امریکہ میں عمر عبداللہ کو تارکین وطن کشمیریوں کی طرف سے تند و تیز جملوں کا سامنا

ہفتہ اپریل 18:29

واشنگٹن ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 اپریل2018ء) مقبوضہ کشمیر کے سابق کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو امریکہ کی ایک یونیورسٹی میںاس وقت سخت خفت کا سامنا کرنا پڑا جب کشمیری نزاد تارکیں وطن کے ایک گروپ نے انہیں اتنہائی تند وتیز جملوں کا نشانہ بنایا۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں کشمیری تارکین وطن کو عمر عبداللہ سے انتہائی سخت لہجے میںیہ کہتے ہوئے دکھایا گیا کہ وہ انہیں انٹرنیشنل کریمنل کورٹ میں لے جائیںگے۔

(جاری ہے)

ایک خاتون نے عمر عبداللہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اور انکے والد فاروق عبداللہ جنگی مجرم ہیں۔ احتجاج کرنے والے افراد کے گروپ میں کچھ کشمیری پنڈت بھی شامل تھے۔ ایک خاتون نے عمر عبداللہ سے کہا کہ وہ ان سے کشمیری میں بات کریں کیونکہ وہ اچھی طرح سے کشمیری بول لیتی ہے۔کیلیفورنیا کی برکلے یونیورسٹی نے عمر عبداللہ کو ایک تقریب سے خطاب کیلئے مدعو کیا تھاجبکہ یونیورسٹی میں زیر تعلیم کشمیری نوجوانوں نے عمر عبداللہ کو مدعو کرنے پر یونیورسٹی انتظامیہ کے خلاف ایک آن لائن مہم شروع کر رکھی ہے ۔ آ ن لائن مہم میں کہا گیا ہے کہ عمر عبداللہ کشمیریوں کے حقیقی نمائندے نہیں ہیں۔