پشاوریونیورسٹی کے پروفیسرزکی بھرتیوں کے خلاف حکم امنتاعی جاری

پشاورہائیکورٹ نے 76پوسٹوں پربھرتی کاعمل جاری رکھنے تاہم حتمی نتائج جاری نہ کرنے کے احکامات جاری کردئیے

منگل اپریل 20:59

پشاور۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 اپریل2018ء) پشاورہائی کورٹ کے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس اعجازانورپرمشتمل دورکنی بنچ نے پشاوریونیورسٹی میں76پروفیسرزاورایسوسی ایٹ پروفیسرزکی بھرتی کے خلاف دائررٹ پروائس چانسلرسے جواب طلب کر لیاہے۔ عدالت عالیہ کے فاضل بنچ نے یہ احکامات گذشتہ روز درخواست گزار ڈاکٹرامیرحمزہ وغیرہ کی جانب سے عباس سنگین ایڈوکیٹ کی وساطت سے دائر کردہ درخواست پرجاری کئے ۔

اس موقع پر عدالت کو بتایاگیاکہ پشاوریونیورسٹی نے یونیورسٹی میں76 پروفیسرزکی بھرتی کے لئے اشتہارجاری کیاہے جن میں پروفیسر ز ،ْ ایسوسی ایٹ پروفیسرز ،ْ اسسٹنٹ پروفیسرز اورلیکچررزشامل ہیں تاہم درخواست گزار پشاوریونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کرچکے ہیں اور انہیں نظراندازکیاگیاہے کیونکہ درخواست گزار نے پی ایچ ڈی کررکھی ہے ۔

(جاری ہے)

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ان بھرتیوں کے لئے پوسٹ ایلوکیشن کمیٹی قائم کی گئی ہے جس کایونیورسٹی قواعدوضوابط میں کوئی ذکرنہیں جبکہ بھرتی کااختیارصرف سینڈیکیٹ کو ہے اورپوسٹ ایلوکیشن کمیٹی غیرآئینی اورغیرقانونی ہے لہذانئی پوسٹوں کااشتہارکالعدم قرار دیا جائے عدالت عالیہ نے حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے پوسٹوں پربھرتی کاعمل جاری رکھنے تاہم حتمی نتائج جاری کرنے سے روک دیا اوروائس چانسلرسے جواب مانگ لیا۔

متعلقہ عنوان :