وزیر اعظم کے اعلان کے مطابق شہر بھر میں لوڈشیڈنگ کی مانیٹرنگ کریں گے ،حافظ نعیم الرحمن

اذیت ناک لوڈشیڈنگ اور پانی کے بحران کیخلاف 27اپریل کو ہر صورت میں پر امن ہڑ تال کریں گے ،پریس کانفرنس سے خطا ب جماعت اسلامی کی عوامی جدو جہد کے باعث مسئلے کے حل کی جانب جزوی پیش رفت ہو ئی ہے ،احتجاجی تحریک جاری رہے گی

پیر اپریل 22:37

وزیر اعظم کے اعلان کے مطابق شہر بھر میں لوڈشیڈنگ کی مانیٹرنگ کریں گے ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 اپریل2018ء) امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے اعلان کیا ہے کہ وزیر اعظم کے اعلان کے مطابق کراچی میں لوڈشیڈنگ کی صورتحال کی مانیٹرنگ کریں گے ۔اس کے لیے ہم نے ایک ا ور سیل قائم کر دیا ہے ۔عوام رابطہ کر کے لوڈشیڈنگ سے آگاہ کریں۔ان معلومات کی بنیاد پر ہم جگہ جگہ احتجاج کریں گے اور کے الیکٹرک کے خلاف عوامی تحریک جاری رہے گی ۔

اذیت ناک لوڈشیڈنگ اور شہر میں پانی کی قلت اور بحران کے خلاف جمعہ 27 اپریل کو ہر صورت میں پر امن اور رضاکارنہ طور پر ہڑ تال کی جائے گی ۔عوام اور تاجر برادری شٹر ڈائون کر کے کراچی حقوق تحریک کا حصہ بنیں اور مسائل کے حل کی جدو جہد میں اپنا کردار ادا کریں ۔وزیرا عظم کی جانب سے لوڈشیڈنگ کا نوٹس لینا مسئلے کے حل کی طرف جزوی پیش رفت ہے اور یہ جماعت اسلامی کی عوامی جدو جہد کے باعث ممکن ہو ا ۔

(جاری ہے)

وزیر اعظم کراچی کے عوام کو صرف لوڈشیڈنگ ہی نہیں بلکہ کے الیکٹرک کی اووربلنگ اور اربوں روپے کی لوٹ مار سے نجات دلائیں ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز ادارہ نور حق میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے کیا ۔اس مو قع پر جماعت اسلامی کراچی کے نائب امراء ڈاکٹر اسامہ رضی ،مسلم پرویز ،سیکریٹری کراچی عبد الوہاب ،ڈپٹی سیکریٹری سیف الدین ایڈوکیٹ ،امیر ضلع شر قی یو نس بارائی ،سیکریٹری اطلاعات زاہد عسکری ،عمران شاہد ،چوہدری مظہر علی اور دیگر بھی موجود تھے ۔

حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا کہ نیپرا رپورٹ ،وفاقی وزیر برائے پانی و بجلی اویس لغاری اور وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے کراچی میں لوڈشیڈنگ کا ذمہ دارکے الیکٹرک کو ٹھہرایا ،،کے الیکٹرک اپنے فرنس آئل کے پلانٹس مکمل استعداد پر چلا کر کراچی کو بد ترین لوڈشیڈنگ سے بچا سکتا تھا وزیر اعظم بتائیں نیپرا کی رپورٹ کے باوجود وہ کے الیکٹرک کے خلاف کاروائی کر نے سے کیوں قاصر ہیں ۔

نیپرا نے جو فیصلے شہریوں کے حق میں دیئے ہیں اور کے الیکٹرک نے اس کے خلاف عدالتوں سے اسٹے آرڈر لیا ہو ا ہے۔ وزیر اعظم ان اسٹے آرڈرز کو عدالتی کاروائی کے ذریعے خارج کروائیں کیونکہ عوام کے مفادات کا تحفظ وزیر اعظم کی آئینی ذمہ داری ہے لیکن ابھی تک وفاقی وصوبائی حکومت کی طرف سے کے الیکٹرک کو نوازنے کا سلسلہ جاری ہے ۔عدالت عالیہ اور عدالت عظمیٰ بھی کے الیکٹرک کی لوڈشیڈنگ اور بد عنوانیوں کے خلف سو موٹو ایکشن لیں اور پہلے دائر مقدمات کی سماعت کو یقینی بنائیںاور شہریو ںکے حق میں دیئے جانے والے فیصلوں کے خلاف اسٹے آرڈر خارج کیے جائیں ۔

۔ہم سمجھتے ہیں کہ وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی کی جانب سے کے الیکٹرک کی حمایت اور اسے تحفظ دینے کی کوشش معنی خیز ہے۔وزیر اعظم نے نیپرا کی جانب سے حالیہ لوڈشیڈنگ کے حوالے سے تحقیقاتی کمیٹی کی ان سفارشات اور رپورٹ کو بھی مکمل طور پر نظر انداز کر دیا جس میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ کراچی میں اذیت ناک لوڈشیڈنگ کی ذمہ دارکے الیکٹرک ہے ۔

