پنجاب لینڈ ریکارڈز اتھارٹی نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے حکم پرکاشتکاران کی لسٹوں کی تصدیق کا کام مکمل کر لیا

جمعہ اپریل 23:30

فیصل آباد۔20 اپریل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 اپریل2018ء) پنجاب لینڈ ریکارڈز اتھارٹی نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے حکم پرکاشتکاران کی لسٹوں کی تصدیق کا کام مکمل کر لیا ہے جس کا مقصد گندم کی خریداری کے عمل کو شفاف بنانا اور اہل کاشتکاروں کو 8 بوریاں فی ایکٹر( باردانہ )شفاف فراہمی ہے۔ پٹوارریکارڈ کے ذریعے مرتب کردہ کاشتکاران ،مالکان اور مزارعین کی تمام لسٹوں کو لینڈریکارڈ کے ذریعے تصدیق کرلیا گیا ہے۔

کاشتکاران کی تصدیق کے لیے پٹوارکے ریکارڈسے کی گئی گرداوری کو بھی چیک کیا گیا ہے۔ حکومت پنجاب کی پالیسی کے مطابق دس ایکڑ تک کے کاشتکاران کو بارد انہ کی ترجیحی بنیاد پر فراہمی کے لیے مالکان کو مختلف کیٹگری میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ریکارڈ کے مطابق فیصل آباد کے چار وں اضلاع کی1لاکھ 46 ہزارسے زائد کاشتکاروں کے ریکارڈ کی تصدیق مکمل کر لی گئی ہے۔

(جاری ہے)

اراضی ریکارڈ سنٹرز پر موصول ہونے والی درخواستوں کے بعد فوڈ ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے ترجیحی لسٹیں تیا ر کی گئی ہیں۔ ترجیحی لسٹوں کو بھی پنجاب لینڈ ریکارڈزا تھارٹی کے ڈیٹا بیس سے تصدیق کیا گیا ہے۔یہ لسٹیں پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے ویب پورٹل پر دستیاب ہیں۔ محکمہ خوراک کی طرف سے مہیا کی جانے والی ترجیحی لسٹوں کو اراضی ریکارڈسنٹرز کا عملہ ویب پورٹل سے کاؤنٹر چیک کرے گااور کاؤنٹر چیک ہونے والے مالکان کا شتکاران کو بھی باردانہ فراہم کیا جائے گا۔

پنجاب میں ٹوٹل کاشتکاران کی تعداد قریب14لاکھ ہے جن میں قریبا7لاکھ سے زائد جنوبی پنجاب سے ہیں۔پٹوارریکارڈ سے فراہم کیے جانے والی26ہزارلوگوں کی تصدیق نہیں ہوسکی اور 3ہزارسے زائد لوگوں کے اندراج کے وقت غلط موضع میں اندراج پایاگیا تھا۔ تصدیق کا مقصد حکومت پنجاب کی گندم کی خریداری کے حوالے سے پالیسی پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔ اس سارے عمل سے "مڈل مین یا بروکر "کا کردار بالکل ختم ہوکر رہ گیا ہے۔مالکان اور کاشتکاران اپنی گندم محکمہ خوراک کو فروخت کرسکتے ہیں۔ جس سے کسان کو اس کی فصل کا پورا معاوضہ یعنی 1300روپے فی من ملنے کے امکانات ہیں۔ تصدیق کے نتیجے میں کسانوں کو اس کا فائدہ ہوگااور گندم کی شفاف خریداری سے کسانوں کی حوصلہ افزائی ہوگی۔