ہیں۔ ان کی صلاحیتوںکوکھوجنے اور ابھارنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ آٹسٹک بچوںکی تعلیم اور تربیت کے لئے ملک بھر میں ادارے موجود ہیں۔ان اداروں میں نہ صرف بچوں بلکہ ان کے والدین کی بھی تربیت کی جاتی ہے تاکہ ان کی بہتر طریقے سے دیکھ بھال کی جاسکے۔

متعلقہ عنوان :