بیڈپلانٹر کے ذریعے بیج کی گہرائی اور پودوں کے درمیانی فاصلہ کو حسب ضرورت کم یا زیادہ کیا جاسکتاہے ،ماہرین زراعت

اتوار اپریل 12:50

فیصل آباد۔22 اپریل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 اپریل2018ء) زرعی مشینری کی جدید تحقیق نے ڈرل کی کاشت سے بھی آگے نکل کرچوڑے بیڈ کو ٹھیک کرنے اور بجائی کے لیے بیڈ پلانٹرمہیا کردئیے ہیں جبکہ مذکورہ بیڈپلانٹر کے ذریعے بیج کی گہرائی اور پودوں کے درمیانی فاصلہ کو حسب ضرورت کم یا زیادہ کیا جاسکتاہے۔ ایک ملاقات کے دوران ماہرین زراعت نے بتایا کہ کپاس کو ملک کی اہم فصلوں میں ایک اہم مقام حاصل ہے کیونکہ یہ غیر ملکی زرمبادلہ کمانے اور ملکی ٹیکسٹائل کی صنعت کے فروغ میں اہم کردار ادا کررہی ہے ۔

انہوںنے بتایاکہ ہمارے ملک میں اس وقت کپاس کی فصل میں ماسوائے چنائی کے باقی تمام مراحل مشینی کاشت کے ذریعے سرا نجام دئیے جاتے ہیں۔ انہوںنے بتایاکہ فردکی سائیڈ کم گہری اور زیادہ ڈھلوان ہونے کی وجہ سے گوڈی کرتے وقت کپاس کے پودوں پر مناسب مٹی چڑھتی ہے کیونکہ اس سے پودوں کے درمیان جڑی بوٹیاں دب جاتی ہیں اور پودے آندھی سے نہیں گرتے۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہاکہ پانی لگنے کے بعد بیج والی جگہ کی مٹی نیچے گرتی ہے جس کی وجہ سے بیج کا اگائو بہتر ہوتا ہے اور ناغے بھی نہیں پڑتے نیزا س طرح پانی کی بچت زیادہ ہوتی ہے تاہم پٹڑیوں پر کاشت کے لیے کھیت کا ہموار ہونا بہت ضروری ہے اس لئے کاشتکار مشینی کاشت خشک پٹڑیوں پر کریں۔انہوںنے کہاکہ کاشتکار مشین سے بیج لگانے کے بعد نالیوں میں پانی کی سطح بیج سے دوانچ نیچے رکھیںاور کاشت کے پہلے پانی کے بعد دوسرا پانی لازمی تین سے چار دن کے وقفہ سے لگائیں تاکہ بیج کا اگائو بہتر ہو۔

انہوںنے کہاکہ کاشتکار ہاتھ سے بیج لگانے کی صورت میں پہلے نالیوں میں چھ سے سات انچ کی گہرائی تک پانی لگائیں اور اس کے فوراً بعد پانی کی سطح سے ایک انچ اوپر ہاتھ سے بیج لگائیںتاہم اگر ناغے رہ جائیں تو دوسرے پانی کے وتر میں پورے کرلیں تاکہ کپاس کی بہتر پیداوار حاصل کرنے میں مدد مل سکے۔

متعلقہ عنوان :