کے الیکٹرک کے موجودہ پلانٹس اپنی پوری پیداواری صلاحیت کے مطابق نہیں چل رہے اور فرنس آئل پر چلنے والے پلانٹس بند ہیں۔نیپر اکی کمیٹی کی سفارش کہ کے الیکٹرک کے خلاف کاروائی کی جائے اور جر مانہ عائد کیا جائے ۔مگر افسوس کہ وزیر اعظم نے کے الیکٹرک کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں کہا بلکہ کراچی میں بجلی چوری اور بل ادا نہ کیے جانے کی صورت میں لوڈشیڈنگ جاری رہنے کا بھی عندیہ دے دیا ۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ہم وزیر اعظم سے سوال کر تے ہیں کہ انہوں نے عام صارفین سے بل کی ادائیگی پر تو زور دیا مگر کے الیکٹرک کی جانب سے شہریوں کو اووربلنگ کی شکایات کے بارے میں کوئی ذکر نہیں کیا ۔۔کے الیکٹرک کی جانب سے لوڈشیڈنگ اور اوور بلنگ کراچی کے شہریوں کا سب سے بڑا مسئلہ ہے ۔کیا وزیر اعظم عوام کو کے الیکٹرک کے اس دہرے عذاب سے نجات دلوائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ کے الیکٹرک کی جانب سے کراچی کے عوام سے مختلف مدات میں ناجائز طور پر بھاری رقم وصول کی جا چکی ہے جس کی مجموعی رقم تقریباً 200ارب روپے بنتی ہے ۔اس میں ناجائز میٹر رینٹ کے 11ارب روپے ،ڈبل بینک چارجز کے 13ارب روپے ،ملازمین کے نام پر 35ارب روپے 15پیسے فی یونٹ کے حساب سے ،کلاء بیک کے 17ارب اور فیول ایڈ جسٹمنٹ چارجز کے نام پر وصول کیے گئے ۔

62ارب روپے شامل ہیں ۔ نیپرا کے اعلیٰ عہدیداران اور خود چیئر مین نیپرا یہ بات تسلیم کر چکے ہیں کہ کے الیکٹرک نے کراچی کے صارفین سے بلا شبہ اربوں روپے ناجائز وصول کیے ہیں اور عوام کی رقم عوام کو واپس ملنی چاہیئے ۔انہوں نے کہا کہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ وفاق سے ملنے والے 650میگا واٹ بجلی کی فراہمی کامعاہدہ بھی جنوری 2015میں ختم ہو چکا ہے لیکن پھر بھی وفاق کی جانب سے اسے یہ بجلی مل رہی ہے ۔

کے الیکٹرک نے نہ تو اپنی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کیا اور نہ ٹراسمیشن اور ڈسٹری بیوشن نظام کو بہتر بنانے کے لیے مطلوبہ سر مایہ کاری کی ۔صرف وفاق اور IPPsسے چلنے والی بجلی پر انحصار کیا ہوا ہے اور گر میوں میں بجلی کی طلب بڑھ جانے کی صورت میں کے الیکٹرک بد ترین لوڈشیڈنگ کر تا ہے ۔جس کی وجہ سے شہریوں ،طالب علموں اور تاجروں کی زندگی اجیرن بنا دی جاتی ہے ۔

قومی ادارے کی نجکاری کے ثمرات کراچی کے شہریوں کو نہیں مل سکے ہیں ۔۔کے الیکٹرک کی کارکردگی سابقہ کے ای ایس سی سے بد تر ہو گئی ہے ۔2005میں سر کاری کے ای ایس سی کو سالانہ ڈیڑھ ارب کی سبسڈی ملتی تھی اور کے الیکٹرک نے یہ سبسڈی پرائیوٹ ادارہ ہو نے کے باوجود بھی 76ارب سالا نہ تک وصول کی ہے ۔جبکہ معاہدے کے وقت یہ کہا گیا تھا کہ بجلی سستی ہو گی اور سبسڈی بھی نہیں دینی پڑے گی ۔

کے الیکٹرک کو اربوں روپے کی سبسڈی دے کر قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا ۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم جواب دیں 2009میں نجکاری معاہدہ میں غیر قانونی تبدیلیاں کر کے کے الیکٹرک کو فائدہ اور قومی خزانے کو بھاری نقصان کس نے پہنچایا ہے ۔ وزیر اعظم کایہ بیان کہ مطلوبہ گیس مل جانے کے باوجود بھی بجلی چوری کر نے والے علاقوں میں لوڈشیڈنگ جاری رہے گی کسی طرح بھی مناسب نہیں ۔

نیپرا قوانین کے مطابق جو صارف اپنا بل وقت پر جمع کرواتا ہے اس کو بلا تعطل بجلی پہنچانا کے الیکٹرک کی بنیاد ی ذمہ داری ہے ۔۔بجلی چوری روکنا حکومت اور کے الیکٹرک کا کام ہے ۔دوسری طرف وزیر اعظم اور وزیرا علیٰ سندھ مراد علی شاہ کا واجبات اد اکیے بغیر اور بغیر کسی معاہدے کے کے الیکٹرک کو SSGCسے گیس اور وفاق سے 650میگا واٹ بجلی کی فراہمی قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے ۔ ہم خبر دار کرتے ہیں کہ مطلوبہ گیس مل جانے کے باوجود بھی اگر کراچی بالخصوص غریب اور متوسط علاقوں میں لوڈشیڈنگ جاری رہی تو بھر پور احتجاج کیا جائے گا اور وزیر اعظم ،،نیپرا اور کے الیکٹرک کے خلاف نیب سے رجوع کیا جائے گا ۔