وزیر مملکت اور بی آئی ایس پی کی چیئرپرسن ماروی میمن کی عالمی بینک کی ایڈوائزری کونسل برائے جینڈر اینڈ ڈویلپمنٹ کے اجلاس میں شرکت

پاکستان کی جانب سے خواتین کی بااختیاری کیلئے کئے جانے والے اقدامات اور صنفی برابری کے حصول میں درپیش مسائل پر پریذنٹیشن دی

منگل اپریل 19:36

وزیر مملکت اور بی آئی ایس پی کی چیئرپرسن ماروی میمن کی عالمی بینک کی ..
اسلام آباد/واشنگٹن ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 اپریل2018ء) وزیر مملکت اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی چیئرپرسن ماروی میمن نے منگل کو واشنگٹن میں عالمی بینک کی ایڈوائزری کونسل برائے جینڈر اینڈ ڈویلپمنٹ کے اجلاس میں شرکت کی۔ انہیں اس اجلاس میں شرکت کی دعوت عالمی بینک کی جانب سے دی گئی تھی ۔۔ماروی میمن پاکستان کی جانب سے پہلی خاتون ہیں جنہوں نے 2011ء میں اس کونسل کے قیام کے بعد اس میں اپنی خدمات سرانجام دیں۔

ایڈوائزری کونسل، ڈونر ممالک، نجی سیکٹر اور سول سوسائٹی پر مشتمل رہنمائوں کی ایک اہم مشاورتی ٹیم ہے جو صنفی برابری کے فروغ کیلئے عالمی بینک گروپ کی مدد کرتی ہے۔ اس سال کیلئے زیر بحث موضوع جنسی تشدد تھا۔ کانفرنس کا آغاز بینک کی چیف ایگزیکٹو آفیسر کرسٹالینا جارجیوا اور سینئر ڈائریکٹر ویمن کرین گرائون نے کیا۔

(جاری ہے)

جارجیوا نے خواتین کی بااختیاری کیلئے عالمی کوشش پر شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔

مس گرائون نے بی آئی ایس پی پلیٹ فارم کے ذریعے پاکستان میں ایک وسیع پیمانے پر خواتین کی بااختیاری اور غربت کے خاتمے کیلئے کئے جانے والے غیر معمولی کام پر ماروی میمن کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ بینک پاکستان میں کاروباری خواتین کے ڈیٹا بیس کی تشکیل پر کام کررہا ہے۔ کنیڈا، ڈیمارک اور پیراگے کے کیبنٹ وزراء اور آکسفم، گلوبل فنڈ اور یو این ویمن کے سی ای اوز نے تقریب میں شرکت کی۔

صدر انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی اور برطانیہ کے سابق سیکرٹری خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ نے بھی ویڈیو ۔کانفرنس کے ذریعے تقریب میں شرکت کی۔ ڈی ایف آئی ڈی منسٹر ، سیکرٹری آف سٹیٹ فار انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ Penny Mordaunt نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ ماروی میمن نے اپنی پریزنٹیشن میں پاکستان کی جانب سے خواتین کی بااختیاری کیلئے کئے جانے والے اقدامات اور صنفی برابری کے حصول میں درپیش مسائل پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے کہا کہ جنسی تشدد کیخلاف قوانین اور کام کرنے کی جگہوں پر خواتین کے تحفظ کیلئے وفاقی محتسب کے کردار نے خواتین کی بااختیاری کو فروغ دینے میں مدد کی ہے۔ پاکستان میں خواتین کے مسائل کے بارے میں بڑھتے ہوئے شعور سے متعلق بات چیت کرتے ہوئے، وزیر مملکت ماروی میمن نے ایک پاکستانی نوجوان مرد کا ٹویٹ پڑھ کر سنایا جس نے خواتین کے حق میںبات کرنے اور دوسرے مردوں کو #MeToo مہم میں شامل ہونے پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں #MeToo مہم کے حوالے سے خواتین کی بااختیاری سے متعلق بحث سائبر سپیس پر غلبہ حاصل کررہی ہے۔ ماروی میمن نے صنفی مسائل کی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے تجویز پیش کی کہ اس کونسل کے ممبران کوسال میں ایک سے زائد مرتبہ ملاقات کرنی چاہیئے۔ کونسل نے ماروی میمن کا خیر مقدم کیا اور سماجی تحفظ نیٹ کے شعبے میں ذرائع کے استعمال اور سال میں ایک سے زائد مرتبہ رابطے میں رہنے کی تجویز کی تعریف کی۔

اختتامی سیشن میں، عالمی بینک کے سی ای او نے ماروی میمن کی قابل قدر تجاویز کی مکمل حمایت کرتے ہوئے اسے ایک مثبت اقدام قرار دیا۔ علاوہ ازیں، ماروی میمن نے سیکرٹری آف سٹیٹ فار انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ Penny Mordaunt کو مئی میں بی آئی ایس پی کے وسیلہ تعلیم پروگرام کے تحت 2ملین بچوں کے سکولوں کے اندراج کے حوالے سے تقریب میں شرکت کیلئے پاکستان آنے کی دعوت دی۔ ماروی میمن نے دیگر شرکاء کیساتھ اہم عالمی مسائل پر قیادت کیلئے عالمی بینک کا شکریہ ادا کیا۔